جب انسان کے بجائے روبوٹ دنیا سنبھالیں گے – غلام اصغر ساجد

0 409

مصنوعی ذہانت ایک دلچسپ موضوع ہے، ہزاروں سوالات کا جواب دینے والا اور اس سے دو گنا سوال تخلیق کرنے والا۔ ترک صدر نے ایک تقریر نے کہا کہ اگلی دنیا روبوٹس اور ٹیکنالوجی کی دنیا ہے جس میں انسان کی حیثیت کم سے کم تر ہوتی جائے گی۔ لیکن ہم اسے روک نہیں سکتے کیونکہ ایک ان پلٹ راستے پر چل رہے ہیں۔ شاید یہ نوجوانوں کا کوئی پروگرام تھا اس لیے انہوں نے کہا کہ ہمیں مصنوعی ذہانت میں آگے آنا چاہیے، ہو سکتا ہے ہم انسان اور مشین کے درمیان بہتر امکانات تلاش کر سکیں۔۔۔ یہ بات ان کی ایک پرانی بات سے ہی نکل رہی تھی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی محض ٹیکنالوجی نہیں ہوتی بلکہ اپنی اقدار بھی رکھتی ہے جو اس کے خالق اس سے منسلک کر تے ہیں۔ خیر اس میں کوئی شک نہیں ترک صدر ایک صاحب مطالعہ شخصیت ہیں۔

اس بات کو شاید دو ماہ ہو چکے ہیں گزشتہ دنوں ان کے ترجمان کی طرف سے اسی موضوع پر ایک مضمون آیا۔ لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مستقبل کے لیے کہیں ٹھہرنا ہو گا۔ مزید کی خواہش سے ہم اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں لے جا رہے ہیں جہاں ہم تو ہوں گے لیکن ہماری ذات نہیں ہو گی۔ بنیادی طور پر ان پر صوفیانہ فلسفہ کی چھاپ ہے اس لیے وہ ایردوان کی سوچ کے برعکس (جو سمجھتے ہیں کہ یہ ان پلٹ راستہ ہے) اس سفر میں ٹھہراؤ کے متمعنی ہیں۔ ابھی ان خیالات کی گرد بیٹھی نہیں تھی کہ آج فیس بک ایڈ پر لگی ایک وڈیو دیکھی جو شاید آپ کی نظر سے بھی گزری ہو۔ پلے گراؤنڈ کی جانب سے آٹونومس ویپن ڈاٹ آرگ کی طرف سے بنائے جانے ایک آٹو نومس ہتھیار کا تعارف کروایا گیا تھا۔ ایک چھوٹے سے موبائل سائز کا چھوٹا سا ڈرون ہے جو پائلٹ کے بغیر خود کار طریقے سے اڑتا ہے، انسان سے 1000 گنا تیزی سے ردعمل دیتا ہے، اس کی تیز ترین شاطرانہ نقل و حرکت ایک خواب لگتی ہے لیکن یہ اس کا اینٹی اسنائپر فیچر ہے۔ ہر روبوٹ کی طرح اس میں کیمرہ ہے، سینسر لگے ہیں جو چہرے پہچاننے میں مدد کرتے ہیں اس کے اندر 3 گرام دھماکہ خیز مواد ہے۔ جب اسے چھوڑا جاتا ہے تو تیزی کے ساتھ یہ مدمقابل پر حملہ آور ہوتا ہے، اس کی تیر دھار سرنچ کئی دھاتوں کو چیر کر سامنے والے کے سر میں دھماکہ خیز مواد انجیکٹ کر دیتی ہے جو اسی وقت پھٹتا ہے اور جان لے لیتا ہے۔ آپ اپنے ہاتھ کو ایک جھٹکا دیں، اتنی تیزی سے جتنی تیزی سے آپ دے سکتے ہوں، جی ہاں یہ آٹونومس ہتھیار اس سے 1000 گنا تیزی کے ساتھ اپنا کام پورا کرتا ہے۔ بات یہیں تک نہیں، اس پورے سسٹم میں یہ دیوار کو توڑ کر عمارتوں میں داخل ہو سکتا ہے، کاروں کے شیشے توڑ کر اندر بیٹھے انسان تک پہنچ سکتا ہے اور کہتے ہیں کہ 25 ملین ڈالر کے آرڈر پر اتنے آٹونومس ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں کہ وہ آدھے شہر کو مار سکتے ہیں۔ اس کا تعارف کروانے والا اس ہتھیار بارے کہتا ہے اس کے آگے نیوکلیئر ہتھیار کچھ بھی نہیں۔ جوحملے میں بہت زیادہ رسک رکھتا ہے اور آنے والی نسلوں پر اس کے خطرناک اثرات پڑتے ہیں جبکہ اس ہتھیار کے ساتھ ایسا کوئی سائڈ ایفیکٹ نہیں۔ پھینکو، مارو اور بات ختم۔ آخر پر اسٹیورڈ رسل کا پیغام آتا ہے جو مصنوعی ذہانت کا ایک بڑا نام ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ عمل ہم سے زیادہ دور نہیں، ہمارے پاس یہ ساری ٹیکنالوجی آ چکی ہے اور ایسے ہتھیاروں کو بنانا مشکل نہیں رہا۔ لیکن یہ انسان کی تباہی کا راستہ ہے۔ سائبرہتھیار بنانا ترک کرنا ہوں گے۔

