ہم علاقائی مسائل پر جرمنی کے ساتھ مکالمہ جاری رکھیں گے، صدر ایردوان

0 114

جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکیل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم علاقائی مسائل پر جرمنی کے ساتھ مکالمہ جاری رکھیں گے۔ جن مسائل پر ہم نے آج گفتگو کی ہے، مجھے امید ہے کہ اُن پر پیش رفت ہمارے دو طرفہ تعلقات اور یورپی یونین میں شمولیت کے عمل میں اپنا کردار ادا کرے گی۔”

صدر رجب طیب ایردوان اور جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکیل نے روبرو اور وفود کے مابین ملاقات کے بعد استنبول میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

"ہم نے علاقائی صورت حال پر گفتگو کی”

جرمن چانسلر مرکیل کے ساتھ ترکی-جرمنی دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر گفتگو کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم متفقہ رائے رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات برقرار رہنا ترکی اور جرمنی کے ساتھ ساتھ خطے کے لیے بھی مفید ہے۔”

آپریشن چشمہ امن کے تناظر میں حالیہ چند مہینوں میں جرمنی میں ترک شہریوں پر دہشت گرد تنظیموں کے حامیوں کی جانب سے حملوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "میں ایک مرتبہ پھر ان حملوں کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان حملوں کو کیسے نظر انداز کیا گیا، بلکہ انہیں جمہوری حق کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہم جرمنی سے خاص طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان واقعات کے ذمہ داران کو سزا دے اور ایسے واقعات کو برداشت نہ کرے۔”

"یہ یورپی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ شامی باشندوں کے لیے اپنی امداد میں اضافہ کریں”

شامی باشندوں کی ہجرت کا زیادہ تر بوجھ ترکی اور جرمنی اٹھائے ہوئے ہیں، اس جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "یہ سب سے بڑھ کر یورپی یونین اور یورپی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ شامی باشندوں کے لیے اپنی امداد کو بڑھائیں اور تیز تر کریں۔”

برلن عمل کے ذریعے لیبیا مسئلے کا کوئی حل نکالنے کے لیے کوششوں پر جرمن چانسلر کو سراہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی اُن اہم ممالک میں سے ایک ہے جو اس منصوبے پر جرمنی کی مؤثر اور مخلصانہ حمایت کر رہے ہیں، "جنگ بندی کے لیے روسی صدر کے ساتھ مل کر مشترکہ مطالبے اور ہمارے سفارتی منصوبوں سے پیدا ہونے والے نسبتاً پر سکون ماحول نے برلن کانفرنس کے انعقاد میں اپنا کردار ادا کیا۔ لیبیا کی جائز حکومت کی مدد کا مقصد خون خرابے سے بچنا اور سیاسی عمل کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ کوئی انتخاب نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2259 کے تحت ایک ذمہ داری ہے کہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کی حمایت کی جائے۔”

"ترکی اور جرمنی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو اہمیت دیتے ہیں”

ایران اور عراق میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے موضوع پر صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی اور جرمنی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں اور فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عقلِ سلیم کا استعمال کریں، اور یہ کہ "ہم علاقائی مسائل پر جرمنی کے ساتھ مکالمہ جاری رکھیں گے۔ جن مسائل پر ہم نے آج گفتگو کی ہے، مجھے امید ہے کہ اُن پر پیش رفت ہمارے دو طرفہ تعلقات اور یورپی یونین میں شمولیت کے عمل میں اپنا کردار ادا کرے گی۔”

پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں کی جانب سے ادلب میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے سوال پر صدر ایردوان نے کہا کہ تقریباً 4 لاکھ افراد وہاں سے ترکی کی سرحدوں کی جانب رواں ہیں اور ترک ہلالِ احمر اور ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ پریزیڈنسی (AFAD) ان کے لیے پناہ گاہیں بنانے کا کام کر رہی ہیں۔ سیف زون کے لیے ترکی کے منصوبوں کی تیاری پر صدر ایردوان نے کہا کہ مستقل رہائشی مقامات بنانے کی سمت قدم لازماً اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور روس سے مذاکرات کے باوجود علاقے سے PYD/YPG دہشت گرد تنظیم کا خاتمہ ابھی باقی ہے ۔ صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی آپریشن چشمہ امن کے علاقے میں دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا۔

تبصرے
Loading...