ابوظہبی کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کر سکتے ہیں، صدر ایردوان

0 271

استانبول میں صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم ابوظہبی کے ساتھ تعلقات معطل کرنے یا اپنا سفیر واپس بلانے جیسے اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ اس لیےکیونکہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے نمازِ جمعہ کے بعد صحافیوں کے سوالوں کےجوابات دیے۔

"ہم غیر عسکری بحری جہازوں پر حملے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیں گے”

مشرقی بحیرۂ روم میں عروج رئیس کو یونانی بحری جہاز کی جانب سے ہراساں کرنے کے حوالے سے سوال پر صدر ایردوان نے علاقے کی مشکل صورت حال کی جانب توجہ دلائی اور عروج رئیس کو علاقے میں seismic تلاش کرنے والے اہم ترین بحری جہازوں میں سے ایک قرار دیا۔ اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ عروج رئیس 23 اگست تک مشرقی بحیرۂ روم میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اپنے کسی غیر عسکری بحری جہاز پر معمولی سے حملے پر بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اس کا بھرپور جواب دیں گے۔ یہ واقعہ گزشتہ روز پیش آيا تھا اور کمال رئیس نے اس کا بھرپور جواب دیا۔”

یونان اور مصر کے مابین خصوصی اقتصادی زون کے معاہدے کے حوالے سے ایک سوال پر صدر ایردوان نے کہا کہ "مجھے اس معاملے پر مصر کو سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ اس کے انٹیلی جنس ادارے تو ہمارے انٹیلی جنس ادارے کو کچھ اور بتا رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ‘کچھ غلط فہمیاں ہیں۔’ وہ کہہ رہے ہیں کہ ‘ہمیں ان غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا۔’ ہمارا انٹیلی جنس ادارہ ان کے انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرے گا۔”

"ہم ابوظہبی کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے جیسے اقدامات اٹھا سکتے ہیں”

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ فلسطین ممکنہ طور پر امارات میں اپنا سفارت خانہ بند کر دے گا یا اپنا سفیر واپس بلا لے گا۔ "یہی معاملہ ہمارا ہے، میں وزیر خارجہ کو ہدایات دے چکا ہوں۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہم بھی ابوظہبی سے اپنے سفارتی تعلقات معطل کرنے یا اپنا سفیر واپس بلانے جیسے اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

تبصرے
Loading...