اسٹیورڈ رسل کا پیغام اپنی جگہ درست ہے لیکن ہماری جستجو کو کون روک سکتا ہے؟ کیا نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے پہلے ایسے ہی پیغامات نہیں دئیے گئے تھے؟ کیا اب بھی انسداد نیوکلیئرآرسینل کے لیے تنظیمیں موجود نہیں، نیوکلیئر ہتھیاروں میں اضافہ روکنے کے لیے کئی معاہدوں پر دستخط نہیں ہوئے لیکن کیا اضافہ رک گیا؟۔ شمالی کوریا اور ایران تو نئے ممالک ہیں، پاکستان کو بھی اس کی نظریاتی بنیادوں کی وجہ سے روکا جاتا ہے کیا امریکا، چین، بھارت اور روس اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں میں اضافہ نہیں کر رہے؟ لہذا کیا ہم واقعی محض اخلاقی اور انسانی دعوت سے مصنوعی ذہانت کو روک سکتے ہیں؟ یہ سوال یہیں چھوڑتے ہوئے ہم مصنوعی ذہانت کے مثبت اور مفید مظاہر کی طرف چلتے ہیں۔

کلاسیکل ٹیکنالوجی میں ہم گدھا گاڑی سے ٹرین پر چڑھے،جہازوں میں اڑے۔ پھر کمپیوٹر نے انسانی کاموں میں انقلاب برپا کر دیا اور اب ہم ماڈرن ٹیکنالوجی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ روبوٹ بن رہے ہیں، بغیر ڈرائیور کے کاریں بن رہی ہیں۔ کئی مال اسٹورز اور فیکٹریوں میں روبوٹ کام کر رہے ہیں۔ ڈرون طیاروں کے ذریعے سامان کی ڈیلیوری ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی یہ تیز رفتار پیش رفت صرف 16 سال کے مختصر عرصے میں ہوئی ہے۔ اس برق رفتاری کو دیکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے کئی ماہرین کے درمیان اتفاق ہے کہ 2100ء تک انسان پر روبوٹ کا غلبہ ہو جائے گا۔ مگر کیسے؟

یہیں سے دیکھئے کہ آپ کے اردگرد کئی اشیاء ہیں وہ انسان اور مشین کے ایک متوازن تعلق سے وجود میں آئی ہیں اور کئی ایسی ہیں جو فقط انسان کے ہاتھ سے تیار ہوئی ہیں۔ اگر یہ سب مکمل طور پر روبوٹ تیار کرنا شروع کر دیں۔ تو فیکٹریوں سے ساری لیبر کی چھٹی۔ فیکٹریوں کے تمام آرڈر اور پے منٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہو تو ایک بڑے عملے کی ضرورت نہیں جو آخری حد پر جا کر بالکل نہیں رہے گی۔ سامان کی ڈیلیوری روبوٹ کے ذریعے چلنے والے ٹرکوں کی مدد سے جا رہی ہو جس میں خودکار حفاظتی اور دفاعی سسٹم ہو تو ٹرک ڈرائیوروں اور سیکیورٹی اداروں میں کام کرنے والے اپنے گھروں میں جائیں گے۔ اسی طرح انسانی نقل و حرکت کے سارے سامان، روبوٹک کار، روبوٹک بس، روبوٹک میٹرو ٹرین، روبوٹک جہاز۔ صرف یہی نہیں خود کار ٹرمینل جہاں کسی انسان کی ضرورت نہیں رہے تو اس طرح ٹرانسپورٹ سے وابستہ تمام انسان چھٹی کریں گے۔ آپ بیمار ہو گئے ہیں، ہسپتال جاتے ہیں، وہاں مشینیں ہیں جو خود درست ترین تشخیص کرتی ہیں، خود نقص سے پاک موثر ادویات تجویز کرتی ہیں اور اگر آپ کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑے تو وہاں نرسنگ روبوٹ ہوں، اور یہ بن بھی چکے ہیں۔ آپ اسکول کالج جاتے ہیں جہاں معلومات کا سمندر روبوٹ آپ کو پڑھاتے ہیں، آپ کے سوالات کا جواب دیتے ہیں، آپ کا کمپیوٹر کی مدد سے امتحان لیتے ہیں اور خودکار طریقے سے آپ کا مکمل نتیجہ آپ کو میل کر دیا جاتا ہے۔ تو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تمام اساتذہ کی چھٹی۔ ویسے تب انسان کو کچھ پڑھنے کی ضرورت ہی کیوں ہو گی؟ جب زندگی کا ہر شعبہ ٹیکنالوجی کی مدد سے چلایا جا رہا ہو، تعلیمی ادارے، اسپتال، بازار، تعمیراتی کام، فیکٹریاں ہر جگہ روبوٹ کام کر رہے ہوں جن کے اندر ساری دنیا کا مکمل علم موجزن ہو تو کون پڑھے گا اور پڑھنے کی ضرورت ہی کیا ہوگی؟ جب روبوٹ خود اپنی فیکٹریوں میں اپنے جیسے روبوٹ بھی تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو انسان کا کام کہاں باقی کہاں بچے گا؟ اسے مصنوعی ذہانت کے بابے singularity کہتے ہیں۔ جب ساری دنیا روبوٹ چلا رہے ہوں گے اور سارے انسان گھر بیٹھے ہوں گے تو وسائل کی تقسیم کیسے ممکن ہو گئی؟۔

ایک آزاد، بے کام انسان کی زندگی کیسے چل پائے گی؟۔ ایک سپر ٹیکنالوجی کے دور میں انسان کہاں ٹھہرے گا؟ اور اس سے بڑا سوال کہ جب یہ مصنوعی ذہانت انسانی کنٹرول سے مکمل آزاد ہو گئی تو انسانی وجود کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟ سوچئے!

تبصرے
Loading...