رنگ، نسل اور عقائد سے بالاتر ہوکر مظلوموں کا ساتھ دیں گے، ایردوان

0 435

موکوگاوا ویمنز یونیورسٹی میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہم بحیثیتِ ترکی، مظلوم اور بے انصافی کے شکار افراد کے ساتھ کھڑے رہیں گے، چاہے ان کی نسلی شناخت، عقائد اور جلد کی رنگت کوئی بھی ہو۔ حقوق، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے ہم اس بھیانک عہد میں انسانیت کا ضمیر بنیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان، جو G20 اوساکا اجلاس میں شرکت کے لیے جاپان میں موجود ہے، موکوگاوا ویمنز یونیورسٹی میں خطاب کیا کہ جہاں انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری پیش کی گئی۔

"ترکی اور جاپان کی دوستی قابلِ قدر ہے”

ترکی اور جاپان کے درمیان دوستی اور قریبی تعاون کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ مختلف ثقافتوں، مذاہب اور زبانیں رکھنے والے کوئی بھی دوسرے ممالک اتنی قربت اور محبت نہیں رکھ سکتے۔

"ترکی اور جاپان کے درمیان دوستی کی بنیادیں 129 سال قبل سانحہ ارطغرل بحری جہاز کے بعد پڑیں کہ جب 532 ترک جہاز راں شہید ہوئے تھے،” صدر ایردوان نے کہا۔ "ہم، سیاست دان کی حیثیت سے، اور آپ بحیثیت دانشور، اس قدیم دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے ذمہ دار ہیں، جس کی بنیاد 532جہاز رانوں کی قربانی پر پڑی اور پھر یہ نئی نسلوں کو منتقل ہوئی۔ ترکی اور جاپان کے درمیان سیاسی تعاون کو بہتر بنانا اور تزویراتی شراکت داری کی بنیادوں کو مضبوط کرنا اس لیے بہت اہم ہے۔”

ہر شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بڑھانے کے لیے وزیر اعظم جاپان شنزو ایبے کے ساتھ بات کرنے کا کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ 2019ء کو جاپان میں ترک ثقافتی سال کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے دوران سال بھر ترکی کے عظیم ثقافتی ورثے کو جاپانی عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے تقاریب ہوتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس پروگرام کے تحت ایرا گولر نمائش کا افتتاح کریں گے اور جاپانی عوام کو اس نمائش میں شرکت کے لیے مدعو بھی کیا۔

"حالیہ چند سالوں میں ترکی کے خطے میں افسوس ناک واقعات پیش آئے ہیں”

جس خطے میں ترکی واقع ہے، اس میں حالیہ چند سالوں میں افسوس ناک واقعات پیش آئے ہیں جن کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمیں شام میں 8 سال سے جاری خانہ جنگی اور افغانستان سے ایران، شمالی افریقہ سے یمن اور لیبیا تک پھیلے بحران سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی نے 36 لاکھ شامی مہاجرین اور افغانستان سے تقریباً 4 لاکھ مہاجرین کا خیر مقدم کیا، صدر ایردوان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ترکی شامی مہاجرین پر 37 ارب ڈالرز سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ "آپ کو بتاتا چلوں کہ ہمیں اس کام کے لیے امداد کتنی ملی، اوسطاً 2 ارب یوروز۔ بدقسمتی سے ہمارے بیشتر مغربی پڑوسیوں نے اونچی دیواروں اور خار دار تاروں کے پیچھے چھپنے کا انتخاب کیا۔ ان والدین کی آہیں، جو اپنے گودوں میں معصوم بچوں کو اٹھائے ہوئے تھے ان کو جگا سکیں اور نہ ہی قید خانوں کے اندر ہونے والے مظالم کی تصاویر یا معصوم بچوں کے آنسو ان کے لیے کافی ثابت ہوئے۔”

"ترکی گزشتہ 17 سال سے خواتین کے حقوق پر تاریخی اصلاحات کر رہا ہے”

دنیا بھر میں بحرانوں سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوتی ہیں، اس امر پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اس عہد میں جب امتیاز اپنے عروج پر ہے، خواتین کے حوالے سے ایسی پالیسیاں بڑے پیمانے پر بن رہی ہیں اور خاندان کا تصور ختم ہو رہا ہے، ہم بحیثیت ترکی 17 سالوں میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کئی تاریخی اصلاحات کر چکے ہیں۔ ذاتی طور پر میں ہمیشہ خواتین کی طاقت میں اضافہ کرنے اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کو اہمیت دیتا ہوں۔ ان تمام کامیابیوں کے پیچھے جو میں نے اپنی 40 سالہ سیاسی زندگی میں حاصل کی ہے خواتین کی کوششیں، جدوجہد اور قربانیاں شامل ہیں۔”

ترکی میں سرکاری ملازمتوں میں عورتوں کی شرح 38 فیصد ہے، جبکہ لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت 28 سے 34 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور عورتوں میں روزگار بھی 25 سے بڑھ کر تقریباً 30 فیصد ہو گیا ہے۔ صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "یہ اہم اعداد و شمار ہیں لیکن ہماری نظر میں کافی نہیں۔ ہم یہ یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے کہ خواتین تمام شعبہ ہائے زندگی میں جن مواقع کی مستحق ہیں، وہ ان کو ملیں۔ چاہے حالات کیسے بھی ہوں، ہم بحیثیتِ ترکی، مظلوم اور بے انصافی کے شکار افراد کے ساتھ کھڑے رہیں گے، چاہے ان کی نسلی شناخت، عقائد اور جلد کی رنگت کوئی بھی ہو۔ حقوق، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے ہم اس بھیانک عہد میں انسانیت کا ضمیر بنیں گے۔”

صدر ایردوان نے خاتونِ اول امینہ ایردوان کے ہمراہ ایک چائے کی دعوت میں بھی شرکت کی جو موکوگاوا ویمنز یونیورسٹی میں ہونے والے پروگرام کا حصہ تھی۔

تبصرے
Loading...