ہم ملک کو مستحکم انداز میں مستقبل کی سمت لے جائیں گے، صدر ایردوان

0 145

یومِ جمہوریہ پر ہونے والے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہماری عرصہ دراز سے قائم ریاست ماضی و مستقبل کے درمیان پُل کے تحفظ سے وابستہ ہے۔ 2023ء کے لیے ملک کے کے اہداف کو حاصل کرکے ہم اگلی نسلوں کو 2053ء اور 2071ء کے لیے وژنز کی تکمیل کے ذرائع دیں گے۔ ہم اپنی جمہوریہ کو زیادہ ترقی یافتہ اور مضبوط انداز میں مستقبل میں لے جائیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے انقرہ کے باش تپہ کلچر اینڈ کنونشن سینٹر میں 29 اکتوبر یومِ جمہوریہ کے استقبالیے سے خطاب کیا۔

"اعلانِ جمہوریہ کے 96 سال مکمل ہونے پر میں تمام ہیروز کو یاد کرتا ہوں، سب سے پہلے غازی مصطفیٰ کمال اتاترک کو، جنہوں نے ہماری جنگِ آزادی میں کامیابی میں اپنا حصہ ڈالا اور نئی ریاست کی بنیاد رکھی۔” صدر ایردوان نے کہا

"شام خطے میں اپنے منصوبے رکھنے والی طاقتوں کے لیے اکھاڑا بن چکا ہے”

دہشت گرد تنظیمیں، تمام تر پشت پناہی کے باوجود، ترک قوم کے مضبوط اور پرعزم رویّے کی وجہ سے ترکی کے خلاف کامیاب نہیں ہو پائیں گی، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی نے ظاہر کیا کہ جب معاملہ اس کی قومی سلامتی اور تاریخی ذمہ داریوں کا ہو تو وہ اپنے ذرائع اور اپنے ارادے سے، اور بغیر کسی کی اجازت کے، کیا کچھ کر سکتا ہے۔”

"ترکی، دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے دنیا، خاص طور پر مغربی ممالک، کے منافقانہ اور دوغلے رویّے کو آشکار کر چکا ہے،” صدر ایردوان نے کہا۔

"اگر ترکی کے علاوہ کوئی اور ملک انسانی حقوق، معصوم جانوں یا شامی لوگوں کے مستقبل کا خیال کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو مجھے صاف صاف کہنے دیں کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں میں یہ ایک مرتبہ پھر ظاہر ہو چکا ہے کہ ترکی کے سوا شام میں دلچسپی رکھنے والے ممالک کا بنیادی مقصد تیل کے ذخائر پر قبضہ جمانا ہے،” صدر ایردوان نے کہا۔

یہ کہتے ہوئے کہ شام خطے میں ایسی طاقتوں کا اکھاڑا بن چکا ہے جو اپنے اپنے منصوبے رکھتے ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی واحد ملک ہے جو شام کو دیکھتے ہوئے عوام، ان کی جانوں، اپنے بھائیوں اور بہنوں کو دیکھتا ہے جبکہ دوسرے تیل کے ذخائر اور طاقت کے حصول کے مواقع دیکھتے ہیں۔”

روس کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت

روس کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور طے شدہ زون سے دہشت گرد تنظیموں کے نکل جانے کے لیے 150 گھنٹوں کی ڈیڈلائن کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "روس نے حکام کو مطلع کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کا علاقے سے مکمل اخراج ہو گیا ہے۔”

امریکا اور روس کے ساتھ معاہدے کے تحت ڈیڈلائنز کی تکمیل اور اس کے بعد مذاکرات کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ "ان مذاکرات سے ہم جلد از جلد نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہاں ٹھہرنے کے لیے نہیں آئے۔ ہمارا صرف ایک مقصد ہے: ہم یہاں علاقے کو دہشت گرد تنظیموں سے پاک کرنے کے لیے آئے ہیں۔ کیونکہ یہ دہشت گرد تنظیمیں ہمارے ملک کو ہراساں کر رہی ہیں۔ ہم یہاں لوگوں کو ان دہشت گرد تنظیموں سے بچانے کے لیے آئے ہیں۔”

تبصرے
Loading...