ہم آپس کے سیاسی اختلافات کو امت کے تصور پر غالب نہیں آنے دیں گے، صدر ایردوان

0 222

اسلامی کانفرنس کی تنظیم (OIC) کے مشاورتی اجلاس میں ایک وڈیو پیغام میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "ہم سامراج کو اپنی صفوں میں شیعہ سُنی، گورے کالے، ترک، کردش، عرب یا فارسی کی تقسیم پیدا نہیں کرنے دیں گے۔ ہم صرف اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اپنی شناخت، قومیت یا نسل کے لیے نہیں۔ ہم اپنے سیاسی اختلافات کو امت کے تصور پر غالب نہیں آنے دیں گے اور نہ ہی ان سے باہمی بھائی چارے کو نقصان پہنچنے دیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے اسلامی کانفرنس کی تنظیم کی رکن اور مبصر ریاستوں کے وزرائے مذہبی امور اور مفتیان اعظم کے مشاورتی اجلاس کو ایک وڈیو پیغام بھیجا۔ یہ اجلاس وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے آن لائن منعقد کیا گیا ہے۔

"بحیثیت مسلمان ہمیں اپنے خیالات کا تبادلہ بارہا کرنا چاہیے”

صدر ایردوان نے بتایا کہ اِس سال کے اجلاس کے ڈجیٹل پلیٹ فارم پر انعقاد کی وجہ کرونا وائرس کی وباء ہے۔ انہوں نے وباء میں جانیں دینے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور مریضوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

اسلامی دنیا کے معروف دانشوروں کے اجتماع میں شرکت پر خوشی اظہار کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ بحیثیت مسلمان میرا ماننا ہے کہ ہمیں اپنے خیالات کا تبادلہ بارہا کرنا چاہیے، اور ایک دوسرے کو مزید سننا چاہیے، خاص طور پر اس سخت اور مشکل دور میں۔”

"ہم اپنے مسائل سے نمٹ سکتے ہیں جب تک کہ ہماری توجہ باہمی معاملات اور نکات پر ہو، باہمی اختلافات پر نہیں۔” صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "ہم ‘اتحاد میں رحمت ہے اور اختلاف میں تباہی ہے’ کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد کے ذریعے ہی ہم دنیا و آخرت میں فلاح حاصل کر سکتے ہیں۔ میں آپ سے ایسے فیصلے کرنے کی استدعا کرتا ہوں جو ہمارے آفاقی بھائی چارے کو مضبوط کرے اور ہماری راہوں کو آسان کرے۔”

"ہمارے مسلمان بھائیوں کے کئی علاقے بدامنی اور عدم استحکام سے دوچار ہیں”

مسلمانوں کو کئی مسائل کا سامنا ہے کہ جن میں دہشت گردی، بھوک، جہالت اور مقامی تنازعات کی وجہ سے عدم مساوات شامل ہیں، جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ یمن سے شام اور افغانستان سے لیبیا تک ہمارے مسلمان بھائیوں کے کئی علاقے بدامنی اور عدم استحکام سے دوچار ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اسلام کی سرزمینیں، جو صدیوں تک انسانیت کے لیے مشعل بردار رہی اور علم و حکمت اور امن و امان کے مساکن بنی رہیں، اب ماتم کناں ہیں۔ ہر روزاوسطاً ایک ہزار ہمارے مسلمان بھائی اور بہنیں دہشت گردی یا تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ نسل پرستی، قوم پرستی، تفرقہ بازی اور دہشت گردی خاص طور پر ایسے مسائل بن چکے ہیں جو اسلامی دنیا کو اندر سے گھن کی طرح کھا رہے ہیں۔”

ہمیں ایسے حالات ہرگز قبول نہیں ہوں گے کہ جہاں قاتل اور مقتول دونوں "اللہ اکبر” کا نعرہ بلند کر رہے ہوں، صدر ایردوان نے کہا کہ "مسلمان بھائیوں میں موجودہ کشیدگی دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات نہ ماننے کی وجہ سے ہے، اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں آنحضورؐ نے کہا تھا کہ ‘میرے بعد گمراہ مت ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو’۔ اگر آج مسلمان، عراق سے یمن تک، اپنی تمام تر توانائیاں نسل اور فرقوں کی بنیاد پر اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں، تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خود کو قرآن اور سنت سے دُور کر لیا ہے کہ جن کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کی تھی کہ ‘انہیں مضبوطی سے تھامے رکھنا۔'”

