بحیرۂ روم میں سیاسی و معاشی امکانات کی یکساں بنیادوں پر تقسیم تنازعات کے حل میں ہمارا پہلا انتخاب ہے، صدر ایردوان

0 149

ترک قومی اسمبلی کی 27 ویں میعاد کے چوتھے قانون ساز سال کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "بحیرۂ روم میں سیاسی و معاشی امکانات کی یکساں بنیادوں پر تقسیم تنازعات کے حل میں ہمارا پہلا انتخاب ہے۔ البتہ 2003ء سے یونان اور یونانی قبرص کا رویہ بدقسمتی سے اس اصول کے بالکل برعکس ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ترک قومی اسمبلی (GNAT) کی 27 ویں میعاد کے چوتھے قانون ساز سال کے اجلاس سے افتتاحی خطاب کیا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ میں ترکی کی مجلس کبیر ملّی کو 27 ویں میعاد کے چوتھے قانون ساز سال کے آغاز پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، امید ہے کہ یہ ہمارے ملک، ہماری قوم، اس عظیم ادارے اور تمام اراکین پارلیمان کے لیے مبارک ہوگا۔

میں ماضی کے اُن تمام اراکینِ پارلیمان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے اس ابتداء ہی سے مجلس کبیر ملّی کے رکن کی حیثیت سے اس ملک کی خدمت کی۔ میں اپنے ان اراکین کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں کہ جنہوں نے اس چھت تلے خدمات انجام دیں اور اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان کی صحت اور تندرستی کے لیے دعاگو ہوں کہ جو آج تک ہمارے ساتھ ہیں۔ میں غازی مصطفیٰ کمال اتاترک، قومی اسمبلی کے پہلے اسپیکر اور ہماری جمہوریہ کے بانی، اور تمام دوسرے رہنماؤں کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے اس جمہوریہ کی بہتری میں بڑا حصہ ڈالا۔

میں اپنے شہداء اور غازیوں کو نہایت عزت، احترام اور عقیدت کے ساتھ یاد کرتا ہوں کہ جنہوں نے اس سرزمین کے لیے میدانِ جنگ میں جدوجہد کی کہ جس کو ہم آج مادرِ وطن کہتے ہیں۔ ہم اپنی سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کے بھی شکر گزار ہیں کہ جو سرحدوں کے اندر اور باہر جدوجہد کر رہی ہیں۔ اللہ ان سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور انہیں فتح یاب کرے۔

"ہم اپنی تاریخ کو جتنا بہتر جانیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے، مستقبل کی طرف اتنے ہی اعتماد سے دیکھ سکیں گے”

اس حقیقت سے آشنا رہیں کہ یہ کشمکش تاقیامت جاری رہے گی، ہم ہمیشہ تیار رہیں گے، ہمیشہ مضبوط رہیں گے اور ہمیشہ ہوشیار رہیں گے۔ ہم علامتی ایّام کو اہمیت دیتے ہیں جیسا کہ جمہوریہ کے 100 سال، فتح قسطنطنیہ کے 600 سال اور فتحِ ملازکرد کے 1000 سال، تاکہ اپنے آبا و اجداد کے روحانی اور حقیقی ورثے کو زندہ رکھیں۔ ہم اپنی تاریخ کو جتنا بہتر جانیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے، مستقبل کی طرف اتنے ہی اعتماد سے دیکھ سکیں گے۔

ترکی ایک بڑے جغرافیے پر پھیلا ہوا ملک ہے، جو اپنی تاریخ میں مسلسل 2200 سال کی ریاستی روایات رکھتا ہے۔ ایسا ملک ان ریاستوں جیسے طریقے استعمال نہیں کر سکتا کہ جو بے بنیاد ہیں، جن کی کوئی روایات اور کوئی اخلاقیات نہیں ہیں اور جن کو ملنے والی طاقت دراصل نوآبادیات سے اور لالچ سے ملی ہیں۔ ترکی کی مجلس کبیر ملّی نے جو قانو سازی کے شعبے میں قدیم اور عظیم مؤقف اختیار کیا ہے وہ عظیم ترین خزانہ ہے جو ہم اپنے بچوں کے لیے چھوڑیں گے۔ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بین الاقوامی میدان میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کوششوں میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے پر اسمبلی کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

"ہماری اسمبلی نے ظاہر کیا ہے کہ وہ قوم کے ساتھ ساتھ اپنے دوستوں کے لیے امید کی کرن ہے”

