ترکی کو محدود کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، صدر ایردوان

0 153

تمغہ فخر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ہم چند حلقوں کی جانب سے بحیرۂ روم کے ساتھ طویل ترین سرحد رکھنے والے ترکی کو اپنے ساحلوں تک محدود رکھنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یہ بات تنازع کے تمام فریقین پر اب بالکل واضح ہو چکی ہے کہ دھمکیوں کی زبان نہیں چلے گي اور ترکی کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس اس کے حق پر ڈاکا ڈالا جا سکتا ہے۔ یہ ہمارے ملک کے عزم کا ثمر ہے کہ حالیہ چند دنوں کی سفارت کاری نے مسئلے کے حل کی راہ نکالی ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے ایوانِ صدر میں غازیوں اور شہیدوں کے اہلِ خانہ کے لیے تمغہ فخر کی تقریب سے خطاب کیا۔

"جنوبی سرحدوں کے ساتھ دہشت گردوں کو راہداری دے کر ترکی کا گھیراؤ کرنے کی کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی وطن کے اندر اور بیرونِ ملک ترکوں کے حقوق کے تحفظ سے کبھی نہیں ہچکچائے گا، صدر ایردوان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی کوششوں کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنی تاریخ کے کامیاب ترین دور سے گزر رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ ملک کے نئے حفاظتی تصور کے تحت دہشت گردوں کو اُن کے ٹھکانوں میں ہی انجام تک پہنچایا جائے گا، چاہے وہ جہاں بھی چھپے ہوئے ہوں۔

شام میں آپریشنز کرکے جنوبی سرحدوں کے ساتھ دہشت گردوں کو راہداری دے کر ترکی کا گھیراؤ کرنے کی کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔ صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی کی کوششوں کی وجہ سے عراق کا شمالی علاقہ اب علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کا ٹھکانہ نہیں رہا۔

"ہم عالمی قوانین کے مطابق مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی اور ترک قبرص کے حقوق کا دفاع کرتے رہیں گے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم عالمی قوانین کے عین مطابق مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی اور ترک قبرص کے حقوق کا دفاع کرتے رہیں گے۔ ہم چند حلقوں کی جانب سے بحیرۂ روم کے ساتھ طویل ترین سرحد رکھنے والے ترکی کو اپنے ساحلوں تک محدود رکھنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یہ بات تنازع کے تمام فریقین پر اب بالکل واضح ہو چکی ہے کہ دھمکیوں کی زبان نہیں چلے گي اور ترکی کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس اس کے حق پر ڈاکا ڈالا جا سکتا ہے۔ یہ ہمارے ملک کے عزم کا ثمر ہے کہ حالیہ چند دنوں کی سفارت کاری نے مسئلے کے حل کی راہ نکالی ہے۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی ابتداء ہی سے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کا خواہاں ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے فریقِ مخالف کی تمام تر اشتعال انگیزیوں اور بچکانہ رویّے کے باوجود بڑائی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ترکی ذمہ دار اور پُرامن ملک ہے لیکن حالات کو اس نہج تک لانے میں پُرعزم رویّے نے بھی کام دکھایا ہے۔ ہم مستقبل میں بھی پختہ ذہنی کا مظاہرہ کریں گے۔ ہم اپنے ملک کے ساتھ ساتھ اپنے خطے کے لیے امن، سکون اور استحکام کے لیے کام کرتے رہیں گے۔”

تبصرے
Loading...