شام کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی گزرگاہ بننے کی اجازت نہیں دیں گے، طیب ایردوان

0 841

استنبول میں ہوم لینڈ سکیورٹی یونٹس کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے وطن کی سرحدی حدود کے اندر اور باہر دہشت گردی کے خلاف جاری ترکی کی جنگ پر توجہ دلائی اور کہا کہ "ہم شمالی شام کے ساتھ اپنے سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی گزگاہ کبھی نہیں بننے دیں گے۔ ہم اپنے کرد، عرب اور ترکمن بھائیوں اور بہنوں کے مستقبل کو نئی نوآبادیات کے چاہنے والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔”

صدر رجب طیب ایردوان استنبول میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے اہلکاروں سے ایک دعوتِ افطار پر خطاب کر رہے ہیں۔

"ہم نے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کو بہائے گئے خون کے ہر قطرے کا حساب دینے پر مجبور کیا”

علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کے خلاف، کہ جو ترک عوام کے اتحاد، سالمیت اور اقدار کو نشانہ بناتی ہے، ترکی بہائے گئے ہر خون کے قطرے کا حساب لیتا رہے گا ، صدر ایردوان نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سالوں میں 420 نام نہاد بڑے دہشت گرد مارے گئے، جن میں سے 16 ریڈ لسٹ میں تھے، جبکہ سرحدوں کے اندر موجود دہشت گردوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے 700 تک آ گئی ہے۔ نئے دہشت گردوں کی علیحدگی پسند تنظیموں میں شمولیت اور ان کی حملے کرنے کی صلاحیت دونوں میں آنے والے زوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں اب امن و سکون ہے۔

"ہم نے شمالی شام میں 4 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ کا علاقہ دہشت گردوں سے آزاد کرایا اور اسے امن کے جزیرے میں تبدیل کیا”

"ہم نے شمالی شام میں 4 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ کا علاقہ دہشت گردوں سے آزاد کرایا اور اسے امن کے جزیرے میں تبدیل کیا۔ ابھی کچھ عرصہ قبل تک یہ علاقے ظلم، ستم اور نسل کشی کے لیے بدنام تھے اور اب ترکی کی کوششوں کی وجہ سے شام کے محفوظ ترین شہر بن چکے ہیں۔ 36 لاکھ مہاجرین میں سے 3 لاکھ 20 ہزار، جو جنگ کی وجہ سے شام سے ترکی آ گئے تھے، اپنے گھروں کو واپس جانے کے قابل ہوئے۔ ان شاء اللہ، ہم اچانک ان علاقوں میں بھی داخل ہوں گے جو دہشت گرد تنظیموں کی زد میں ہیں اور ان کا ضروری صفایا کریں گے۔ ہم شمالی شام میں اپنے سرحدی علاقوں کے ساتھ دہشت گردوں کی گزر گاہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اپنے کرد، عرب اورترکمن بھائیوں اور بہنوں کو نئی نو آبادیات کے چاہنے والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔”

تبصرے
Loading...