اس کے علاوہ ہماری اسمبلی نے، جو ترک قبرص اور آذربائیجانی ترکوں سے لے کر بلقان اور شمالی افریقہ تک میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی حمایت کرتی ہے، ظاہر کیا ہے کہ وہ قوم کے ساتھ ساتھ اپنے دوستوں کے لیے بھی امید کی کرن ہے۔

یہ دعاؤں، تکبیرات، جوش و خروش کے ساتھ شروع ہونے والا مجلس کبیر ملّی کے آغاز کا 100 واں سال ہے۔ بدقسمتی سے ہم اس اہم موقع کو شایانِ شان انداز میں نہیں منا سکتے ہیں کیونکہ یہ کرونا وائرس کی وباء کے زمانے میں آیا ہے۔ اپنے اہداف کو حصال کرکے ہم ان شاء اللہ اپنی جمہوریہ کا 100 سالہ جشن شایانِ شان انداز میں منائیں گے۔

یہ محض ایک اسمبلی نہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قوم کا ارادہ ‘اختیار غیر مشروط طور پر قوم کا ہے’ کے اصول میں آشکار ہوتا ہے۔ یہ ایک قدیم اسمبلی ہے جس نے ‘آزادی یا موت’ کا نعرہ لگاکر ہمارے ملک کے لیے جنگِ آزادی کا خود آغاز کیا۔ یہ قوم کا وہ گھر ہے جس نے اس کی آزادی اور مستقبل کی جنگ لڑی۔

"ملک کی تمام کامیابیوں میں سب سے بڑا حصہ ہماری اسمبلی کا ہے”

یہ وہ اسمبلی ہے کہ جس نے جمہوریہ ترکی کی بنیاد رکھی، جو اس جغرافیہ میں ہماری آخری پناہ گاہ ہے۔ کثیر جماعتی نظام کے ساتھ جمہوری عمل میں آنے والی تبدیلی اسی مجلس کبیر ملّی کی تھی۔ کئی بغاوتوں اور بغاوتوں کی کوششوں، یادداشتوں اور نگران بن بیٹھنے کی مکارانہ حرکتوں کے باوجود اس ایوان نے ہمیشہ سے اس قوم کی تعظیم و تکریم کا دفاع کیا ہے کہ جس کا وہ نمائندہ ہے۔

یقیناً کچھ افسوس ناک واقعات بھی پیش آئے کہ جنہیں ہم یاد نہیں رکھنا چاہیے۔ لیکن اس سے ہماری اسمبلی کی اقدار کی عظمت کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ یہ اسمبلی کا دلیرانہ اور فیصلہ کن طرز عمل، بالخصوص 15 جولائی کی شب ، جمہوریت کی عالمی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے کا۔ ہمیں امید ہے کہ جو ترکی کو بنا قیمت ادا کیے جمہوریت کے قیام کا طعنہ دیتے ہیں انہیں 15 جولائی کی شب شرم ضرور آئی ہوگی۔ یہ ہماری اسمبلی ہے جس کا ہمارے ملک کی کامیابیوں میں سب سے بڑا حصہ ہے۔ ہم اصلاح جو کی گئی، ہر ضابطہ جو لاگو کیا گیا، ہر فیصلہ جو کیا گی، اور پچھلے 18 سالوں میں جو رویہ اختیار کیا گیا وہ خود ایک کامیاب داستان ہے۔

"ترکی کی جانب سے 2023ء کے اہداف حاصل کرنے کے سفر میں ابھی اسمبلی کو بہت سی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں”

ہماری اسمبلی چلتی رہے گی، ان شاء اللہ، آئندہ دور میں زیادہ بڑی کامیابیوں کے ساتھ تاریخ رقم کرتی رہے گی۔ ہماری اسمبلی نے ابھی بہت سی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں کیونکہ ترکی 2023ء کے لیے اپنے اہداف حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ صدارتی نظام نے ہماری اسمبلی، ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کو بھی، اپنے متعلقہ شعبے پر توجہ کرنا ممکن بنایا ہے۔ بلاشبہ سرکاری نظام میں اتنی بنیادی تبدیلی کے بعد کارکردگی کو بہترین مقام تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا۔ البتہ ہم نے دیکھا کہ قانون ساز، مقننہ اور عدلیہ کے اختیارات اس نئے نظام میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں۔ نئی اصلاحات کے ذریعے ہم نے عدلیہ اور مقننہ کی خامیوں کی اصلاح کی اور ہم مستقل اس معیار کو بہتر بناتے رہیں گے۔ ترکی کامیاب اس میدان میں کامیاب ہوگا، ان شاء اللہ اور دنیا کے لیے مثال بنے گا۔

