ہم اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ لبنان اور لبنان کے عوام شانہ بشانہ رہیں گے، صدر ایردوان

0 782

آیا صوفیا جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے لبنان میں ہونے والے دھماکے کو ایک بڑا سانحہ قرار دیا، اور کہا کہ "ہم اپنے مادّی و اخلاقی تمام تر وسائل کے ساتھ لبنان اور لبنان کے عوام اور بیروت کے شانہ بشانہ رہیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے آیا صوفیا جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیے۔

"ترکی برادر ملک لبنان کو تنہا نہیں چھوڑے گا”

بیروت میں ہونے والے دھماکے پر صدر ایردوان نے کہا کہ اس واقعے کے پس پردہ عناصر کے بحوالے سے ابھی کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔ اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی اس واقعے پر اپنی نگاہیں مرکوز کیے ہوئے ہے، صدر ایردوان نے اسے ایک بڑا سانحہ قرار دیا اور کہا کہ ترکی نے ایک کارگو جہاز کے ذریعے ملک کو طبی امداد فراہم کی ہے۔

ترکی برادر ملک لبنان کو تنہا نہیں چھوڑے گا، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اپنے مادّی و اخلاقی تمام تر وسائل کے ساتھ لبنان اور لبنان کے عوام اور بیروت کے شانہ بشانہ رہیں گے۔”

"یونان اور مصر کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں”

نام نہاد بحری حدود پر یونان اور مصر کے مابین ہونے والے حالیہ معاہدے پر صدر ایردوان نے کہا کہ اس معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں اور ترکی لیبیا کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھے گا۔

"یونان نے اپنا وعدہ وفا نہیں کیا”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ان کے ساتھ بات کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے کہ جن کا بحری حدود پر کوئی حق نہیں۔” یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ترکی نے بحیرہ روم میں اپنی سرگرمیاں جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکیل کے کہنے پر معطل کی تھی تاکہ سفارت کاری کے لیے کچھ وقت ملے، صدر ایردوان نے کہا کہ لیکن یونان کی جانب سے وعدے پورے نہ کرنے پر ترکی نے بعد میں علاقے میں اپنا بحری جہاز خیر الدین باربروس بھیجا ہے جس نے ڈرلنگ کی سرگرمیاں فورا شروع کر دی ہیں۔”

تبصرے
Loading...