صدر نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہمارا مذہب سنی یا شیعہ بنیادوں پر کھڑا نہیں ہوا، ہمارا مذہب اسلام ہے۔ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا حصہ ہونا ہی، کہ جنہیں رحمت للعالمینؐ بنا کر بھیجا گیا، ہمارے لیے کافی اعزاز ہے۔ کوئی بھی جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کی نظر میں مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ سخت غفلت میں پڑا ہوا ہے۔ ہمارا ماننا ہے، یہ ہمارا ایمان کا حصہ ہے کہ عظمت تقویٰ میں ہے، مال و دولت اور نسل میں نہیں۔”

"ہم اپنے بھائیوں کو کبھی نقصان نہیں پہنچائیں گے”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "سیاست دانوں کے علاوہ یہ آپ جیسے دانشوروں کے لیے بھی اہم مشن ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں کہ جو امت کو اندر سے گھن کی طرح کھا رہے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا، تفرقے سے اور اپنے بھائیوں سے لڑائی سے بچنا ہوگا۔ ہم اپنے سیاسی اختلافات کو امت کے تصور پر غالب نہیں آنے دیں گے اور نہ ہی ان سے باہمی بھائی چارے کو نقصان پہنچنے دیں گے۔ کبھی نہ بھولیں کہ فطرت کبھی خالی پن کو قبول نہیں کرتی۔ حق جن علاقوں کو خالی کرتا ہے، باطل جلد ہی ان پر قبضہ کر لیتا ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "اگر لوگ اپنے مذہبی مسائل کی پیاس مستند ذرائع سے نہیں بجھا پائیں گے تو وہ جلد ہی اسلام کے حوالے سے غیر اخلاقی اور تور مروڑ کر پیش کیے گئے نظریات کا نشانہ بن جائیں گے، جیسا کہ داعش، FETO، الشباب اور بوکوحرام۔” انہوں نے مزید کہا کہ آج کی سماجی زندگی میں کئی مسائل دراصل اسلام کی غلط تفہیم کی وجہ سے ہیں۔

"جنہیں طلوعِ اسلام سے مسئلہ ہے، اب ہمارے مذہب پر حملے کر رہے ہیں”

صدر ایردوان نے زور دیا کہ "جنہیں طلوعِ اسلام سے مسئلہ ہے، وہ لوگ اب ہمارے مذہب پر حملہ آور ہیں۔ مغربی سیاست دانوں کی جانب سے آج مسلمانوں اور اسلام کے خلاف دیے جانے والے بیانات دراصل اپنی ناکامیوں کو چھپانے کا آسان طریقہ ہیں۔ اس کی تازہ ترین اسلام ‘فرانسیسی اسلام’، ‘یورپی اسلام’ اور ‘آسٹرین اسلام’ جیسی اصطلاحات ہیں جو سامنے لائی جا رہی ہیں۔ ان حرکتوں کہ جن میں پیش پیش فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکروں ہیں، یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے پرانے بدلے چکائے جائیں۔ ‘شدت پسندی کے خلاف جنگ’ کے نام پر دراصل مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہے تاکہ وہ غیر متحرک، شرمسار، بزدل اور کمزور ہو جائیں، جو ظلم و جبر کے خلاف آواز تک نہ اٹھائے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ ایک اسلام مخالف نظام کہ جہاں مذہب پر عمل صرف گھروں تک محدود ہوں اور سڑکوں، کام کی جگہوں، شہروں یا سماجی زندگی میں مذہبی اصول اور علامتوں کے ذکر تک کی اجازت نہ ہو، جس میں مذہب پر ریاست کی گرفت ہو اور وہ اس کو دبائے، اور اس کی ایک مزید سنگین صورت پر کام کیا گیا ہے، جسے جمہوریت نہیں کہا جا سکتا، بلکہ مطلق العنانی کہنا چاہیے۔ یہ ہمارے لیے، کسی بھی مسلم ملک کے لیے ناممکن ہے کہ وہ ایسی حرکتوں پر رضامندی ظاہر کرے کہ جہاں کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ باہر سے ہونے والے مسلسل حملے اور وہ غلطیاں کہ جنہوں نے ان حملوں کی راہ ہموار کی کبھی ہمارے مذہب کی اصل روح کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ایک محدود سوچ کو پھیلانے کی کوشش کے بجائے مذہب کی اصل روح کا ادراک اور سوجھ بوجھ اس کے لیے بلاشبہ نئے دروازے کھولے گی۔ مجھے یقین ہے کہ آپ، ہمارے عزیز دانشور، جنہیں میں امت اور دنیا کے لیے ایک امید سمجھتا ہوں، اس معاملے میں قائدانہ کردار ادا کریں گے۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر میں فرداً فرداً سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں قرآن و سنت کی راہ پر چلنے کی توفیق دے، اور ہمیں بھٹکنے نہ دے۔”

تبصرے
Loading...