مجھے یقین ہے کہ نئے قانون ساز سال میں ہماری اسمبلی اسی ڈھانچے کے اندر بہت اہم کام انجام دے گی۔ میری رائے میں اسمبلی ہی وہ مقام ہے کہ جہاں ملک و قوم کی خدمت کے لیے سیاسی مسابقت اور دوڑ کے درمیان خط تقسیم بہترین انداز میں واضح اور محفوظ ہوتا ہے۔ میں تمام جماعتوں کے اراکین کا پیشگی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ جو نئے دور میں اسمبلی کے لیے کام کریں گے۔ ہماری قوم نے حال ہی میں ترقی کے کئی ایسے سال دیکھے ہیں جو ماضی کی دہائیوں سے آگے ہیں اور آئندہ بھی مزید دیکھتی رہے گی۔

"دوسری جنگِ عظیم کے بعد فاتحین کا مرتب کردہ عالمی نظام اب ہر شعبے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے”

اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی کہ اس دور میں کہ ترکی نے جمہوری و اقتصادی کامیابیاں حاصل کیں جو طویل عرصے سے عدم استحکام، بحث و تکرار اور بحرانوں کی نظر ہو رہا تھا۔ ہر کامیابی کو کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ملک کے اندر اور بیرونِ ملک موجود ان عناصر کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ جن کے مفادات کو ٹھیس پہنچ رہی تھی۔ الحمد للہ ہم ہر رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے آج عوام اور اپنی اسمبلی کی حمایت سے اس مقام تک پہنچے ہیں، کہ جو ہمارے عوام کی نمائندہ ہے۔

اتنی تیز رفتار ترقی کی دوسری وجہ ہے کہ دنیا ایک نئے دوراہے پر آ چکی ہے۔ بین الاقوامی سیاسی و اقتصادی نظام جو دوسری جنگ عظیم کے فاتحین نے ترتیب دیا تھا اب ہر شعبے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ وباء کے دوران ہونے والی پیش رفت نے اس کے زوال کو واضح انداز میں دیکھنا ممکن بنایا ہے۔

اقوامِ متحدہ سے لے کر تمام عالمی ادارے جو موجودہ عالمی نظام کو اس طرح چلانے کے ذمہ دار ہیں کہ پوری انسانیت ڈیڈلاک تک پہنچے۔ یہ ادارے جو نئے چیلنجز، بحرانوں اور دنیا کی ضروریات میں غیر مؤثر ہیں معاملے کی نزاکت میں کہیں زیادہ اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ بخوبی دیکھا گیا ہے کہ نام نہاد ترقی یافتہ ممالک حقیقی بحران کی صورت میں خود اپنے شہریوں کی مدد نہیں کر سکتے۔ مختصراً یہ کہ اس مسخ شدہ نظام کا اب کوئی امکان نہیں بچا کہ جس میں دنیا چند لالچی افراد کی وجہ سے آگے نہ بڑھے کیونکہ وہ نظام کو ایسے ہی چلانا چاہتے ہیں۔ "دنیا پانچ سے کہیں بڑی ہے” کا نعرہ جو ہم عرصے سے ہر پلیٹ فارم پر لگا رہے ہیں، وہ اس حقیقت کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔

یا تو موجودہ اداروں کی تنظیمِ نو کی جائے اس طرح سے کہ یہ پوری انسانیت کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے نمائندہ ہوں یا پھر نئے ادارے قائم کیے جائیں کہ جو ان ضروریات کو پورا کریں۔ تمام تر خدشات کے باوجود ہماری رائے ہے کہ اگر موجودہ اداروں کی منصفانہ انداز میں تنظیمِ نو کی جائے تو یہ ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ کچھ حلقے ایسے تھے کہ جو ہمارے عالمی نظام کو تبدیل کرنے کے اس نعرے سے دُور فاصلے پر رہے۔ ہم نے دیکھا کہ اب وبائی صورت حال کے بعد یہ حلقے بھی ہماری حمایت کرنا شروع ہو گئے ہیں۔

"عالمی مسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سب کے لیے کافی ہیں”

