صدر محمد مرسی کی وفات کا سانحہ نہ بھولیں گے اور نہ کسی صورت بھولنے نہیں دیں گے، طیب ایردوان

0 1,913

بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے ملاقات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "جس طرح ہم نے اپنے ساتھی مرحوم جمال خاشقجی کی موت کو نظر انداز نہ ہونے دیا، اسی طرح کسی صورت صدر محمد مرسی کی وفات کے سانحے کو بھی نہ بھولیں گے اور نہ بھولنے دیں گے۔ ہم اس معاملے کو سب کے سامنے لانے کے لیے کام کریں گے، اور بین الاقوامی قوانین کا بھرپور استعمال کرکے اسے حتمی نتیجے تک پہنچائیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول کے دولماباخچہ محل میں بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ترک نمائندگان سے ملاقات کی۔

یہ کہتے ہوئے کہ جس خطے میں ترکی واقع ہے اور یہاں کے داخلی سیاست کے معاملے پر ہونے والی پیشرفت دونوں کی وجہ سے ترکی بہت مصروف ایجنڈا رکھتا ہے، صدر ایردوان نے یورپی ممالک میں مقیم تقریباً 55 لاکھ ترک باشندوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ترکی کے لیے یورپ، شمالی افریقہ، قفقاز، بلقان یا وسطی ایشیا میں ہونے والی پیشرفت پر لاتعلق رہنا ناممکن ہے۔

"ہم اولاً اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی کی حیثیت سے وہ لبنانی، یمنی اور مصری عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی ان ممالک کے مسائل کا ادراک اس لیے نہیں کرتا کہ وہ ماضی میں ترک ریاست کا حصہ رہے ہیں۔ "ہماری کسی پر، کسی ملک کی زمین، سالمیت یا داخلی معاملات پر نظریں نہیں ہیں۔ ہم بنیادی طور پر اپنی قومی سلامتی اور اپنے شہریوں کی جان اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتے ہیں، اور پھر اپنے خطے اور ان علاقوں کے استحکام، امن اور سکون میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں کہ جو ہمارے دل کے قریب ہیں۔”

"میرا ماننا ہے کہ اقوام متحدہ مرسی کی مشتبہ موت کو اپنے ایجنڈے پر رکھے گی”

مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی وفات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "جس طرح ہم نے اپنے ساتھی مرحوم جمال خاشقجی کی موت کو نظر انداز نہ ہونے دیا، اسی طرح کسی صورت صدر محمد مرسی کی وفات کے سانحے کو بھی نہ بھولیں گے اور نہ بھولنے دیں گے۔ ہم اس معاملے کو سب کے سامنے لانے کے لیے کام کریں گے، اور بین الاقوامی قوانین کا بھرپور استعمال کرکے اسے حتمی نتیجے تک پہنچائیں گے۔”اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ، جس نے خاشقجی کے قتل کے معاملے پر ترکی کے رویے کو مبنی بر انصاف قرار دیا، مرسی کی مشتبہ موت کو اپنے ایجنڈے پر رکھے گا اور ان کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گا، صدر ایردوان نے بین الاقوامی میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ اس معاملے سے دلیرانہ انداز سے نمٹیں اور کہا کہ "ہمیں انسانیت کے لیے ایسی مصیبتوں، سانحات اور شرمناک مناظر کو دوبارہ سامنے آنے سے روکنا ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ نہ ہی معاشروں اور نہ ہی انسانیت کو ایسے میڈیا سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے جو اپنی معقولیت کھو چکا ہے، صدر ایردوان نے زور دیا کہ وہ صحافیوں سے صرف سچ کی پیروی کی توقع رکھتے ہیں۔

تبصرے
Loading...