مذاکرات کی میز پر اور میدانِ عمل میں بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، صدر ایردوان

0 198

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ” ہم مذاکرات کی میز پر اور میدانِ عمل میں بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم نے اب تک جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ ہم نے ایک قومی رویہ اختیار کیا ہے جس نے ریاست کے تصور کے عین مطابق ہماری جدوجہد کے انداز کو استحکام دیا ہے۔ ہم اسی فہم اور ثاقت قدمی کے ساتھ آگے کی جانب پیش رفت جاری رکھیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد قوم سے خطاب کیا۔

"ترکی نے ہر شعبے میں اپنے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا ہے”

ترکی نے قوم کی تائید اور اللہ کی مدد سے ہر مشکل پر قابو پایا اور قدم بقدم اپنے اہداف کی جانب گامزن ہے، صدر نے کہا کہ "اب ایک ایسا ترکی سب کے سامنے ہے جس نے ہہر شعبے میں اپنے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنایا ہے، اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے ارادے اور صلاحیت حاصل کی، اور اپنے حقائق اور طاقت کا ادراک رکھتا ہے۔”

"ہم صرف اپنے حقوق اور مفادات کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں”

صدر نے کہا کہ "ہم کسی کے حقوق، زمینوں، امن یا ترقی کے خلاف منصوبے نہیں رکھتے۔ ہم صرف اپنے حقوق اور مفادات کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم بین الاقوامی قوانین کے تحت ملنے والے قانونی اختیارات کی راہ میں کسی بھی رکاوٹ پیدا کرنے والے کو بھرپور جواب دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ مذاکرات اور شفاف معاہدوں کے ذریعے جو معاملات حل ہو سکتے ہیں ان میں ہمیں باہر کرنے کے خواہشمند جان لیں کہ انہیں ہر مرتبہ ایسے ہی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

"دنیا بھر میں ریاستوں اور سماجوں کے درمیان کشمکش کے طریقے بدل گئے ہیں”

صدر نے کہا کہ "ہم اچھی طرح واقف ہیں کہ دنیا بھر میں ریاستوں اور سماجوں کے درمیان کشمکش کے طریقے بدل گئے ہیں۔ ہم مذاکرات کی میز پر اور میدانِ عمل میں بھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم نے اب تک جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ ہم نے ایک قومی رویہ اختیار کیا ہے جس نے ریاست کے تصور کے عین مطابق ہماری جدوجہد کے انداز کو استحکام دیا ہے۔ ہم اسی فہم اور ثاقت قدمی کے ساتھ آگے کی جانب پیش رفت جاری رکھیں گے۔”

"مسیحی دنیا کے اراکین بھی آیاصوفیا کا دورہ کر سکتے ہیں”

آیاصوفیا جامع مسجد کو عبادت کے لیے کھولنے کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ "آیا صوفیا، استانبول کی آنکھ کا تارہ ہے جسے سلطان محمد فاتح نے 1453ء میں مسجد میں تبدیل کر دیا تھا اور یہ ہماری تہذیب کے عروج کی علامتوں میں سے ایک ہے، اب سے نہ صرف ہماری قوم بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے بحیثیت عبادت گاہ خدمات انجام دے گی۔ مسلمانوں کے علاوہ مسیحی دنیا کے اراکین بھی اس کا دورہ کر سکتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...