میں یہ ایک مرتبہ پھر کہنا چاہوں گا کہ دنیا کے ہر کونے کو، مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک، سلامتی کی ضرورت ہے۔ دنیا اور اس کے تمام رہنے والے اس سے قطع نظر کہ وہ کہاں رہتے ہیں، امن چاہتے ہیں۔ دنیا کے وسائل، جو سب کے لیے کافی ہیں، کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے۔ ہوا، پانی، درخت اور دنیا کی تمام خوبصورتیاں جو اللہ نے ہمارے سپرد کی ہیں، کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم ایسا عالمی نظام قائم کریں جو یہ سب مہیا کرے۔

بصورتِ دیگر دنیا بھر میں تنازعات، ظلم و ستم اور تباہی کا سلسلہ پھر شروع ہو جائے گا، جس سے ترقی یافتہ ممالک بھی بچ نہیں پائیں گے۔ ہم ایسے حل سامنے لانے، ان پر بات کرنے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کر رہے ہیں جو انسانیت کو ایسے کسی بھی خطرے سے بچائیں۔ اس ضمن میں ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ ہماری اسمبلی نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائی ہیں۔

"ہم اپنے مقبوضہ علاقوں کو بچانے اور اپنی مادرِ وطن کے تحفظ کی جدوجہد میں آذربائیجانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں”

ہم ایک ایسے جغرافیے میں موجود ہیں جہاں عالمی بحران سب سے زیادہ جنم لیتے ہیں۔ تقریباً 30 سال پہلے بلقان میں بدترین قتلِ عام اور کشیدگی کی یادیں ابھی تازہ ہی ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ خطہ اب تک مستقل امن و سکون حاصل نہیں کر پایا۔ بحران جو بحیرۂ اسود میں کریمیا پر قبضے کے ساتھ شروع ہوا کسی بھی لمحے دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے۔ قفقاز کسی نئے تنازع کے خدشات کے ساتھ مسلسل بحران کی سمت رواں ہے۔ حقیقتاً آرمینیا کی جانب سے آذربائیجان پر حملے اس کی بالکل واضح مثال ہیں کہ جو نگورنو-قراباخ پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ یہاں میں ایک مرتبہ پھر کہنا چاہوں گا کہ ہم اپنے مقبوضہ علاقوں کو بچانے اور اپنی مادرِ وطن کے تحفظ کی جدوجہد میں آذربائیجانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں۔ آذربائیجان کے قدیم علاقے قراباخ پر قبضے اور آرمینیا کی جانب سے شہری آبادی کے قتلِ عام کے خلاف اندھے، گونگے اور بہرے بن جانے والوں کا رویہ بھی منافقانہ ہے۔ جو قابض طاقتوں کے خلاف خاموش ہوں اور اپنی مادرِ وطن کا تحفظ کرنے والوں پر الزام لگائیں، ان کے الفاظ کی ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔ ہم اپنے تمام تر وسائل اور دل کی گہرائیوں سے اپنے آذربائیجانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں کہ جنہیں ہم ‘دو ریاستیں، ایک قوم’ سمجھتے ہیں۔

"خطے میں پائیدار امن آذربائیجان کے ہتھیائے گئے تمام علاقوں سے آرمینیا کے مکمل اخراج کے ذریعے ہی ممکن ہے”

خطے میں پائیدار امن آذربائیجان کے ہتھیائے گئے تمام علاقوں سے آرمینیا کے مکمل اخراج کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ باقی تمام پہلوؤں کو چھوڑ کر محض ترکی پر الزامات لگانے سے آرمینیا کی انتظامیہ کو کچھ حاصل نہ ہوگا۔ میں انہیں خبردار کرتا ہوں جو اس بدمعاش ریاست کی پشت پناہی کر رہے ہیں کہ انہیں انسانیت کے ضمیر کے سامنے حساب دینا ہوگا۔ اللہ ہمارے آذربائیجانی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کرے۔ میں اس جدوجہد میں شہادت کا رتبہ پانے والے آذربائیجانی بہنوں اور بھائیوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔

