ہم تمام الہامی کتابوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے بارے کوئی قیاس آرائی نہیں کرتے، ایردوان

0 890

250 نئی یادگاروں کی بحالی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا، "میں فرانس کے ان تاریک لوگوں کو کہتا ہوں جو روشن ہونے کا بہروپ بھرتے ہیں: تم قرآن کریم کی کچھ آیات کو مٹانے کا مطالبہ کرتے ہو۔ تمہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری تہذیب میں ایسا کوئی نقطہ نظر یا ذہنیت موجود نہیں ہے کہ بائبل، زبور یا تورات کے کچھ حصوں کو مٹایا جائے۔ اس کے برعکس، ہم تمام الہامی کتابوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے بارے کوئی قیاس آرائی نہیں کرتے”۔

ہم بلا امتیاز تمام عبادت گاہوں کی قدر کرتے ہیں

دیاربکر میں آرمینی پروٹسٹنٹ چرچ کی بحالی 250 یادگاروں کا حصہ ہے اور یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہم ترکی کے تمام صوبوں میں بلا امتیاز عبادگاہوں کی قدر کرتے ہیں۔ ترک صدر ایردوان نے قرآن کریم پر فرانسیسی منشور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں فرانس کے ان تاریک لوگوں کو کہتا ہوں جو روشن ہونے کا بہروپ بھرتے ہیں: تم قرآن کریم کی کچھ آیات کو مٹانے کا مطالبہ کرتے ہو۔ تمہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری تہذیب میں ایسا کوئی نقطہ نظر یا ذہنیت موجود نہیں ہے کہ بائبل، زبور یا تورات کے کچھ حصوں کو مٹایا جائے۔ اس کے برعکس، ہم تمام الہامی کتابوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے بارے کوئی قیاس آرائی نہیں کرتے”۔ ترک صدر نے مزید کہا، "ہم چند غیر معزز افراد کے ان تازہ بیانات کو صرف ان کی جہالت کا عکس سمجھتے ہیں۔ یہ گروہ ہماری مقدس کتاب بارے کچھ نہیں جانتا اور نہ اپنی تاریخ کے بارے کچھ علم رکھتا ہے اور نہ بائبل اور تورات بارے جانتا ہے جس پر ایمان لانے کا یہ دعویٰ کرتے ہیں”۔

عبادت گاہیں ہمارے عقیدے میں استثناء رکھتی ہیں

رجب طیب ایردوان نے مزید کہا، "عبادت گاہیں ہمارے عقیدے میں استثناء رکھتی ہیں۔ کسی بھی مقصد کے تحت اگر کوئی اس استثناء کو توڑتا ہے تو در اصل وہ اسلام کے احکامات سے روگرانی کرتا ہے۔ دوسری طرف، ہمارا موقف ان اسلاموفوبک یورپی سیاستدانوں کے لیے ایک سبق ہونا چاہیے جو مغربی اقدار کے مبینہ تحفظ کے لیے اسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ہماری مسجدوں کو آگ لگاتے ہیں۔ فاشسٹ ذہنیت رکھنے والا گروہ جو چند قاتلوں کے جرم کو سب مسلمانوں سے نتھی کرتا ہے اور غیر انسانی نظریات والے داعش دہشتگرد دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ دو گروہ جو بظاہر ایک دوسرے کے دشمن نظر آتے ہیں، ایک دوسرے کے مقاصد کی خدمت کرتے ہیں۔ ہماری تہذیب ان دو بیمار ذہنیتوں سے آزاد ہے۔ ہم جس طرح ان کے خلاف ہیں جو یورپ کے وسط میں مسجدوں کو آگ لگاتے ہیں، اسی طرح ہم شام اور عراق میں چرچ پر حملے کرنے والے کے بھی خلاف ہیں۔ہم اپنے شہریوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کی مذہبی آزادی کے وکیل ہیں”۔

تبصرے
Loading...