ہمیں تقسیم کے بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہے، ایردوان

0 5,968

حقاری میں آق پارٹی کی صوبائی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "ہمیں خود کو تقسیم کرنے، چھوٹا بنانے اور ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے متحد، نشو و نما اور اپنی صفوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے بچوں کو دہشتگرد تنظیموں کے ہاتھوں ضائع ہونے سے بچانا ہے، انہیں بہتر تعلیم اور اچھا پروفیشن دینا ہے۔ اور یہ سب کر کے ہی ہم اپنا ہدف 2023ء پورا کر سکتے ہیں”۔

دنیا کے 128 ممالک نے کہا ‘اپنے ڈالروں اور اپنی طاقت سے آپ ہماری رائے نہیں خرید سکتے’

اس موقع پر ترک صدر ایردوان نے اقوام متحدہ میں بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلہ پر رائے شماری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا اس نے ایک حقیت قائم کر دی ہے۔ رائے شماری سے پہلے ڈالر کی بنیاد پر ممالک کو دھمکیاں دی گئیں تاہم جن ممالک کی آبادی 15 سے 30 ہزار تھی انہی نے امریکا کا ساتھ دیا۔ صدر ایردوان نے کہا: "کیوں؟ اس لیے کہ ڈالر ہی ان کے کافی تھی لیکن یہ امریکا سمیت کل 9 ممالک تھے۔ لیکن 128 ممالک نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا، ‘اپنے ڈالروں اور اپنی طاقت سے آپ ہماری رائے نہیں خرید سکتے’، انہوں نے کہا، ‘آپ کی طاقت ہماری رائے سے بھاری نہیں ہے’۔ اب میں کہتا ہوں کہ دہشتگردوں کی طاقت حقاری کے میرے بھائیوں اور بہنوں کی طاقت سے بھاری نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے ہمیشہ کہا، اگر ایمان، یقین اور محت موجود ہو تو ان شاء اللہ وہاں امکانات موجود ہوتے ہیں”۔

ہمیں متحد، نشو ونما اور اپنی صفوں کو قریب کرنے کی ضرورت ہے

انہوں نے کہا: "یہاں کوئی کرد مسئلہ نہیں ہے، یہاں کوئی ترک مسئلہ نہیں ہے یہاں کوئی عرب مسئلہ نہیں ہے، یہاں صرف ایک مسئلہ ہے کہ ہمارے خطے اور ہماری تہذیب حملوں کی زد میں ہے”۔ انہوں نے مزید کہا: "جتنا زیادہ ہم تقسیم ہوں گے، اتنے زیادہ امکانات ہوں گے کہ یہ حملے کامیاب ہوں جائیں۔ دہشتگرد تنظیمیں ان حملوں میں اضافی ہیں، وہ اس صورت حال میں ٹٹو بنی ہوئی ہیں۔ قندیل ان حملوں کا حامی ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اس ذہنیت اور خواہشات سے یہاں پر رہنے والے میری بھائی اور بہن بہت دور ہیں”۔

انہوں نے کہا: "ہمیں خود کو تقسیم کرنے، چھوٹا بنانے اور ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے متحد، نشو و نما اور اپنی صفوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے بچوں کو دہشتگرد تنظیموں کے ہاتھوں ضائع ہونے سے بچانا ہے، انہیں بہتر تعلیم اور اچھا پروفیشن دینا ہے۔ اور یہ سب کر کے ہی ہم اپنا ہدف 2023ء پورا کر سکتے ہیں”۔

تبصرے
Loading...