خاتونِ اوّل: ہمیں اپنی خرچ کرنے کی عادتوں کو بدلنا ہوگا

0 1,333

خاتونِ اوّل امینہ ایردوان نے اردن میں عالمی اقتصادی فورم برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ سے خطاب کیا۔ جس کے دوران اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ اردن نے شام میں خانہ جنگی کے بعد ، بالکل ترکی کی طرح، مہاجرین کے لیے پوری فراخ دلی سے اپنے دروازے کھول دیے تھے، خاتونِ اول نے کہا کہ ترکی اور اردن بالترتیب 40 لاکھ اور 13 لاکھ مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں اور یوں بین الاقوامی برادری کے بوجھ کو اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔

ترکی اور اردن نے اس مسئلے کے حوالے سے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا کہ جسے بین الاقوامی برادری محض اعداد و شمار کی صورت میں دیکھ رہی تھی۔ خاتون اوّل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "دونوں ممالک کے مخیّر افراد نے اس عظیم انسانی بحران کے مقابلے میں اپنی سخاوت اور اتحاد کے ذریعے انسانیت کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔”

بدگمانی اور خطے میں جاری تنازعات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے نوجوانوں کو درپیش رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے خاتونِ اول نے کہا کہ "اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے عوام معاشی و سماجی طور پر مضبوط ہوں تو ہمیں اپنے نوجوانوں کو ان بحرانوں کے چنگل سے نکالنا ہوگا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ مشترکہ انسانی تاریخ سے حاصل کردہ تجربات کو اپنے نوجوانوں کے عزم و حوصلے کے ساتھ ملائیں۔ میرا دل سے ماننا ہے کہ جن تمام بحرانوں کا آج ہمیں سامنا ہے ان سب سے نوجوانوں کے نئے، متحرک اور جدید زاویہ نگاہ کے ذریعے نمٹا جا سکتا ہے۔”

امینہ ایردوان نے عالمی حدّت کے خطرات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جدید انسان مختارِ کُل نہیں ہے بلکہ فطرت کا محض ایک حصہ ہے۔ ہمارے رویّے اور عادت ایک ماحول دوست معیشت کو تشکیل دینے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ انفرادی رویّوں میں تبدیلی سے ہی بہت بڑی تبدیلیوں کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں ہمیں اپنی خرچ کرنے کی عادتوں پر غور کرنا ہوگا۔”

ماحول دوست معیشت کا قیام صنعت، پیداوار اور ٹیکنالوجی میں انسانی اقدار شامل کرنے سے ہی ممکن ہے، خاتونِ اول نے اشارہ کیا اور زور دیا کہ دنیا کو ڈسپوزیبل مصنوعات کو چھوڑنا ہوگا، اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو ترجیح دینا ہوگی۔

ترکی میں ماحولیاتی تحریک، کہ جو درحقیقت خرچ کرنے کی عادات کو تبدیل کرنے پر غور کرتی ہے، کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے خاتونِ اول نے کہا کہ چیزیں کے ضیاع کو صفر کرنے کے لیے اُن کی زیر سرپرستی منصوبے کا مقصد ملک میں زندگی کے نئے کلچر کو تشکیل دینا ہے۔

اس جانب اشارہ دیتے ہوئے کہ ہدف ترکی میں نوجوانوں کو انتظامی عمل میں شامل کرنا ہے، خاتونِ اول امینہ ایردوان نے کہا کہ "ہم ایسا ملک بننا چاہتے ہیں جو نہ صرف نوجوان آبادی رکھتا ہے بلکہ انتظامی معاملات میں بھی نئی سوچ کا حامل ہے۔ ہم نے ووٹ دینے اور منتخب ہونے کی عمر بھی گھٹا کر 18 سال تک کردی ہے۔

خاتونِ اول نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہمارے خطے میں سیاسی و اقتصادی استحکام ہمارے نوجوانوں کے ایسے افراد بننے سے براہِ راست منسلک ہے کہ جو عالمی امن و ترقی میں پہلے سے مصروف ہو۔ مثال کے طور پر نیوزی لینڈ میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ہم سب کو کچھ قدم اٹھانے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ نوعمر اذہان نفرت، امتیاز اور دہرے معیارات سے کہیں دور ایک مشترکہ مستقبل کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔ اسے حاصل کرنے کے لیے ہمیں ایسی جمہوریتیں قائم کرنا ہوں گی کہ جن میں نوجوانوں کا کردار زیادہ بڑا ہو۔”

فورم کے بعد خاتونِ اول امینہ ایردوان نے عالمی اقتصادی فورم کے صدر بورژے بریندے اور ایگزیکٹو چیئرمین کلاس شواب سے ملاقات کی۔ جس میں انفرادی شعور کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میدان میں اٹھائے جانے والے مستقبل کے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔

خاتونِ اول نے بعد ازاں اپنے اعزاز میں اردن کی ملکہ رانیہ عبد اللہ کی جانب سے دیے گئے خصوصی عشائیے میں شرکت کی اور دست کاری نمائش کا بھی دورہ کیا۔

تبصرے
Loading...