ہم چاہتے ہیں کہ سب دیکھ لیں کہ ترکی اب وہ ملک نہیں ہے کہ جس کے صبر، عزم، صلاحیتوں اور ہمت کو پرکھا جا سکے، صدر ایردوان

0 1,506

فتحِ ملازکرد کے 949 سال مکمل ہونے پر صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی بحیرۂ روم، بحیرۂ ایجیئن اور بحیرۂ اسود میں اپنے حقوق حاصل کرکے رہے گا۔ جس طرح ہماری نظریں کسی کی سرزمین، سالمیت یا مفادات پر نہیں ہیں، اسی طرح ہم کسی کو بھی وہ حق غصب نہیں کرنے دیں گے جو ہمارا ہے۔ اس لیے ہم سیاسی، معاشی اور عسکری لحاظ سے جو بھی ضروری ہوا کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب دیکھ لیں کہ ترکی اب وہ ملک نہیں ہے کہ جس کے صبر، عزم، صلاحیتوں اور ہمت کو پرکھا جا سکے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے موش کے ضلع ملازکرد میں فتحِ ملازکرد کے 949 سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔

"ترکی بحیرۂ روم، بحیرۂ ایجیئن اور بحیرۂ اسود میں وہ سب حاصل کرکے رہے گا، جو قانوناً اس کا ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "وہ کہ جنہیں صرف ایک صدی پہلے اناطولیہ سے سر پر پیر رکھ کر بھاگنا پڑا، اب ایجیئن میں کھوکھلی بہادری دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔” انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "جو ناگزیر ہے اس سے خوفزدہ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ترکی بحیرۂ روم، بحیرۂ ایجیئن اور بحیرۂ اسود میں اپنے حقوق حاصل کرکے رہے گا۔ جس طرح ہماری نظریں کسی کی سرزمین، سالمیت یا مفادات پر نہیں ہیں، اسی طرح ہم کسی کو بھی وہ حق غصب نہیں کرنے دیں گے جو ہمارا ہے۔ اس لیے ہم سیاسی، معاشی اور عسکری لحاظ سے جو بھی ضروری ہوا کریں گے۔ ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ باہم مل کر کام کریں اور ان غلطیوں سے اجتناب کریں جو تباہی کی طرف لے جائیں گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب دیکھ لیں کہ ترکی اب وہ ملک نہیں ہے کہ جس کے صبر، عزم، صلاحیتوں اور ہمت کو پرکھا جا سکے۔ اگر ہم کہتے ہیں تو ہم کر کے دکھائیں گے، ہم کریں گے اور قیمت ادا کریں گے۔”

"ہماری ہر کامیابی نے ہمیں مستقبل پر مزید اعتماد کے ساتھ نظریں جمانے کی ہمت دی ہے”

بحیرۂ اسود میں ترکی کی جانب سے قدرتی گیس کی دریافت پر صدر ایردوان نے کہا کہ "سیاسی، معاشی اور عسکری شعبوں میں ہماری حاصل کردہ ہر کامیابی نے ہمیں مستقبل پر مزید اعتماد کے ساتھ نظریں جمانے کی ہمت دی ہے۔ قدرتی گیس کے جو ذخائر ہم نے بحیرۂ اسود میں دریافت کیے ہیں انہوں نے قوم کے مورال کو بلند کیا ہے اور انہیں وہ وسائل دیے ہیں جن کی انہیں عرصے سے ضرورت تھی۔ ان قدرتی وسائل سے جو آمدنی حاصل ہوگی وہ ہمارے تمام 83 ملین شہریوں میں معیارِ زندگي کو بہتر بنانے اور ملک کو اپنے اہداف جلد حاصل کرنے میں مدد کے لیے استعمال ہوگی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کامیابی ہمیں مزید اچھی خبروں کی طرف لے جائے گی۔”

تبصرے
Loading...