ہم وہ سب کچھ کرتے رہیں گے جسے ہم انسانیت کے لیے بہتر سمجھتے ہیں، صدر ایردوان

0 219

آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "ہم میدان میں موجودگی کے ساتھ اپنی سفارتی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے وہ سب کچھ کرتے رہیں گے جسے ہم اپنے، اپنے دوستوں اور پوری انسانیت کے لیے بہتر، موافق اور مناسب سمجھتے ہیں۔”

صدر اور انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کیا ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم چین، روس، امریکا اور یورپی یونین میں بننے والی تمام ویکسینز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم ان میں سے کچھ کا پہلے ہی آرڈر دے چکے ہیں۔ ان شاء اللہ ہمیں امید ہے کہ اگلے مہینے کے آخر تک ویکسین کا پہلا مرحلہ ہو جائے گا۔” ترکی میں مقامی طور پر ویکسین پر ہونے والی تحقیق میں نمایاں پیش رفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کم از کم اگلے سال اپریل تک اس ویکسین کے عوامی سطح پر پیش کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ہم یہ آواز اٹھاتے رہے ہیں کہ ویکسین کو تحقیق کو سیاسی و کمرشل مقاصد پر قربان نہیں ہونا چاہیے، اور یہ پوری انسانیت کی یکساں ملکیت ہونی چاہئیں۔ ہم ان شاء اللہ جو ویکسین بنا رہے ہیں اسے پوری انسانیت کے استعمال کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ مختلف ملکوں کے لیے محض خود کو محفوظ بنانے کی کوئی تُک نہیں بنتی جب تک کہ پوری دنیا وباء کے خطرے سے نمٹ نہ لے۔”

"وباء نے موجودہ عالمی نظام کے تاریک پہلوؤں کو ظاہر کر دیا ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے بارہا اداروں، خاص طور پر اقوام متحدہ، میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ جو انسانیت کے یکساں مسائل کو حل کرنے، حقوق اور انصاف کو یقینی بنانے میں غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔”

"موجودہ عالمی معاشی ڈھانچے کے لیے ناممکن ہے کہ وہ لوگوں یا فطرت کا تحفظ کر سکے، کیونکہ یہ جاہ طلبی، غلبہ، انصاف و بغیر محنت کے آمدنی کے حصول پر بنا ہوا ہے۔ وباء نے نہ صرف اس نظام کے تاریک پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے، بلکہ پوری انسانیت کو یاد دلایا ہے کہ وہ ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ اب بہتر سمجھ آتا ہے کہ ہمارا ‘دنیا پانچ سے کہیں بڑی ہے’ کا مطالبہ کتنا درست ہے، کہ جو ہم اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح شام سے لیبیا اور مشرقی بحیرۂ روم سے نگورنو-قاراباخ، عراق اور فلسطین جیسے مختلف محاذوں پر ترکی حقوق، آزادی اور انصاف کی جو جدوجہد کر رہا ہے اس کی اہمیت اب ظاہر ہو چکی ہے۔”

حقوق اور انصاف کی بنیاد پر ترکی کو جس تنقید بلکہ کردار کشی کا سامنا ہے وہ نامناسب ہے، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمیں معلوم ہے کہ ان غلیظ مہمات کے پیچھے کون ہے کہ جس میں ہمارے ملک کو اور مجھے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی خطے کے مسائل حل کرتے ہوئے، عالمی نظام کی ناانصافیوں پر آواز اٹھاتے یا بحرانوں میں مداخلت کرتے ہوئے کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں رکھتا، صدر ایردوان نے کہا کہ "جیسا کہ میں پہلے بھی کئی مواقع پر کہہ چکا ہوں کہ ہماری کسی ملک کی سرزمین، سالمیت یا داخلی معاملات پر نظریں نہیں ہیں۔ ہم صرف اپنی قومی سلامتی، اپنے شہریوں کی جانوں اور املاک کا تحفظ اور خطے اور جن ممالک سے ہم لگاؤ رکھتے ہیں، ان کی سلامتی، سکون اور داخلی امن میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔”

