‏2023ء تک آذربائیجان کے ساتھ تجارتی حجم کو 15 ارب ڈالرز تک پہنچائیں گے: صدر ایردوان

0 152

آذربائیجان کے صدر الہام علیف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "2019ء میں ہم تقریباً 4.5 ارب ڈالرز کا تجارتی حجم رکھتے تھے۔ ہمارا ہدف 2023ء تک اس کو 15 ارب ڈالرز تک لے جانا ہے۔ ہمیں اس ہدف کو حاصل کرنا چاہیے۔”

صدر رجب طیب ایردوان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیف نے ترکی-آذربائیجان اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کونسل کے اجلاس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

"ہم ہر شعبے میں آذربائیجان کے ساتھ تعاون کو بڑھائیں گے”

ترکی-آذربائیجان اعلیٰ سطی تعاون کونسل کے آٹھویں اجلاس کی صدارت صدر رجب طبی ایردوان نے اہم آذربائیجانی ہم منصب کے ساتھ کی، جس کے بعد صدر ترکی نے کہا کہ اجلاس کے دوران دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر جن 14 دستاویزات پر دستخط کیے گئے ان پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے اشارہ دیا کہ ان دستاویزات میں ترجیحی تجارت کا معاہدہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔”2019ء میں ہم تقریباً 4.5 ارب ڈالرز کا تجارتی حجم رکھتے تھے۔ ہمارا ہدف 2023ء تک اس کو 15 ارب ڈالرز تک لے جانا ہے۔ ہمیں اس ہدف کو حاصل کرنا چاہیے۔اس سلسلے میں جس ترجیحی معاہدے پر ہم نے آج دستخط کیے ہیں وہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہم کسٹمز سے لے کر زراعت، توانائی سے ذرائع نقل و حمل اور ٹیکنالوجی سے لے کے سیاحت تک ہر شعبے میں اپنے تعاون کو بہتر بنائیں گے۔”

"ترکی اور آذربائیجان استحکام کے روشن مینار بن کر کھڑے ہیں”

ترکی اور آذربائیجان استحکام کے روشن مینار بن کر کھڑے ہیں حالانکہ ان کے اردگرد کا خطہ دہشت گردی اور سلامتی کے مسائل سے دوچار ہے، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ دونوں ممالک کے فوجی و دفاعی صنعت کے شعبوں میں اظہارِ یکجہتی اور تعاون کو آزادی کی ضمانت قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اس سلسلے میں دفاعی صنعت میں دونوں کے مابین تعاون کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ آپریشن چشمہ امن سے پوری دنیا نے ایک مرتبہ پھر دیکھا کہ ترکی اور آذربائیجان، اپنی حکومتوں اور عوام کے ساتھ مل کر، ‘ایک قوم، دو ملک’ ہیں۔”

"قراباخ کا مسئلہ ترکی کے لیے بھی اتنا ہی تشویش کا باعث ہے جتنا آذربائیجان کے لیے”

قراباخ کا مسئلہ ترکی کے لیے اتنا ہی تشویش ناک ہے جتنا کہ آذربائیجان کے لیے، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہماری سب سے بڑی خواہش ہے کہ نگورنو قراباخ کا مسئلہ آذربائیجان کی علاقائی سالمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حل ہو۔ ہم حق حاصل کرنے کی جنگ میں آذربائیجان کی حمایت جاری رکھیں گے۔”

تبصرے
Loading...