ہم شام میں اسد رجیم کے مظالم ہوں یا دہشتگردوں کے آنکھیں بند نہیں کریں گے، ایردوان

0 852

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں آق پارٹی کی ضلعی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "اگر شام میں سیکیورٹی، امن، مستقبل اور شامی عوام کے حقوق کا سنجیدہ قدم اٹھانا ہے، تو سب سے پہلے ایک ہی اصول کی بنیاد پر رجیم اور داعش اور پی وائے ڈی سمیت تمام دہشتگرد تنظیموں بارے موقف دینا ہو گا۔ شامی عوام کو اسد رجیم کے مظالم یا دہشتگرد تنظیموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا پابند نہیں بنانا چاہیے”۔

شام میں ایک مختلف کھیل کھیلا گیا ہے

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ شامی رجیم کے کیمیائی حملوں کے بعد، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی طرف سے رجیم کے اہداف پر ایک آپریشن کیا گیا ہے، ترک صدر نے کہا، "اس کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے کہ رجیم نے جو ماضی میں مختلف اوقات میں حملے کئے تھے وہ بغیر ردعمل کے چھوڑ دئیے جائیں۔ اس سلسلے میں، ہمیں یہ آپریشن مناسب لگا ہے”۔

انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شامی رجیم نے اس آپریشن میں اپوزیشن پر جو غیر انسانی اور غیر قانونی حملے کئے ہیں وہ بغیر ردعمل کے نہیں چھوڑے جائیں گے، ایردوان نے کہا، "تاہم ہم چاہتے ہیں کہ کیمیائی حملوں پر جس قسم کی حساسیت کا اظہار کیا گیا ہے اسی قسم کی حساسیت لاکھوں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر دکھائی جائے جن رجیم کے دوسروے ہتھیاروں سے قتل عام کیا گیا”۔

روایتی ہتھیاروں سے ہلاک والے شامی شہریوں کی تعداد کیمیائی ہتھیاروں کے ساتھ شہید ہونے والوں سے بہت زیادہ ہیں، اس حقیقت پر توجہ مبذول کرواتے ہوئے ترک صدر نے کہا، "بدقسمتی سے شام میں ایک مختلف قسم کا کھیل کھیلا گیا ہے۔  پہلے، رجیم کے ظلم کو نظر انداز کر دیا گیا تھا، پھر ایک دہشت گرد تنظیم کو بھیانک طریقے پر حمایت دی گئی تھی اور میدان میں اتارا گیا، آخر میں مرکزی منصوبے کو ایک اور دہشت گرد تنظیم کے ذریعہ میدانِ عمل میں لایا گیا”۔

ترک صدر نے اس کھیل کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا، "اگر شام میں سیکیورٹی، امن، مستقبل اور شامی عوام کے حقوق کا سنجیدہ قدم اٹھانا ہے، تو سب سے پہلے ایک ہی اصول کی بنیاد پر رجیم اور داعش اور پی وائے ڈی سمیت تمام دہشتگرد تنظیموں بارے موقف دینا ہو گا۔ شامی عوام کو اسد رجیم کے مظالم یا دہشتگرد تنظیموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا پابند نہیں بنانا چاہیے”۔

تبصرے
Loading...