بحرانی صورت حال کے نقشے پر جب ہم تھوڑا جنوب کی طرف دیکھتے ہیں تو خلیج کا علاقہ نظر آتا ہے۔ ایران اور عراق کی جنگ سے لے کر کویت پر حملے تک، یمن میں کشیدگی سے لے کر قطر کے معاملات تو اب تک جاری ہیں۔ میں امیر کویت احمد الجابر الصباح کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتا ہوں جو خطے کے زیرک اور عقلِ سلیم رکھنے والے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ ان سے ہٹ کر خطے کے چند ممالک کے رہنما ایسی پالیسیوں پر چل رہے ہیں جو ان کی دانائی، منطق اور ضمیر سے میل نہیں کھاتیں اور بحران کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ ان میں سے چند ممالک ہمیں ہدف کا نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ ہم سچ کا اظہار کرتے ہیں اور مظلوم کے ساتھ ہیں۔ یاد رکھیں کہ ان میں سے چںد ممالک کل وجود ہی نہیں رکھتے تھے اور ہو سکتا ہے کہ کل بھی ان کا وجود نہ ہو؛ لیکن ہم اللہ کے حکم سے اس جغرافیہ میں اپنا پرچم ہمیشہ لہراتے رہیں گے۔ جنگِ خلیج سے آج تک عراق میں عدم استحکام نے سب سے زیادہ ہمارے ملک کو متاثر کیا ہے۔ علیحدگی پسند تحریک نے ہماری سرحد کے ساتھ واقع عراق کے علاقوں کو اڈے کے طور پر استعمال کیا اور ہمارے ملک میں سالہا سال خون ریز سرگرمیاں کیں۔

حال ہی میں ہم نے دہشت گردی کے خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور عراقی سرحد کے ساتھ ان کے ٹھکانوں کو ایک، ایک کر کے ختم کر رہے ہیں۔ ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی تب تک جب تک شورش کا سبب بننے والا ہر ٹھکانہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا، کہ جن سے شمالی عراق کی انتظامیہ بھی تنگ ہے۔ یہ ہماری خواہش ہے کہ بغداد انتظامیہ سیاسی اتحاد اور علاقائی سالمیت کو جلد از جلد یقینی بنائے، اس طرح کہ ترکمن بھائیوں اور بہنوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہو۔

"ترکی کی دہشت گردی کے خلاف 40 سالہ جنگ میں شام بھی ہمیشہ سے اہم مقام رہا ہے”

ہمارے خطے میں شامی بحران بھی تقریباً 10 ویں سال میں داخل ہو چکا ہے جو ہمارے جغرافیے میں سب سے افسوس ناک، خونی اور دردناک مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ اس معاملے کا ہر پہلو ہمارے لیے تشویش ناک ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ ہماری 911 کلومیٹرز طویل سرحد شام سے ملتی ہے۔ سرحد کے دونوں طرف رہنے والے لوگ ہزاروں سال کی یکساں تاریخ رکھتے ہیں۔ اس ماضی کی بدولت ان کے گہرے انسانی، ثقافتی، سماجی، یہاں تک کہ معاشی تعلقات بھی ہیں۔

شام دہشت گردی کے خلاف ترکی کی 40 سالہ جنگ میں ہمیشہ اہم مقام رکھتا ہے۔ گزشتہ 10 سال میں کہ جن میں ملک عدم استحکام سے دوچار ہوا ہے، داعش اور PKK-YPG یہاں سب سے زیادہ بااثر دہشت گرد تنظیمیں بن چکی ہیں۔ ہم اپنے شہروں میں تقریباً 40 لاکھ شامی شہریوں کی میزبانی کر رہے ہیں کہ جو شام میں جنگ اور مظالم سے بھاگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہم ہی ہیں کہ جو شام میں 40 لاکھ مظلوم شہریوں کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی ملک ہے جو ہر لحاظ سے شامی مسئلے کے تمام پہلوؤں میں شامل ہونے کا حق رکھتا ہے تو وہ ترکی ہے۔ جو کہتا ہے کہ ‘ترکی شام میں کیا کر رہا ہے؟’، یا تو وہ اس خطے اور اس کی تاریخ کے بارے میں نہیں جانتا یا پھر اس کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔ ترکی سیاسی اکائی اور علاقائی سالمیت کی بنیاد پر شام کا مسئلہ حل ہونے تک اپنی سرحدوں کو ہر ممکن انداز میں محفوظ بنائے گا۔ ہم نے اس مقصد کے لیے آپریشن فرات شیلڈ، شاخِ زیتون اور چشمہ امن کیے۔ ہم ادلب میں بھی ہیں۔ ہم نے اپنی سرحدیں دہشت گردوں اور ان کو استعمال کرنے والوں کے حوالے نہیں کیں اور نہ کریں گے۔