"ترکی نیٹو کا واحد ملک ہے کہ جو شام میں داعش سے دوبدو لڑتا ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "اس عزم کے ساتھ ہم بین الاقوامی برادری کو درپیش نئے چیلنجز کے سامنے نمایاں ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے، علاقائی تنازعات کو روکنے اور استحکام کو بڑھانے کے لیے اپنی پوری کوششیں کی ہیں۔ ہم نیٹو کا واحد ملک ہیں کہ جو شام میں داعش سے دست بدست لڑتا ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ متعدد ممالک، جو دہشت گردی سے روابط رکھنے والے لوگوں کا کھوج لگانے میں ناکام رہے کہ جنہیں ترکی نے شناخت اور جلاوطن کیا، اپنی سرزمین پر حملے روکنے میں ناکام ہوئے اور اس کا الزام اسلام اور مسلمانوں پر ڈالنے کی کوشش کی۔

شام کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی مسئلہ شام کے فوری اور منصفانہ حل کو یقینی بنانے کے لیے ہر قدم کی تائید کے لیے تیار ہے۔

"ہم مشرقی بحیرۂ روم میں ہمیشہ متحمل مزاج اور پرسکون رویہ اختیار کیا ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ لیبیا کی قومی گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ کو جو تربیت اور مشاورت ہم نے فراہم کی، اس کی وجہ سے یہ ملک خانہ جنگی کے گڑھے میں گرنے سے بچا، یوں اقوام متحدہ کے تحت سیاسی عمل کی راہ ہموار ہوئی۔” صدر ایردوان نے کہا کہ "یونان اور یونانی قبرص کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود ہم نے ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھا اور مشرقی بحیرۂ روم کے معاملے پر متحمل مزاجی اختیار کی۔”

ترکی کے سویلین بحری جہاز کا ذکر کرتے ہوئے کہ جو لیبیا کے لیے انسانی امداد لے جا رہا تھا اور ترکی کے صابرانہ رویے کے باوجود حال ہی میں حملے کا نشانہ بنایا گیا، صدر ایرودان نے کہا کہ "بین الاقوامی بحری قوانین میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔ اس کا کپتان یونانی تھے۔ بدقسمتی سے انہوں نے جہاز میں داخل ہونے کے بعد اس کے سویلین عملے کو ہراساں کیا۔ یہ سب کچھ وڈیو ریکارڈز سے ثابت ہوتا ہے۔”

"ہم نے نگورنو-قاراباخ پر 30 سال پرانا قبضہ ختم کروانے میں اپنا حصہ ڈالا”

نگورنو-قاراباخ پر 30 سال پرانا قبضہ ختم کروانے میں ترکی کے کردار پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ہمارے ملک کی سپورٹ کی وجہ سے آذربائیجان کے علاقے قرہ باخ سے آرمینیا کا قبضہ ختم ہوا، اور پہلی بار ایک دیرپا حل کی امید پیدا ہوئی۔ ” منسک گروپ کے چند شریک چیئر ممالک، کہ جو ماضی قریب میں مسئلے کے حل کے لیے دور دور تک موجود نہ تھے بلکہ معاہدے کے برخلاف آرمینیا کی پشت پناہی کر رہے تھے، ان کی جانب سے تنقید پر صدر ایردوان نے کہا کہ "گزشتہ شب ہمیں روس کے صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ ان معاملات پر تفصیل سے گفتگو کا موقع ملے۔ ہم نے بات کی کہ اس عمل کے دوران ممکنہ طور پر کون سے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اس گفتگو کے ساتھ ہم نے خطے میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھا لیے ہیں۔ ہمارے پاس آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا موقع بھی موجود ہے۔”

عام مسائل کے عام حل تلاش کرنے میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کی تحاریک کے لیے راہ ہموار کرنے اور بحران کو مزید گمبھیر بنانے والوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم یورپ کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوغلے طرزِ عمل کے نتائج کی بھاری قیمت معصوم لوگوں سے وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کہ اپنے خطرناک طریقے کو فوراً ختم کریں۔ ہمیں امید ہے کہ جلد ہی انہیں سمجھ آ جائے گا کہ الزام اسلام یا مسلمانوں پر نہیں بلکہ اس مسخ شدہ نظام پر پر کہ جو دنیا میں بہت عرصے سے رائج ہے۔ ہم عالمی سیاسی و معاشی نظام کی دوبارہ تعمیر کے عمل کو تیز کرنے والی وباء کے بعد کم سے کم نقصان سے اپنا حصے کا کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم میدان میں موجودگی کے ساتھ اپنی سفارتی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے وہ سب کچھ کرتے رہیں گے جسے ہم اپنے، اپنے دوستوں اور پوری انسانیت کے لیے بہتر، موافق اور مناسب سمجھتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...