ہم اس سرزمین پر موجود تمام تاریخی خزانوں کی حفاظت کریں گے، ایردوان

0 468

استنبول کی فاتح میونسپلٹی کے زیر اہتمام 320 یادگاروں کی بحالی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "ہم نے بحالی کے لئے بیرون ملک میں بھی ایک جامع تحریک شروع کی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ اپنے آباء کے ورثے کا تحفظ کریں جو بلقان سے وسط اور شمالی افریقہ تک اور سنٹرل ایشیاء سے مشرقی یورپ تک موجود ہے”۔

فتح کرنے کا مطلب ہے کہ آپ اس شہر میں اپنی روح اور جوہر کو اس میں زندہ کر دیں 

انہوں نے فتح کو ظاہری قبضے سے بہت زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا: "فتح کرنے کا مطلب ہے کہ آپ اس شہر میں اپنی روح اور جوہر کو اس میں زندہ کر دیں اور بیان کیا کہ ملنے والی ان تمام یادگاروں اور نشانات کا تحفظ فاتحین کی ذمہ داری ہے جو تہذیبی طور پر بہت اہم ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ تاریخی یادگار کو بحال کرنا اس کو تعمیر کرنے جیسی اہمیت رکھتی ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ ہر وہ یادگار جو ہمیں اپنے آباء سے وراثت میں ملی ہے ہم اسے بحال کریں گے اور استنبول کو دوبارہ فتح کریں گے۔

ہمیں اپنے اسلاف کے غلبے کی تہذیبی سمجھ بوجھ پیدا کرنی ہوگی

ایردوان نے مزید کہا: "جب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ کس طرز پر تہذیبیں خود اپنے آپ میں اور دیگر میں ربط ضبط پیدا کرتی ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ہمیشہ گزشتہ کو پیچھے چھوڑ جانے اور بہتر کام کرنے کی ایک کوشش کارفرما ہوتی ہے۔ آج ہم اس قابل بھی نہیں ہوئے ہیں کہ اپنے اسلاف کے قائم کیے گئے معیار تک پہنچیں چلیں ان کو پیچھے چھوڑ دیں۔ اسی وجہ سے ہمیں اپنی طرز فکر اور کوششوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے ہم اپنے اسلاف کو پکڑیں گے۔ ہمیں اپنے ملک میں فورا ایک تہذیبی غلبے کی سمجھ بوجھ پیدا کرنی ہوگی. جو کہ زندہ ہوگی اور پھر گزشتہ کو پچھے چھوڑ کر تعمیر ہوگی”۔

صدر نے کہا کہ پانچ ہزار تاریخی یادگاریں بحال کی جا چکی ہیں۔ جن میں ایدینے شہر کا عظیم کنیسہ اور آرمینیا کے دیاربکر میں موجود پروٹیسٹنٹ اور کیتھولک چرچ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ہم نے اس سرزمین پر موجود تمام تاریخی خزانوں اور اقدار کو تعمیر کیا ہے اور ان کا تحفظ کیا ہے۔ یہی ہمارے اسلاف نے بھی کیا تھا اسی لیے ہم نے بھی یہی کیا جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے القدس فتح کیا تو فتح کے نشانی کے طور پر صرف ایک چرچ کو مسجد میں تبدیل کیا اور باقی تمام مذاہب کی تمام عبادت گاہوں اور عمارات کو تحفظ دیا۔

ہم ورثے کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کریں گے

ترکی سے باہر عثمانی یادگاروں کے متعلق زیادہ حساسیت نہیں دکھائی گئی۔ صدر ایردوان نے کہا: "وہ شہر جو کبھی فن تعمیر، آرٹ اور ثقافت کا شاہکار تھے، دوسروں نے ان پر غلبہ پانے کے بعد ملیا میٹ کر دیا۔ وہ شہر جہاں کبھی ایک ہی وقت میں 500 مساجد ہوا کرتی تھیں، آج وہاں عبادت کے لیے ایک مسجد نہیں ملتی۔ وہ کئی شہروں سے ہمارا نام اور ہمارے نشان مٹانے کی کوشش کرتے رہے ہیں جن شہروں میں کبھی ہماری روح، عطر اور شکل موجزن تھی۔ اس لیے ہم نے بحالی کے لئے بیرون ملک میں بھی ایک جامع تحریک شروع کی ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اپنے آباء کے ورثے کا تحفظ کریں جو بلقان سے وسط اور شمالی افریقہ تک اور سنٹرل ایشیاء سے مشرقی یورپ تک موجود ہے۔

تبصرے
Loading...