ترکی کی معیشت کو تمام 81 صوبوں کے ساتھ پروان چڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں، صدر ایردوان

0 473

سیواس میں سینٹرل ایشیا اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایرودان نے کہا کہ ” ہم سیواس سمیت ترکی کے تمام 81 صوبوں کی معیشت پروان چڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نئی مارکیٹوں کے حصول اور نئے تعلقات کے قیام کے لیے اپنے کاروباری افراد کے ساتھ دنیا گھومے ہیں۔ ہم نے مقامی اور اپنے ملک میں آنے والے غیر ملکی کاروباری افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی ۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے صوبہ سیواس میں سینٹرل ایشیا اکنامک فورم سے خطاب کیا۔

"ترکی اب اپنی 70 فیصد دفاعی ضروریات مقامی اور قومی ذرائع سے پوری کر رہا ہے”

گزشتہ 17 سال میں معیشت اور دفاعی صنعت کے معاملات میں ترکی نے جتنا فاصلہ طے کیا ہے، اس جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کی قومی فی کس آمدنی 3,400 ڈالرز سے 11,000 ڈالرز تک گئی اور اس کی برآمدات 36 ارب سے 170 ارب ڈالرز تک پہنچ گئیں۔ "یہی نہیں بلکہ ترکی اب اپنی 70 فیصد دفاعی ضروریات مقامی اور قومی ذرائع سے پوری کر رہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہماری دفاعی صنعت کی برآمدات 2.5 ارب ڈالرز تک جا پہنچی ہیں۔”

صدر ایردوان نے زور دیا کہ ” ہم سیواس سمیت ترکی کے تمام 81 صوبوں کی معیشت پروان چڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نئی مارکیٹوں کے حصول اور نئے تعلقات کے قیام کے لیے اپنے کاروباری افراد کے ساتھ دنیا گھومے ہیں۔ ہم نے مقامی اور اپنے ملک میں آنے والے غیر ملکی کاروباری افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی۔”

"S-400 دفاعی نظام ہے، جارحانہ نہیں”

ترکی کی جانب سے روس سے S-400 ڈیفنس سسٹم خریدنے کے موضوع کو چھیڑتے ہوئے صدر ایرودان نے کہا کہ S-400 کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ دفاعی نظام ہے، جارحانہ نہیں اور اس کے معاملات اپریل تک مکمل ہو جائیں گے۔ صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا تھا کہ وہ امریکا کے پیٹریاٹس خریدتے اگر وہ ترکی کو ان شرائط پر ملتے کہ جن پر ترکی نے روس نے S-400 خریدا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ سے پانچ دن قبل ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پھر ملاقات کریں گے۔

تبصرے
Loading...