معمولاتِ زندگی کی طرف مرحلہ واپسی شروع ہو جائے گی، صدر ایردوان

0 284

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ” معمولاتِ زندگی کی طرف ہماری مرحلہ وار واپسی شروع ہو جائے گی۔ لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ دنیا بھر کی طرح ہمارے ملک میں بھی زندگی اس طرح ‘نارمل’ نہیں ہوگی، اور نہ ہو سکتی ہے، جیسا کہ پہلے تھی۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد بذریعہ وڈیو کانفرنس اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

"ہم نے مرض کی تشخیص اور علاج کے لیے اپنے طریقے بنا لیے ہیں”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ بحیثیت ریاست و قوم ترکی نے COVID-19 کے خلاف ایک مثالی جنگ لڑی ہے، وہ بھی اس وقت میں جب بیشتر ترقی یافتہ ممالک بھی صورت حال قابو کرنے میں مشکلات سے دوچار رہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے مرض کی تشخیص اور علاج کے لیے اپنے طریقے بنائے ہیں اور انہیں عملی صورت دی ہے۔ اس طرح ہم نے شرحِ اموات کو محدود رکھا اور مرض کے پھیلاؤ کو کامیابی سے روکا ہے۔ ملک میں اب نئے مریضوں کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہے۔ جبکہ انتہائی نگہداشت کے مریضوں کی تعداد بھی مسلسل کم ہو رہی ہے، صحت یاب ہونے والے مریض بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت تمام ہیلتھ کیئر ورکرز کی زبردست کوششوں کی وجہ سے ہمارے ہسپتالوں میں ایک بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ”

بیرونِ ملک کوششوں پر بھی توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اپنے بنائے گئے مخصوص فضائی راستوں سے تقریباً 65 ہزار شہریوں کو وطن واپس لائے۔ صرف 16 اپریل کے دن ہی ملک میں واپس لائے جانےوالے افراد کی تعداد ہی 29 ہزار تھی۔” صدر ایردوان نے مزید کہا کہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ترکی نے 57 مختلف ممالک کو طبّی امداد بھی فراہم کی، جن میں آخری ملک صومالیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ادویات اور ویکسین کی تیاری کے لیے بھی بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ ” معمولاتِ زندگی کی طرف ہماری مرحلہ وار واپسی شروع ہو جائے گی۔ لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ دنیا بھر کی طرح ہمارے ملک میں بھی زندگی اس طرح ‘نارمل’ نہیں ہوگی، اور نہ ہو سکتی ہے، جیسا کہ پہلے تھی۔”

"لیبیا کی سلامتی پورے شمالی افریقہ اور بحیرۂ روم کی سالمیت کے لیے ضروری ہے”

لیبیا میں ہونے والی تازہ پیش رفت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی کی سپورٹ کی بدولت لیبیا کو قانونی حکومت ملی ہے، باغی جرنیل میدان چھوڑ رہے ہیں۔ صدر ایردوان نے کہا کہ "باغی خلیفہ حفتر کو لامحدود مالی مدد اور ہتھیار دینے والے ممالک کی کوششیں بھی اسے بچانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی کہ جو اس وقت اپنے مقبوضہ علاقوں میں بھی عوام کی مزاحمت کا سامنا کر رہا ہے۔ ہم ان شاء اللہ لیبیا سے جلد ہی اچھی خبر دیں گے۔ لیبیا کی سالمیت و امن اور لیبیا کے عوام کی ترقی شمالی افریقہ اور بحیرۂ روم کے علاقے کی سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے ہمیں لیبیا کی قانونی حکومت کے لیے اپنی مدد جاری رکھتے ہوئے اس علاقے کو ایک مرتبہ پھر امن کے خطے میں تبدیل کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔”

تبصرے
Loading...