ہمیں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والے ہر قدم کی مذمت کرنا ہوگی اور اس کے خلاف اٹھنا ہوگا، صدر ایردوان

0 367

کیمبرج مسجد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہمیں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے ہر قدم کی مذمت کرنا ہوگی اور اس کے خلاف اٹھنا پڑے گا۔ تاریخی بدگمانی کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہمیں مل جل کر نفرت انگیز جرائم کے خلاف لڑنا ہوگا۔”

نیٹو رہنماؤں کے اجلاس کے لیے برطانیہ میں موجود صدر رجب طیب ایردوان نے کیمبرج مسجد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

"کیمبرج مسجد یورپ کی پہلی ماحول دوست عبادت گاہ ہے”

چوب کاری یعنی لکڑی کے کام کا ایک شاہکار اور اس حوالے سے متعدد اعزازات حاصل کرنے والی کیمبرج مسجد 1,300 مرد و خواتین کو جگہ دے سکتی ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ "کیمبرج مسجد ثقافتی کمال کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ مسجد 5،270 مربع میٹرز پر پھیلی ہوئی ہے جس میں نمائشی ہال، کانفرنس روم، ٹیچنگ ایریاز اور ایک کیفے ٹیریا بھی ہے۔ان خصوصیات کے ساتھ کیمبرج مسجد یورپ کی پہلی ماحول دوست عبادت گاہ ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ اس کمپلیکس کا مقصد اس سرزمین پر ہماری مہمان نوازی کی روایت کو دوام بخشنا اور بحال کرنا ہے۔ "کمیونٹی گارڈن کو دنیاوی حسن اور جنت کی خوبصورتی کو ظاہر کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔ کیمبرج دنیا بھر میں اپنے تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ اپنے ثقافتی تنوع کی وجہ سے بھی معروف ہے۔ میرے خیال میں دنیا کے کونے کھدروں سے آنے والے ہزاروں طلبہ کے مسکن میں بننے والی یہ عبادت گاہ بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کو بہترین جواب ہوگا۔ یہ مسجد پہلے دن سے امتیازی سلوک کے خلاف متحد ہونے کی علامت ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں اتحاد، محبت اور امن کا مرکز ہوگی۔ میرا ماننا ہے کہ یہ عمارت ہماری تہذیب کی خوبصورتی کو ظاہر کرتی ہے اور ملک میں رہنے والے افراد کے لیے باعث فخر بھی ہوگی۔”

"نسل پرستی، امتیازی سلوک اور اسلاموفوبیا زہر کی طرح پھیل رہا ہے”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ انسانیت کو باہم جوڑے رکھنے والی اقدار اب خطرے کی زد میں ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "وہ ممالک جو عرصے سے جمہوریت کا گہوارہ ہیں، وہاں نسل پرستی، امتیازی سلوک اور اسلاموفوبیا زہر کی طرح پھیل رہا ہے۔ مسلمانوں کی دکانیں، گھر اور عبادت گاہیں نسل پرستوں اور فسطائیت کے پروردہ لوگوں کے نشانے پر ہیں۔ مسلم خواتین کو سڑکوں پر، بازاروں میں اور کام کی جگہوں پر محض اس لیے ہراساں کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ حجاب کرتی ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف مسلمانوں بلکہ یہودیوں، سیاہ فام اور گوروں کے علاوہ دیگر رنگ سے تعلق رکھنے والے افراد بلکہ مختلف شناخت، ظاہری شکل و صورت اور مذہبی تعلق رکھنے والے افراد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔”

مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی بات کرتے ہوئے صدر ایرودان نے کہا کہ "عبادت گاہیں جنگ کے زمانے میں بھی پناہ گاہیں ہوتی ہیں اور ہم ترکی میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ دہشت گردی صرف ہمارے ملک ہی کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی دشمن ہے۔ ہمارا زور ہے کہ دہشت گردی کو ایسے مذہب یعنی اسلام سے جوڑنا بہت بڑا مغالطہ ہے کہ جس کے نام کا مطلب ہی ‘سلامتی’ ہے۔”

"ہمیں نفرت انگیز جرائم کے خلاف مل جل کر لڑنا ہوگا”

"ہم اچھی اور بری دہشت گرد تنظیموں کے مابین کوئی فرق نہیں رکھتے،” صدر ایردوان نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ "تمام دہشت گرد اس علاقے میں تکالیف اور مصیبتیں لائے اور وہ یکساں ذہنیت کے حامل ہیں چاہے ان کا تعلق داعش سے ہو یا FETO سے، PKK/YPG سے یہاں تک کہ کرائسٹ چرچ کے معاملے میں نیو-نازیوں سے۔ یہ محض خوں آشام بلائیں اور سنگ دِل قاتل ہیں۔ ہمارے لیے لندن برج پر شہریوں کو قتل کرنے والے، یہودی عبادت گاہوں پر حملہ کرنے والوں اور 15 جولائی کی شب ہمارے 251 شہریوں کی جانیں لینے والے FETO دہشت گردوں میں کوئی فرق نہیں۔”

دہشت گردی کے عذاب کو بھگتنے والے ملک کی حیثیت سے ہم اپنے دوستوں سے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف زیادہ سخت اور اصولی جدوجہد کی توقع رکھتے ہیں۔ صدر ایردوان نے زور دیا کہ "ہم معصوم لوگوں کو ہدف بنانے والے ہر عمل کی کھلی مذمت کرنا ہوگی اور اس کے خلاف اٹھنا پڑے گا۔ ہمیں تاریخی بدگمانی کو ایک طرف رکھتے ہوئے مل کر نفرت انگیز جرائم کے خلاف لڑنا ہوگا۔ یہ ہماری سیاسی و مذہبی قیادت کے لیے ضروری ہے، خاص طور پر پریس کے لیے کہ وہ اس عمل میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔”

تبصرے
Loading...