ایسا عالمی نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں ضمیر، اخلاقیات،رحم اور انصاف غالب ہوں، صدر ایردوان

0 746

انقرہ میں 8ویں بین الاقوامی اسٹوڈنٹس گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل تک ہمیں مل جل کر انتھک محنت کرنا ہوگی کہ جس میں ضمیر، اخلاقیات،رحم اور انصاف غالب ہوں۔ اسی طرح ہم آئندہ نسلوں کے لیے ایسا ورثہ چھوڑ سکتے ہیں کہ جس پر وہ ہمیں احساسِ تشکر کے ساتھ یاد کریں گی۔”

صدر رجب طیب ایردوان ترکیہ اسکالرشپس اور8 ویں بین الاقوامی اسٹوڈنٹس گریجویشن تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

"محض اس سال میں تقریباً 1 لاکھ 47 ہزار طلبہ نے دنیا بھر سے ترکیہ اسکالرشپس کے لیے درخواست دی،” صدر ایردوان نے مزید کہا کہ یہ امر کہ زیادہ تر درخواستیں شام، فلسطین، افغانستان، یمن، عراق، صومالیہ اور میانمر جیسےممالک سے آئی ہیں کہ جہاں سنگین مسائل موجود ہیں، ظاہر کرتا ہے کہ یہ پروگرام اپنا بنیادی ہدف حاصل کر چکا ہے۔

اس پر زور دیتے ہوئے کہ ایسا کوئی چیلنج نہیں جو سیاسی، تجارتی اور عسکری جدوجہد کے اس عہد میں اتحاد و یگانگت سے حل نہیں ہو سکتا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل تک ہمیں مل جل کر انتھک محنت کرنا ہوگی کہ جس میں ضمیر، اخلاقیات، رحم اور انصاف غالب ہوں۔ اسی طرح ہم آئندہ نسلوں کے لیے ایسا ورثہ چھوڑ سکتے ہیں کہ جس پر وہ ہمیں احساسِ تشکر کے ساتھ یاد کریں گی۔”

"ہم اپنے تمام دوستوں اور بھائیوں کی آواز بننے کے لیے کام کر رہے ہیں”

"سفارت کاری اور ساتھ ساتھ معیشت میں حاصل کی گئی اپنی کامیابیوں کی بدولت آج ایسا ترکی موجود ہے جو مسئلہ فلسطین کو قبول کرتا ہے، افریقہ کی مدد کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے اور وسطِ ایشیا اور بلقان میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے کھڑا ہوتا ہے،” صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "ہم اپنے تمام دوستوں اور بھائیوں کے لیے اور اپنے لیے ہر جگہ ایک آواز بننے جا رہے ہیں، اقوام متحدہ اور جی20 سے لے کر نیٹو اور دیگر کئی بین الاقوامی تعاون کے پلیٹ فارمز پر۔ ہم ان شاء اللہ اپنے اور اپنے دوستوں کے لیے یہ پروقار رویہ اختیار کیے رہیں گے۔”

"ہم ترکی کے خلاف ناانصافی سے لڑتے ہوئے قانون کی حکمرانی، جمہوریت، اخلاقیات اور سچائی پر کسی صورت سودے بازی نہیں کریں گے،” صدر نے مزید زور دیا کہ "اپنی قدیم تاریخ سے متاثر ہوکر ہم جدید غلامی کی نہ نظر آنے والی زنجیروں کو توڑنے کے لیے تعلیم کو سب سے مؤثر گردانتے ہیں۔ اس ادراک کے ساتھ ہم اپنے لیے اور آپ کے لیے، اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے تعلیم کو اولین ترجیح بنا چکے ہیں۔”

تبصرے
Loading...