ترکی کو عظیم تر بنانے کا اتاترک کا خواب پورا کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے، صدر ایردوان

0 69

اتاترک کی برسی کے موقع صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ترکی کو اتاترک کے اہداف کے مطابق جدید تہذیب کی سطح پر لانے کے لیے ہر سرمایہ کاری کریں گے، ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور جس کے خلاف ضرورت پڑی جدوجہد کریں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے غازی مصطفیٰ کمال اتاترک کی 83 ویں برسی کے موقع پر ایک خصوصی تقریب سے خطاب کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز ان الفاظ میں کیا کہ "میں جنگِ آزادی کے کمانڈر اور ہماری جمہوریہ کے بانی غازی مصطفیٰ کمال اتاترک کی 83 ویں برسی کے موقع پر انہیں پورے احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ جنگ ملازکرد سے لے کر آج تک اس سرزمین کو مادرِ وطن بنانے کے لیے جنگیں لڑنے اور بلا جھجک جان دینے والے شہیدوں، غازیوں اور بہادروں پر اپنا رحم و کرم کرے۔”

"ہم نے ایسا ترکی بنانے کے لیے کام کیا جو عالمی طاقتوں میں اپنا مقام رکھتا ہے”

قومی اسمبلی کے پہلے دن سے آج تک جمہوریہ کی حمایت، ترقی اور پیش رفت کے لیے کام کرنے والے ہر فرد خاص طور پر بانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم جمہوریت کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے پر اس ملک کو اپنی قوم کے خوابوں اور اپنے آبا و اجداد کے ورثے کے شایانِ شان بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے ہر شعبہ زندگی میں تعلیم سے لے کر صحت عامہ، تحفظ سے لے کر ٹیکنالوجی تک زبردست بنیادی ڈھانچا مرتب کر کے ایسا ترکی بنایا ہے جو اپنی سیاسی اور معاشی طاقت کے ذریعے دنیا کے بڑے ممالک میں ایک مقام رکھتا ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "مصطفیٰ کمال نے قوم کی جدوجہدِ آزادی میں اور اس کے مستقبل کے لیے جہاں ضرورت پڑی جنگ لڑی۔ اس کے علاوہ انہوں نے آئندہ پیش رفت کے حوالے سے یورپ اور دنیا پر کڑی نظر رکھی۔”

"ہم 2023ء کے لیے ترکی کے اہداف حاصل کریں گے”

صدر ایردوان نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "جی ہاں، غازی مصطفیٰ کمال پاشا کا یہ سفر آج کے ترکی کا نقشہ راہ ہے۔ ترکی آج شام میں بھی ہے۔ ترکی آج لیبیا میں بھی ہے۔ ترکی آج قفقاز میں بھی ہے۔ آج ترکی یورپ اور دنیا میں ایک بھرپور سفارتی مہم چلا رہا ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ترکی کو اتاترک کے اہداف کے مطابق جدید تہذیب کی سطح پر لانے کے لیے ہر سرمایہ کاری کریں گے، ہر ممکن قدم اٹھائیں گے اور جس کے خلاف ضرورت پڑی جدوجہد کریں گے۔ اللہ کی مدد اور قوم کی تائید سے ہم 2023ء کے لیے ترکی کے اہداف حاصل کر کے رہیں گے اور نئی نسل کو 2053ء کے لیے نیا وژن دیں گے۔”

تبصرے
Loading...