ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، چاہے ہمارے اتحاد کو ختم کرنے کی کوششیں کرنے والے کچھ بھی کرلیں، صدر ایردوان

0 889

رجب طیب ایردوان نے برلک فاؤنڈیشن کے روایتی افطار سے خطاب کیا اور حالیہ کچھ عرصے میں قومی مقاصد اور ترک جمہوریت کو ہدف بناتے ہوئے کیے گئے حملوں کے مقابلے میں برلک فاؤنڈیشن کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ "ہم اپنے مبارک مقاصد پر باہمی اتحاد و اتفاق میں مزید اضافہ کریں گے اور اس اتحاد کو توڑنے کی کوششوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور اپنے اہداف سے کبھی نظریں نہیں ہٹائیں گے۔”

"بدقسمتی سے ایک مرتبہ پھر رمضان میں خطے میں ظلم اور ستم سر اُٹھا رہا ہے”

رمضان کے مقدس مہینے کو اتحاد و یگانگت کا مہینہ قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ اسلام اور انسانیت کے دشمن ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی مسلمانوں کی رمضان کی خوشیاں غارت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے۔ صدر نے کہا کہ "اسرائیلی انتظامیہ ایک مرتبہ پھر غزہ پر بمباری کر رہی ہے، جو محاصروں اور پابندیوں کی وجہ سے ایک کھلا قید خانہ بن چکا ہے۔ شام کی خوں آشام حکومت رمضان کے اِن ایام میں بھی ادلب کے ہسپتالوں اور اسکولوں کے ساتھ ساتھ شہریوں پر بھی بیرل بم برسانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کر رہی۔ یمن میں لاکھوں بچے ایک غلیظ جنگ کا شکار بن کر قحط سے متاثر ہو رہے ہیں۔ لیبیا میں محض تیل کے کنوؤں کی خاطر ایک کرائے کے قاتل کے مظالم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایک بار پھر بدقسمتی سے رمضان کے مہینے میں اراکان سے لے کر صومالیہ اور افغانستان سے عراق تک ہم مظلوموں کی سسکیاں سن رہے ہیں اور جنگ کا اٹھتا ہوا دھواں دیکھ رہے ہیں۔”

"اسرائیلی انتظامیہ اس حد تک چلی گئی ہے کہ میڈیا اداروں اور انسانی امدادی تنظیموں کے دفاتر کو بھی ہدف بنانے لگی ہے”

اسرائیلی انتظامیہ کے حملوں کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی خاموشی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "بین الاقوامی برادری کی خاموشی سے حوصلہ پاکر اسرائیلی انتظامیہ اس حد تک چلی گئی ہے کہ اب میڈیا اداروں اور انسانی امدادی تنظیموں کے دفاتر کو بھی نشانہ بنا رہی ہے جیسا کہ انہوں نے ابھی ہماری انادولو ایجنسی کو ہدف بنایا۔ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ ہر اس ادارے کے دشمن ہیں جو ان کی گھٹیا حرکات دنیا کے سامنے لاتا ہے۔”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ آزادئ صحافت پر ترکی کو تنقید کا نشانہ بنانے والی کوئی بھی تنظیم اسرائیلی اقدامات پر زبان نہیں کھولتی، صدر ایردوان نے کہا کہ ایسا موقف نہ صرف دُہرے معیارات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مظالم میں شراکت دار بھی بناتا ہے۔

"ایسے ہی دہرے معیارات دہشت گردی سے لے کر بغاوت تک ہر معاملے میں نظر آتے ہیں،” صدر نے کہا "جو ہمیں جمہوریت پر لیکچر دیتے ہیں اس خونی بغاوت کے منصوبہ سازوں کو پناہ دے رہے ہیں کہ جس میں ہمارے 251 شہری شہید ہوئے۔ وہ جو انسانی حقوق کی باتیں کرتے ہیں اُن دہشت گرد تنظیموں کے رہنماؤں کی راہ میں سرخ قالین بچھاتے ہیں کہ جنہوں نے شام میں لاکھوں معصوم شہریوں کا قتلِ عام کیا۔ جو امن کی بات کرتے ہیں وہ محض اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہمارے خطے کو، یمن سے لے کر لیبیا تک، خون میں ڈبونے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ جو انصاف اور آزادی کی بات کرتے ہیں وہ مصر میں فوجی عدالتوں کی جانب سے سجائے گئے پھانسی گھاٹوں پر خاموش رہتے ہیں؛ جبکہ یورپی یونین کی رکن ریاستیں اسی سیسی کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ کر مستقبل کے اقدامات طے کرتی ہیں۔ یہ منافقانہ رویہ تمام معاملات میں ظاہر ہیں، نیوزی لینڈ میں سنگین حملوں سے لے کر جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل تک میں۔”

تبصرے
Loading...