ہم پیداوار بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے معاشی پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، صدر ایردوان

0 110

ازمیر میں شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی کبھی اپنے پیداوار اور روزگار کے مواقع پر زور دینے والے معاشی پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے گا، اور کہا کہ "جو زیادہ شرحِ سود، افراطِ زر اور غیر ملکی شرحِ تبادلہ کے جھانسوں کے سامنے جھکنے کو ہمارے ملک کی تقدیر سمجھتے ہیں وہ دراصل تجاہلِ عارفانہ برت رہے ہیں۔ ہم اس مرض سے جان چھڑا چکے ہیں اور اپنے ملک کو دفاعی صنعت سے صحت عامہ کے شعبے تک کئی لحاظ سے اولین ممالک میں لے آئے ہیں، اور ہم معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی یہی منزل حاصل کریں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ازمیر میں السنجق اسٹیڈیم اور دیگر نو تعمیر شدہ تنصیبات کی افتتاحی تقریب کے موقع پر شہریوں سے خطاب کیا۔

"ہم نے اپنے معاشی پروگرام کا بنیادی ڈھانچا بنانا شروع کیا ”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ترکی نے آق پارٹی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد آئی ایم ایف سے ہدایات لینا چھوڑ دیا، جو ترقی پذیر ممالک کو اپنے شکنجے میں لینے کا بنیادی ذریعہ ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمیں آئی ایم ایف کی ہدایات کے بجائے ترقی اور معیشت کے لیے اپنے پروگرام کا بنیادی ڈھانچا کھڑا کرنے کی ضرورت تھی، کیونکہ آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ہاتھ جو بھی لگا اس کا نصیب غربت، قحط سالی اور بے روزگاری اور بالآخر ناکامی ہے۔ ہم نے جو قدم اٹھایا، جو سرمایہ کاری کی اور ہر ہر کام جو اپنے ملک میں شروع کیا اس کا مقصد ترکی کو آگے بڑھاتے ہوئے اس مقام تک لے جانا ہے جہاں وہ اپنی معیشت اور اپنی صلاحیتوں پر کھڑا ہو۔ ہمارا کہنا ہے کہ جس طرح عالمی سکیورٹی معاملات میں دنیا پانچ ممالک سے کہیں بڑی ہے، ویسا ہی معیشت کے معاملے میں بھی ہے۔”

"ہم نے ملک کو کئی شعبوں میں بلند ترین مقام پر پہنچایا ہے”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی ان پر اعتراض کرتا ہے جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کے ذریعے دنیا کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں، اور کہتا ہے کہ دنیا پانچ ممالک سے کہیں بڑی ہے، صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی کبھی اپنے پیداوار، روزگار اور خزانے کو متوازن رکھنے کے معاشی پروگرام سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ "جو زیادہ شرحِ سود، افراطِ زر اور غیر ملکی شرحِ تبادلہ کے جھانسوں کے سامنے جھکنے کو ہمارے ملک کی تقدیر سمجھتے ہیں وہ دراصل تجاہلِ عارفانہ برت رہے ہیں۔ ہم اس مرض سے جان چھڑا چکے ہیں اور اپنے ملک کو دفاعی صنعت سے صحت عامہ کے شعبے تک کئی لحاظ سے اولین ممالک میں لے آئے ہیں، اور ہم معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی یہی منزل حاصل کریں گے۔”

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: