ہم اپنے آبا و اجداد پر فخر کرتے ہیں جو عظمت، وقار اور فتح سے جیتے تھے، ایردوان

0 189

جنگ ملازکرد کے یوم فتح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "ملازکرد میں فتح حاصل کرنے کے بعد سلطان الپ ارسلان نے اناطالیہ کو ہمارا روحانی وطن بنا دیا۔ ہم اپنے آبا و اجداد پر فخر کرتے ہیں جو عظمت، وقار اور فتح سے جیتے تھے اور وسط یورپ تک ایسے پہنچے کہ ایک ہاتھ میں سرخ پرچم تھا تو دوسرے ہاتھ میں سبز سنجاق۔ اس فتح سے دراصل ہمارے لوگوں نے ایک نیا وطن اور مستقبل پایا”۔

فتح ملازکرد کے بعد سلطان الپ ارسلان نے اناطالیہ کو ہمارا روحانی وطن بنا دیا

ترکی بھر سے آنے والے شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے ایردوان نے کہا: "ملازکرد میں فتح حاصل کرنے کے بعد سلطان الپ ارسلان نے اناطالیہ کو ہمارا روحانی وطن بنا دیا۔ ہم اپنے آبا و اجداد پر فخر کرتے ہیں جو عظمت، وقار اور فتح سے جیتے تھے اور وسط یورپ تک ایسے پہنچے کہ ایک ہاتھ میں سرخ پرچم تھا تو دوسرے ہاتھ میں سبز سنجاق۔ جب سلطان الپ ارسلان جنگ لڑنے کا حکم دینے کے لیے فوج کے سامنے گئے تو کہا، ‘اگر میں شہید ہو جاؤں تو یہ سفید لباس میرا کفن بن جائے گا اور اگر ہم جیت گئے تو مستقبل ہمارا ہے’۔ اس فتح سے دراصل ہمارے لوگوں نے ایک نیا وطن اور مستقبل پایا”۔

اناطالین سلجوق ریاست، فتح جنگ ملازکرد کے چار سال بعد 1075ء میں قائم ہوئی۔ صدر ایردوان نے مزید کہا، "دو صدیوں بعد دنیاء کی تاریخ کی سب سے بڑی ریاست، سلطنت عثمانیہ نے اناطالیہ میں جڑیں مضبوط کیں اور دنیا کے چار براعظموں پر حکمرانی کی”۔

946 سال وطن کی حفاظت کے لیے شہید ہونے والوں کے لیے دعاء کرتے ہوئے ایردوان نے کہا: "اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں اور اوّلادوں کے سامنے آنے والی رکاوٹوں کو دور کرے جو بالکل اسی طرح اپنے مستقبل اور آزادی کی جنگ لڑیں گے”۔

جس نے بھی ہماری قوم کے خاتمے کا منصوبہ بنایا اس کا انجام تباہ کن ہوا

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ اناطالیہ کا مطلب ہے ان لوگوں کے لیے لوہے کا چنا بننا جو ہمارے دلوں کے جغرافیے کو پھاڑنا چاہتے ہیں۔ جس نے بھی ہماری قوم کے خاتمے کا منصوبہ بنایا اس کا انجام تباہ کن ہوا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صلیبی فوج جس کا مقصد اناطالیہ کی سلجوق ریاست کا خاتمہ ےھا اور پھر القدس تک پہنچنا تھا۔ چھ سو ہزار افراد کے نکلی لیکن جنگ کے اختتام پر ایک سو ہزار بچی۔ ایردوان نے کہا جب بازنطینی دیواروں پر عثمانی پرچم لہرایا تو دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا: "اناطالیہ ہمیشہ سے نقطہ آغاز اور ہمارے آباء کے لیے طاقت کا مرکز رہا ہے جنہوں نے اس جھنڈے کے ساتھ فتوحات حاصل کیں۔ فتح چناک قلعہ اس قوم کی تجدید کی نشانی بنی۔ ہم نے اس تجدید کو اپنی آزادی کی قوت بنا دیا ہے۔ ایک ایسی جنگ جس سے ایک عظیم ریاست جنم لے”۔

ہم نے 15 جولائی کی دخل اندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا

ایردوان نے مزید کہا: "آخر کار ہم نے 15 جولائی کا سامنا کیا، ایک ایسی تحریک جو بظاہر بغاوت کی ایک کوشش تھی لیکن یہ پہلے کی طرح کی ایک ایسی کوشش تھی جس کا مقصد ہمیں یرغمال بنا کر اس دھرتی سے ہمیں باہر نکال پھینکنا تھا۔ ہماری قوم نے اسے روک دیا جو پنسالوانیا میں بیٹھے شخص کے پیروکار ہیں۔ قوم نے 15 جولائی کی بھاری قیمت چکائی۔ ایک جھنڈے، اذان، وطن، ریاست، آزادی اور مستقبل کے لیے کھڑی ہو گئی۔ بالکل ویسے ہی جیسے 946 سال پہلے ہوا۔ ہم نے 15 جولائی کی دخل اندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ 15 جولائی کو کون سلطان الپ ارسلان بن کر ان کے خلاف لڑا، کون سلطان کلیچ ارسلان بن کر ان کے خلاف سینہ سپر ہوا، یہ قوم سامنے آئی۔ کون عثمان غازی بنا، کون محمد الفاتح بنا، کون سلطان عبدالحمید اور غازی مصطفیٰ کمال بن کر ان کے خلاف لڑا، یہ قوم ہی لڑی۔ کھیل اسی طرح کا ہے۔ ہدف بھی اسی طرح کے ہیں بس حالات اور کردار بدل گئے ہیں۔ فتح اللہ گولن اس شطرنج کا پیادہ بنا ہے۔ پی کے کے، پی وائے ڈی، وائے پی جی، داعش اور اس طرح کی دوسری سب دہشتگرد تنظیمیں اس کھیل کے کردار ہیں۔ ان میں سے ہر ایک، طاقتوروں کے ہاتھوں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے جن کی نظر ہماری قوم پر ہے۔ ہماری جنگ صرف ان کرداروں کے خلاف نہیں بلکہ ان کرداروں کو استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی ہے”۔

تبصرے
Loading...