پاکستان کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو بھی سیاسی تعلقات کی سطح تک لے جانا چاہتے ہیں، صدر ایردوان

0 331

ترکی-پاکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی و اقتصادی تعلقات کو اسی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں جس سطح پر ہمارے سیاسی تعلقات ہیں۔ تجارت و سرمایہ کاری میں حالیہ اضافے کے باوجود باہمی تجارت کی حقیقی صلاحیت سے کافی دور ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے پاکستان میں ترکی-پاکستان بزنس فورم سے خطاب کیا۔

"ہم ترکی میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی اداروں اور اپنی کمپنیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے”

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ”ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی و اقتصادی تعلقات کو اسی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں جس سطح پر ہمارے سیاسی تعلقات ہیں۔ تجارت و سرمایہ کاری میں حالیہ اضافے کے باوجود باہمی تجارت کی حقیقی صلاحیت سے کافی دور ہیں۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ یہ بہت نامناسب ہے کہ ترکی اورپاکستان جیسے ممالک کہ جن کی مشترکہ آبادی تقریباً 280 ملین نفوس پر مشتمل ہے، ایک دوسرے کے ساتھ صرف 800 ملین ڈالرز کی تجارت رکھتے ہیں۔ ہمیں پہلے تو اپنی باہمی تجارت کو ایک ارب ڈالرز سے آگے لے جانا ہوگا اور پھر اسے 5 ارب ڈالرز کی سطح پر لانا چاہیے۔ بلاشبہ یہ ہدف صرف خواہش سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ہمیں پورے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے اس مشترکہ ہدف کی جانب بہت واضح اور مضبوط اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی اپنے کاروباری اداروں اور ملک میں سرمایہ کاری کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم قانونی ضابطوں کے ذریعے ہی نہیں بلکہ کارپوریٹ بنیادوں پر بھی بین الاقوامی سرمایہ کاری کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ہمارے دروازے ان سب کے لیے کھلے ہیں جو ہمارے ملک کی سرمایہ کاری صلاحیت پر بھروسہ رکھتے ہیں، اور ہم یہ دروازے کھلے ہی رکھیں گے۔ ہم مخصوص شرائط کے تحت ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے بدلے بین الاقوامی کاروباری افراد کو شہریت دیتے ہیں۔ ہمارے ملک کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے والے اور سرمایہ کاری کرنے والے کسی فرد کو کبھی مایوسی کا اظہار نہیں کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پاکستانی بھائی اور بہنیں بھی ہمارے ملک، ترک معیشت اور ترکی کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کریں۔”

تبصرے
Loading...