افغانستان میں تمام پارٹیوں کی مشترکہ حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں، طالبان ترجمان کا اہم دن اسکائی نیوز سے انٹرویو

0 1,642

افغان طالبان کے ترجمان نے اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں افغانستان میں تمام پارٹیوں کی مشترکہ حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے انٹرویو میں مزید کہا، "ہم خواتین کو اس کی اجازت دیں گے کہ وہ تعلیم حاصل کریں، کام کریں لیکن انہیں پردہ کرنا ہو گا”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خواتین کو اجازت دیں گے کہ وہ اکیلے گھر سے باہر نکل سکتی ہیں۔

میڈیا کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے افغان طالبان کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا کو تنقید کی اجازت دیں گے جب تک وہ اخلاقی حدود میں رہیں۔

افغان وزارت داخلہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان تمام اطراف سے کابل میں داخل ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف افغان صدر نے سیکیورٹی سربراہ کو کابل میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کی ہدایت کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کابل میں سرکاری دفاتر کو خالی کروا لیا گیا ہے جبکہ کچھ علاقوں میں دکانیں بھی بند کر دی گئی ہیں جبکہ طالبان نے کابل جانے والی تمام مرکزی شاہراؤں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ مجاہدین جنگ یا طاقت کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں اور کابل کے پرامن سرینڈر کے لیے طالبان کی افغان حکام سے بات چیت جاری ہے۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ عبدالستار میرز کوال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ قائم مقام افغان وزیر داخلہ نے بتایا کہ معاہدے کے تحت عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پرامن ماحول میں ہو گی۔

دوسری جانب افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان کو اقتدار کی منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں جس میں عبداللہ عبداللہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی مستفیٰ ہونے کے لیے تیار ہیں جبکہ طالبان نے عبوری حکومت بنانے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔

تبصرے
Loading...