منبج سے عراقی سرحد تک کے علاقے کو محفوظ بنا کر پہلے مرحلے میں 10 لاکھ شامی مہاجرین کی وطن واپسی ممکن بنائیں گے، صدر ایردوان

0 458

ترک کونسل کے ساتویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہمارے خطے کےامن، سکون اور استحکام کو سب سے سنگین خطرہ دہشت گرد تنظیموں سے درپیش ہے۔ PKK/YPG، داعش اور FETO جیسے شیطانی نیٹ ورکس کی موجودگی نے اس امر کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ ہم علاقے کے تحفظ میں تعاون کریں۔ ہم نے پچھلے آٹھ سالوں میں شام میں دیکھا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ممکن ہے۔ ہمارے ملک نے PKK/YPG دہشت گرد تنظیم کے خاتمے کے لیے 9 اکتوبر کو ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے آذربائیجان میں ترک زبانوں کی کونسل (ترکش کونسل) کے ساتویں اجلاس سے خطاب کیا۔

"گزشتہ آٹھ سالوں میں شام میں ہم نے دیکھا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ممکن ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے خطے کےامن، سکون اور استحکام کو سب سے سنگین خطرہ دہشت گرد تنظیموں سے درپیش ہے۔ PKK/YPG، داعش اور FETO جیسے شیطانی نیٹ ورکس کی موجودگی نے اس امر کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ ہم علاقے کے تحفظ میں تعاون کریں۔ ہم نے پچھلے آٹھ سالوں میں شام میں دیکھا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ممکن ہے۔ ہمارے ملک نے PKK/YPG دہشت گرد تنظیم کے خاتمے کے لیے 9 اکتوبر کو ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارا آپریشن چشمہ امن دو اہم اہداف رکھتا ہے۔ پہلا ہدف شمالی شام میں PKK/YPG سے درپیش دہشت گرد ی کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ اس آپریشن کا دوسرا ہدف ہے آٹھ سال سے اُن کے وطن میں مقیم ساڑھے 36 لاکھ شامی مہاجرین کی امن و سلامتی کے ساتھ اپنے وطن کو واپسی۔ آج اس آپریشن کا ساتواں دن ہے، جو کامیابی کے ساتھ اس سیف زون کے نقشے کے عین مطابق جاری ہے کہ جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ آج صبح تک ہم نے تقریباً 1،000 مربع کلومیٹر کا علاقہ اس علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم سے چھڑا لیا ہے۔ ہم منبج سے عراقی سرحد تک کے علاقے کو محفوظ بنائیں گے اور اس کے بعد پہلے مرحلے میں 10 لاکھ شامی مہاجرین کی وطن واپسی کو ممکن بنائیں گے اور پھر بعد ازاں 20 لاکھ کی واپسی بھی۔”

تبصرے
Loading...