ہم محفوظ بنائے گئے علاقوں سے باہر اپنے آپریشنز جاری رکھیں گے اور ہر اس جگہ پر جہاں سے ہمارے ملک اور ہمارے بھائیوں کے خلاف حملے کی سازش ہوگی یہاں تک کہ آخری دہشت گرد بھی مارا جائے۔ ہم ان مظلوموں کی مدد بھی کرتے رہیں گے کہ جن سے انہوں سے بھی پیٹھ پھیر لی جو ہر وقت انسانیت، انسانی حقوق اور دوسروں کی عزت و احترام کی بات کرتے ہیں اور ہر ممکن طریقے سے ان مظلوموں کو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دے رہے۔

"ترکی شام کے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کا سب سے نمایاں حامی ہے”

یہ ہماری پارلیمنٹ تھی کہ جو 1 لاکھ سے زیادہ شامی مہاجر بچوں کے یورپ میں کھو جانے کا معاملہ یورپی پارلیمنٹ تک لائی۔ یہ یورپی یونین تھی کہ جس نے شامی مہاجرین کی خوراک اور رہائش کے لیے 3 + 3 ارب یوروز کا وعدہ کیا تھا اور پھر اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے معاملہ رفع دفع کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ 4 لاکھ 11 ہزار شامی اب تک رضاکارانہ طور پر اور بحفاظت اپنے وطن واپس جا چکے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ ترکی نے جو کیا، ٹھیک کیا۔ ترکی شام کے بحران کے سیاسی حل کے لیے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ہونے والی کوششوں کا بھی سب سے نمایاں حامی ہے۔ ہم تاقیامت اپنی سرحدوں کی حفاظت اور مظلوموں کا تحفظ کرتے رہیں گے۔

"ہم بحیرۂ روم میں کشیدگی، تناؤ، ناانصافی اور لاقانونیت نہیں چاہتے”

مشرقی بحیرۂ روم میں ہونے والی پیش رفت وہ اہم ترین جنگ ہے جو ترکی نے پچھلی چند صدیوں میں سمندروں میں شروع کی ہے۔ فتحِ پریویزا کے ذریعے ہم نے بحیرۂ روم میں جو غلبہ اختیار کیا، جس کے 482 سال مکمل ہونے کا جشن ہم منا رہے ہیں، اس سے صدیوں تک خطے میں امن رہا۔ گیلی پولی مہم میں جہاں زبردست تاریخ رقم کی گئی، ہم نے سمندروں کے ساتھ ساتھ زمین پر بھی عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ باربروس خیر الدین پاشا اور دیگر ہیروز کی جانب سے قائم کردہ امن اس ملک کے ہر بچے کی ذمہ داری ہے۔ ترکی بحیرۂ روم میں کبھی کشیدگی، تناؤ، ناانصافی اور لاقانونیت نہیں چاہتا۔ ہمارا واحد مطالبہ اپنے ملک کے حقوق اور مفادات کا احترام ہے۔

بحیرۂ روم میں سیاسی و معاشی امکانات کی یکساں بنیادوں پر تقسیم تنازعات کے حل میں ہمارا پہلا انتخاب ہے۔ البتہ 2003ء سے یونان اور یونانی قبرص کا رویہ بدقسمتی سے اس اصول کے بالکل برعکس ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین بھی غیر مؤثر، وژن سے عاری اور کمزور ڈھانچہ ثابت ہوا ہے جو یونان اور یونانی قبرص کا قیدی بنا ہوا ہے۔ ہمارے خطے میں کوئی ایک مسئلہ بھی ایسا نہیں جو ابھرا ہو اور یورپی یونین کی بدولت اور اس کے اثر و رسوخ سے حل ہوا ہو۔ اس کے برعکس ہر بحران جس میں یونین نے ہاتھ ڈالا ہے، وہ نئے رخ اختیار کرکے مزید خراب ہی ہوا ہے۔

ان حالات میں ترکی کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنی پالیسیوں کو پورے عزم کے ساتھ لاگو کرے۔ لیبیا کے ساتھ ہم نے جو معاہدہ کیا ہے، وہ بحیرۂ روم سے اپنے ملک کو مکمل طور پر دیس نکالا ملنے سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا قدم ہے۔ اس معاہدے کے ساتھ ہمارے پاس اپنی کوششوں کو پھیلانے کا موقع ہے جو ہم نے ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے حقوق کے تحفظ کے لیے شروع کی تھیں۔

