ہم ‏FETO کے آخری رکن تک کو انصاف کے کٹہرے میں لانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، صدر ایردوان

0 250

شہداء اور غازیوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک ظہرانے کے دوران خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہر گزرتے دن کے ساتھ ‏FETO کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم ‏FETO کے آخری رکن تک کو انصاف کے کٹہرے میں لانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے 15 جولائی یوم جمہوریت و قومی اتحاد کے موقع پر ایوانِ صدر میں شہداء اور غازیوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک ظہرانے سے خطاب کیا۔

"15 جولائی دہشت گردی کے خلاف ترکی کی جنگ میں ایک سنگِ میل ہے”

اس امر پر توجہ دلاتے ہوئے کہ 15 جولائی نے صرف جمہوریت کو ہی مضبوط نہیں کیا بلکہ یہ دہشت گردی کے خلاف ترکی کی جنگ میں ایک سنگِ میل بھی ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی نے نہ صرف وطنِ عزیز میں بلکہ شام اور عراق میں بھی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنی تاریخ کے سب سے بڑی کارروائیاں کی ہیں، اور ان سازشوں کے خلاف بھی جو جنوب سے ترکی کو گھیرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ "مشرقی بحیرۂ روم میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے ساتھ ہم نے اپنی قوم کے ساتھ ساتھ ترک قبرص کے باشندوں کے حقوق کا دفاع کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔”

"بیرونِ ملک 100 سے زیادہ مفرور ‏FETO کے رکن دہشت گرد گرفتار ہوئے”

فتح اللہ دہشت گرد تنظیم (FETO) کے خلاف بیرونِ ملک ترکی کی جنگ کے حوالے سے صدر ایردوان نے بتایا کہ بیرونِ ملک مفرور100 سے زیادہ FFTO کے رکن گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لائے گئے ہیں۔ "ہم اسکول، کورس یا کلچرل سینٹر کی آڑ میں مختلف ملکوں میں فتنہ پھیلانے والے ان ٹھکانوں کے خلاف بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے 18 ملکوں میں اس تنظیم سے وابستہ 214 اسکولوں کی ترک معارف فاؤنڈیشن کو منتقلی اور 36 دوسرے ملکوں میں فتنے کے ایسے مراکز کی بندش کو یقینی بنایا ہے۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ دوست اور برادر ممالک کی جانب سے ‏FETO کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہر گزرتے دن کے ساتھ ‏FETO کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم ‏FETO کے آخری رکن تک کو انصاف کے کٹہرے میں لانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”

تبصرے
Loading...