ہم ادلب میں انسانی بحران سے بچنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے، صدر ایردوان

0 315

آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی اس وقت 37 لاکھ شامی مہاجرین کا میزبان ہے اور وہ اپنی سرحدوں کی جانب مزید 10 لاکھ افراد کی نئی ہجرت کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ شامی حکومت فوری طور پر اپنے حملے بند کرے اور سوچی مفاہمت کے تحت طے شدہ حدوں میں واپس جائے۔”

صدر اور انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کیا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے ادلب میں انسانی بحران کو روکنے کے لیے ہر کوشش کی کہ جس میں میدانِ عمل میں مؤثر مداخلت بھی شامل ہے۔ ترکی اس وقت 37 لاکھ شامی مہاجرین کا میزبان ہے اور وہ اپنی سرحدوں کی جانب مزید 10 لاکھ افراد کی نئی ہجرت کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ شامی حکومت فوری طور پر اپنے حملے بند کرے اور سوچی مفاہمت کے تحت طے شدہ حدوں میں واپس جائے، یعنی ہماری چوکیوں سے پیچھے۔ یوں ہم یقینی بنائیں گے کہ ہماری سرحدوں کی طرف بڑھنے والے لوگ اپنے گھروں کو واپس جائیں۔”

"ہم ادلب میں قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ شامی حکومت اپنے علاقوں کو بچانے کی نہیں بلکہ اپنے ہی لوگوں کو مارنے اور یہ علاقے فرقہ وارانہ شدت پسندوں کے لیے خالی کروانے پر تُلی ہوئی ہے، جن میں سے بیشتر دوسرے ملکوں سے لائے گئے ہیں۔ جو واقعتاً اپنی سرزمین، آزادی اور مستقبل کو بچانا چاہتے ہیں وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کی مخالفت اسد رجیم سے ہےاور ان کی محبت اپنی مادرِ وطن اوراس کے لوگوں کے لیے ہے۔ ہم نے ادلب میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید بڑھایا ہے تاکہ مشاہداتی چوکیوں اور چیک پوائنٹس پر موجود اپنے سپاہیوں کی حفاظت اور اسد رجیم کے مظالم سے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس وقت ہم فضائی حدود کا استعمال نہیں کر سکتے۔ ہم ان شاء اللہ جلد ہی اس مسئلے سے نمٹ لیں گے۔”

ترکی ساتھ ساتھ سفارتی راستے بھی استعمال کر رہا ہے، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "جو سمجھتے ہیں کہ وہ ترکی کو دیوار سے لگا کر اس سے کچھ بھی قبول کروا لیں گے ان کو اس خطے کے بارے میں کچھ یاد دلاتا چلوں۔ اس خطے نے بگولے کی طرح بہت ساروں کو اپنی طرف کھینچ لای ہے جن میں سے کئی ہوا کےگھوڑے پر سوار متکبر ہیں۔ اس خطے میں ہم میزبان ہیں، مہمان نہیں۔ اس لیے ہم ادلب سے کوئی قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے، شامی حکومت کو واقعتاً اُن حدوں میں واپس بھیجیں گے کہ جو ہم نے متعین کی ہیں اور یقینی بنائیں گے کہ عوام اپنے گھروں میں واپس جائیں۔ ہم اس مسئلے کے حوالے سے پُرعزم ہیں اور ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔”

تبصرے
Loading...