دھوپ ہو یا بارش ہم اپنے مقاصد کی طرف بڑھتے رہیں گے، ایردوان

0 505

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کی پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہمارے خطے اور دنیا میں ہونے والی پیش رفت یہ دکھاتی ہے کہ ہمارے تعمیرنو کے عہد سے گزر رہے ہیں جو آئندہ صدی کی عمارت کھڑی کرے گا۔ شاید آزادی کی جنگ کے بعد پہلی بار اس نازک عمل کے دوران ترکی نے موجودہ منظرنامے میں عالمی طاقتوں کے لکھے ہوئے کردار پر چلنے کے بجائے اپنی رائے اور قوت فیصلہ سے اپنا مقام بنایا ہے”۔

دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے ترکی کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی

صدر ایردوان نے کہا: "ہمارے خطے اور دنیا میں ہونے والی پیش رفت یہ دکھاتی ہے کہ ہمارے تعمیرنو کے عہد سے گزر رہے ہیں جو آئندہ صدی کی عمارت کھڑی کرے گا۔ شاید آزادی کی جنگ کے بعد پہلی بار اس نازک عمل کے دوران ترکی نے موجودہ منظرنامے میں عالمی طاقتوں کے لکھے ہوئے کردار پر چلنے کے بجائے اپنی رائے اور قوت فیصلہ سے اپنا مقام بنایا ہے- چار پانچ سال میں ہونے والے واقعات یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ کیسے ہم پر ایک لکھا ہوا اسکرپٹ تھوپنے کی کوشش کی گئی”-

انہوں نے مزید کہا: "اس دوران دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے ترکی کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی- یہ کوشش سماجی انتشار پھیلا کر شروع کیا گیا اور پھر پی کے کے، داعش اور فیتو کے ذریعےہم پر حملےکیے گئے- ترک ریاست اور ملت نے یکجہتی سے ان چالوں کو ناکام بنا دیا”- ترک صدر نے مزید کہا: "ہر حملہ ایک لٹمس پیپرر کی طرح ہوتا ہے جو اپنا اصل رنگ دکھاتا ہے اور دہشتگردوں کا اصل مقصد بتاتا ہے- آج ہماری قوم ایک ایک بچہ جانتا ہے کہ پی کے کے دراصل صرف پی کے کے نہیں ہے- یہ تنظیم ملک کے خلاف کھیل کا ایک کردار ہے- ہماری ملت جانتی ہے کہ داعش صرف خونی قاتلوں کا گروہ نہیں جو اپنے منصوبوں کے ذریعے ہمارے مذہب کو بدنام کرنے کا آلہ کار ہے حقیقت میں ان کا ہمارے اسلام سے کوئی تعلق نہیں”-

ہماری قوم نے 17-25 دسمبر کے عمل میں فیتو کا اصل رنگ دیکھا

قوم نے فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم (فیتو) کا اصل رنگ 17-25 دسمبر کے وقت دیکھا- صدر ایردوان نے کہا کہ 15 جولائی کے بعد یہ مزید اہم ہو گیا کہ ہم اپنے ملک کو باغی تنظیموں سے صاف کریں- انہوں نے واضع کیا کہ ایک طرف وہ معصوم بنتے ہیں اور دوسری مسلسل دھمکیاں دیتے ہیں اب وہ پوری طرح آشکار ہو چکے ہیں-

دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی

ایردوان نے دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی جنگ کو پوری یکسوئی سے جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا: "شکر ہے ہمارے دوست جن میں ہمارے سپاہی، پولیس اہلکار، جینڈرمیری اور وارڈن شامل ہیں مسلسل حقاری، تیندورک، جودی اور غابار میں موجود ہیں- ہم رکیں گے نہیں، ہم ان کے خلاف کریک ڈاؤن کریں گے- پورے احترام کے ساتھ ہمیں کوئی نہ کہے کہ ‘ایسے اور ویسے’، ہم یہ جنگ جاری رکھیں گے- انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ایک شہید کا خون، سینکڑوں دہشتگردوں کے خون سے زیادہ اہم ہے”-

ہم اپنے مقاصد کی طرف بڑھتے رہیں گے

ایردوان نے اپنی تقریر کو ختم کرتے ہوئے کہا: "ہم ایک چال کے دوسری چال کو ناکام بناتے ہوئے اپنے مقاصد کی طرف بڑھتے رہیں گے- اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہر مرحلے پر اپنے مستقبل اور آزادی کے لیے فتح یاب ہوں گے”-

تبصرے
Loading...