ہم انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ترکی کو ایک اہم ملک بنائیں گے، طیب ایردوان

0 144

ترکی کی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT) کے نئے صدر دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "مستقبلِ قریب میں ہم ترکی کو دوسرے تمام شعبوں کی طرح انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی دنیا کے اہم ترین ملکوں میں سے ایک بنائیں گے۔ ہم ترکی کو ایسا ملک بنانے کے لیے شبانہ روز محنت کریں گے کہ جو ہائی ٹیک مصنوعات خود ڈیزائن کرے، ان کو بہتر بنائے، تیار اور برآمد کرے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ترکی کی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT) کے نئے صدر دفتر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کیا۔

سائبر حملوں کے خلاف ترکی کی بہتر تیاری کے لیے نئے صدر دفتر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے صدر مملکت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمیونی کیشن انڈسٹری کو دنیا کا سب سے زیادہ تیزی سے ابھرنے والا شعبہ قرار دیا۔

"ہمارے الیکٹرانک سسٹمز کا تحفظ ملکی سرحدوں کی سلامتی جتنا اہم ہے”

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سکیورٹی پہلو اور ملکی دفاع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کو ٹیکنالوجی تیار اور فروخت کرنے والا ملک بنانے کے ہدف کے ساتھ قومی ٹیکنالوجی کا ایک منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔

ترکی کو حال ہی میں ایک لاکھ 36 ہزار سائبر حملوں کا ہدف بنایا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ترکی ایسے حملوں کا سامنا کرنے والے دنیا کے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے الیکٹرانک سسٹمز اور اُن سسٹمز پر موجود ڈیٹا کا تحفظ بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے، جتنی ہماری سرحدوں کی حفاظت ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں قدم رکھنے والے ہیں کہ جہاں ٹیکنالوجی ڈیوائس، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلنے والے بناء پائلٹ کے ہوائی جہاز اور روبوٹک سسٹمز، ہماری زندگیوں میں بہت اہم کردار ادا کریں گے۔ ہمیں بہت سنجیدگی کے ساتھ اپنی توجہ اس مسئلے کے سکیورٹی پہلوؤں پر مرکوز رکھنی چاہیے۔”

آج کی ڈجیٹل دنیا میں ترکی کو حاصل اہم مقام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "مستقبلِ قریب میں ہم ترکی کو دوسرے تمام شعبوں کی طرح انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی دنیا کے اہم ترین ملکوں میں سے ایک بنائیں گے۔ ہم ترکی کو ایسا ملک بنانے کے لیے شبانہ روز محنت کریں گے کہ جو ہائی ٹیک مصنوعات خود ڈیزائن کرے، ان کو بہتر بنائے، تیار اور برآمد کرے۔”

تبصرے
Loading...