ہم آذربائیجان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، صدر ایردوان

0 234

استنبول میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آرمینیا آذربائیجان میں شہری علاقوں پر مسلسل حملے اور گولاباری کر رہا ہے۔ ان حملوں کے جواب میں آذربائیجان نے اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہم کبھی اپنے برادر ملک آذربائیجان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ آخر تک آذربائیجان کی حمایت کریں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول کے ضلع اسکودار میں نمازِ جمعہ کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیے۔

"آیاصوفیا ترکی کی سالمیت کا معاملہ ہے”

آیا صوفیا کو عبادت کے لیے کھولنے کے حوالے سے بیرونِ ملک سے آنے والے ردعمل پر صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم کسی غیر ملکی ردعمل کے پابند نہیں ہیں۔ منفی کے ساتھ ساتھ مثبت ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ کچھ نے مجھ سے بات بھی کی ہے۔ اور میں نے انہیں ضروری جوابات بھی دیے ہیں۔ آیاصوفیا ہماری سالمیت کا معاملہ ہے۔ اس پر تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا کہ کوئی ہماری سالمیت کے معاملات میں کسی بھی طرح سے مداخلت کرے۔ 86 سال بعد آیاصوفیا کی مسجد میں تبدیلی ہماری قوم کا فطری حق ہے۔ ہم اپنے حقوق کی پاسداری کرتے ہیں، جو صرف ترکی ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کا حق ہے۔”

"ہم آخر تک آذربائیجان کی حمایت کریں گے”

آذربائیجان پر آرمینیا کے حملے کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ "جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آرمینیا دہائیوں سے بالائی کاراباخ پر قابض ہے۔ منسک سہ فریقی اراکین نے اس معاملے کو ‏25-30 سال سے مذاکرات کی میز پر رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں کیا۔ یہ بات واضح تھی کہ معاملہ اس نہج تک پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آذربائیجان میں شہری علاقوں پر مسلسل حملے اور گولاباری کر رہا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں آذربائیجان نے اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہم کبھی اپنے برادر ملک آذربائیجان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم آخر تک آذربائیجان کی حمایت کریں گے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "میں نے آذربائیجان کے صدر الہام علیف سے بات کی ہے۔ آذربائیجان کا ایک وفد ترکی آیا تھا اور وزیر دفاع خلوصی آقار اور افواج کے کمانڈر سے ملا تھا۔ میں نے بھی ان سے بات کی تھی۔”

صدر نے زور دیا کہ "قفقاز کی جدوجہد کے دوران ادا کیے گئے اپنے کردار کی طرح ہم آذربائیجان اور آذربائیجانی بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔”

"ترکی لیبیا میں اپنی ذمہ داری پوری کرتا رہے گا”

لیبیا میں حالیہ پیش رفت اور مصر کے صدر عبد الفتح سیسی کے بیانات پر صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی لیبیا میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا اور لیبیائی عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ صدر نے کہا کہ "لیبیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کوئی ‏25-50 سال نہیں بلکہ 500 سال سے زیادہ پرانے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے لیبیا کے ساتھ فوجی تربیت میں تعاون کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی مداخلت کے حوالے سے ایک نیا معاہدہ بھی کرنے والے ہیں۔ لیبیا بھی اس پر کام کر رہا ہے۔ ہم باہمی اتحاد کا عمل جاری رکھیں گے۔ مصر کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور باغی جرنیل خلیفہ حفتر کی حمایت نے ظاہر کیا کہ وہ غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر ابوظہبی کی باغیوں کو بڑے پیمانے پر ہتھیاروں اور رقوم کی منتقلی بھی ان کی پوزیشن کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک طرف سراج کی قانونی حکومت ہے اور دوسری جانب باغی حفتر کی انتظامیہ۔ ایک قانونی حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے والوں اور باغی حفتر کے حامیوں کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے؛ یہ بالکل واضح معاملہ ہے۔”

ترکی اور روس کی جانب سے ادلب میں مشترکہ گشت کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ "مشترکہ گشت کی تعداد 20 تک پہنچ چکی ہے لیکن بدقسمتی سے کچھ غیر قانونی عناصر ہیں جو کبھی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ البتہ ہم روس کے ساتھ مل کر انہیں روکیں گے۔”

تبصرے
Loading...