فلسطین کو مٹانے اور القدس پر غاصبانہ قبضہ جمانے والے منصوبوں کو ہرگز قبول نہیں کریں گے، صدر ایردوان

0 851

آق پارٹی کے صوبائی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "چاہے کتنا ہی خون کیوں نہ ملے اور کتنی ہی املاک کیوں نہ ہڑپ کر جائیں، ظالموں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ اسرائیل کی بھوک بھی لامحدود ہے۔ بالآخر وہ امریکی انتظامیہ کی مدد سے القدس اور فلسطین کی غصب کی گئی سرزمین کو ہڑپ کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کو کبھی قبول نہیں کرے گا جو بظاہر تو دو ریاستی حل پیش کرے لیکن درحقیقت فلسطین اور القدس پر قبضے کا منصوبہ ہو۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے صوبائی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کیا۔

"امریکی منصوبہ القدس اور مقبوضہ علاقوں کو ہڑپ کرنے مترادف ہے”

فلسطین و اسرائیل کے حوالے سے امریکی منصوبے پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "چاہے کتنا ہی خون کیوں نہ ملے اور کتنی ہی املاک کیوں نہ ہڑپ کر جائیں، ظالموں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ اسرائیل کی بھوک بھی لامحدود ہے۔ بالآخر وہ امریکی انتظامیہ کی مدد سے القدس اور فلسطین کی غصب کی گئی سرزمین کو ہڑپ کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر زور دیتے ہوئے کہ اس منصوبے کا ہدف دراصل فلسطینی علاقے چھیننا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کو کبھی قبول نہیں کرے گا جو بظاہر تو دو ریاستی حل پیش کرے لیکن درحقیقت فلسطین اور القدس پر قبضے کا منصوبہ ہو۔”

"کسی کو حق نہیں کہ شام میں سرکاری مظالم قبول کرنے پر ترکی کو آمادہ کرے”

"آپریشن فرات شیلڈ، شاخِ زیتون اور چشمہ امن، کہ جن کا آغاز 2016ء سے ہوا، ہمارے اس عزم کی مثال ہیں کہ اگر ہمارے خدشات کو نظر انداز کیا گیا تو ہم میدانِ عمل میں حالات کو کس طرح قابو کر سکتے ہیں۔” صدر مملکت نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں کہ ادلب میں بھی ایسے ہی اقدامات اٹھائیں یہاں تک کہ حالات معمول پر آ جائیں۔ ہم آپریشن چشمہ امن کے علاقے میں بھی ایسے ہی دوراہے پر پہنچ رہے ہیں کہ جہاں ہم سے کیے گئے وعدوں کا پاس نہیں کیا گیا۔ کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ ترکی کو مجبور کرے کہ ہم کسی علیحدگی پسند تنظیم کے مظالم سے صرفِ نظر کریں۔ ہم کسی علیحدگی پسند تنظیم کو، چاہے وہ کوئی بھی نام اختیار کر لے، شام میں اپنے علاقوں میں ہنگامے اور سرکشی کا گڑھا نہیں کھودنے دیں گے۔”

"ترکی شام کے عوام اور لیبیا کی قانونی حکومت کے ساتھ ہے”

صدر ایردوان نے زور دیا کہ "ہم نے لیبیا میں بھی یہی اصولی مؤقف اپنایا ہے۔ ترکی شام کے عوام اور لیبیا کی قانونی و جائز حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم 500 سال کی مشترکہ تاریخ کی بدولت خود پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کریں گے۔ جو لیبیا میں عوام اور جائز حکومت کے بجائے باغیوں کا ساتھ دے رہے ہیں وہ جمہوریت کو دھوکا دے رہے ہیں۔ باغی جرنیل نے لیبیا کی جائز حکومت کی طرف سے ماسکو اور برلن میں اٹھائے گئے تعمیری اقدامات کے خلاف قدم اٹھا کر اپنا اصل روپ دکھا دیا ہے۔”

تبصرے
Loading...