"ہم آخر تک مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کا عزم رکھیں گے”

وہ کہ جنہوں نے سالہا سال تک خطے میں ہمارے ملک کو نظر انداز کیا اور ایسے نقشوں اور مطالبوں کے ذریعے ہمارا مقابلہ کیا کہ جو ہمیں اپنے ساحل تک محدود کرنے کے لیے سامنے لائے گئے، انہوں نے ہمارے اقدامات پر پہلے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا۔ زمین پر، سمندروں میں اور فضاؤں میں اور اپنی بہادر فوج کی انٹیلی جنس اور ملک کی سیاسی و سفارتی طاقت پر مبنی ترکی کے پرعزم رویّے پر وہ مذاکرات پر آمادہ ہونے پر مجبور ہو گئے۔ خاص طور پر اس موقع پر جو جرمنی کی زبردست کوششوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، اب ہمارے حریفوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں یا خطے میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں۔

ہم آخر تک مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کا عزم رکھیں گے۔ دنیا میں کتنے ملک ہے کہ جو ترکی کی طرح امن کے لیے لڑ رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں؟ کیا یہ ثبوت نہیں ہے کہ چاہے ہم دنیا کی سب سے بڑی معیشت نہ ہوں، لیکن انسانی امداد میں سب سے آگے ہیں؟ کیا یہ ثبوت نہیں ہے کہ ہم وہ ملک ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، اس کے باوجود کہ اس کی اپنی سرحدوں کے لیے خطرات ہیں اور اس کی معیشت دباؤ کا شکار ہے؟ کیا یہ ثبوت نہیں ہے کہ ہم نے اقوامِ متحدہ سے لے کر اسلامی تعاون کی تنظیم تک ہر پلیٹ فارم پر ثالثی کے حق میں اپنی طاقت کا استعمال کیا اور قدم اٹھائے؟ ان حقائق کے پیش نظر ہم تمام ممالک، خاص طور پر یورپی ممالک اور اپنے پڑوسیوں کو مدعو کرتے ہیں کہ وہ ترکی کی امن و سلامتی کی کوششوں کی حمایت کریں یا کم از کم ان کاوشوں کا احترام ہی کریں۔

"القدس کا مسئلہ ہمارے لیے کوئی عام جغرافیائی و سیاسی مسئلہ نہیں”

ایک اور بحران جو ہمارے ملک اور ہمارے عوام کے لیے بہت اہم ہے وہ فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم اور یروشلم کی اہمیت کے حوالے سے کارگزاریاں ہیں۔ میں خاص طور پر اس نقطے پر بات کرنا چاہوں گا: القدس کا مسئلہ ہمارے لیے کوئی عام جغرافیائی و سیاسی مسئلہ نہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ قدیم شہر کی ظاہری صورت، جو کہ یروشلم کا مرکز ہے، سلیمان عالیشان نے دیواروں، بازاروں اور کئی عمارات کے ذریعے قائم کی۔ ہمارے آبا و اجداد نے صدیوں تک اس شہر کو بہترین حالت میں رکھ کر اس کا احترام کیا۔

پہلی جنگِ عظیم میں ہمیں آنسوؤں کے ساتھ اس شہر کو چھوڑنا پڑا، لیکن اب بھی یہاں عثمانی مزاحمت کے آثار مل جاتے ہیں۔ اس لیے یروشلم ہمارا شہر ہے۔ یروشلم میں ہمارا پہلا قبلہ الاقصیٰ اور قبۃ الصخرہ ہمارے لیے اہم مساجد ہیں۔ اس کے علاوہ یہ شہر مسیحیت اور یہودیت کے لیے بھی مقدس مقامات رکھتا ہے۔

درحقیقت فلسطینی لوگوں کی سرزمین، جو صدیوں سے یروشلم اور اس علاقے کے باسی ہیں، پر قبضہ کیا گیا ہے اور ان کے حقوق اور قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے ہمیں اس مسئلے پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم ہر پلیٹ فارم پر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کو اپنے ملک اور عوام کے لیے اعزاز سمجھتے ہیں، ہم مسئلہ فلسطین پر بات کرتے رہیں گے، جو عالمی ضمیر کا ایک رِستا ہوا زخم ہے۔

تبصرے
Loading...