ادلب میں امن کے قیام اور مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے زبردست قربانیاں دیں، لیکن یورپ سے کوئی مدد نہیں ملی، صدر ایردوان

0 158

عدالت و انصاف پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ادلب میں امن کے قیام اور مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے زبردست قربانیاں دیں، لیکن ہمیں یورپ کی طرف سے کوئی نمایاں مدد نہیں ملی۔ اس منافقانہ رویے کا مطلب ہے کہ یورپ اپنی ہی اقدار کی بیخ کنی کر رہا ہے۔”

صدر اور انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے چیئرمین صدر رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کیا۔

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی نے کرونا وائرس کے خلاف تمام ناگزیر اقدامات اٹھائے ہیں، صدر ایروان نے کہا کہ ترکی پرامید ہے کہ وہ کسی انسانی جان کے ضیاع کے بغیر اس مسئلے سے نمٹ لے گا۔

"ہم شام کے ساتھ 911 کلومیٹرز طویل سرحد پر امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں”

شام میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے صدر ایردوان نے زور دیا کہ شام میں ترکی کا ہدف نہ ہی شامی سرزمین پر قبضہ ہے اور نہ ہی خطے میں دیگر طاقتوں کے خلاف زور آزمائی، انہوں نے کہا کہ "ہم شام کےساتھ اپنی 911 کلومیٹرز طویل سرحد پر امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ دہشت گرد تنظیموں اور فرقہ پرست شامی افواج کو سرحد سے دور رکھ سکیں۔” صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ترکی علاقے میں اپنی 12 چوکیوں پر معمولی سے حملے پر بھی سخت کارروائی کرے گا۔”

یہ کہتے ہوئے کہ ترکی شام میں امن و سکون کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا، لیکن شامی حکومت یا دہشت گرد گروپوں کے کسی بھی حملے کے خلاف تیار ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی ماسکو کے ساتھ ادلب میں عارضی فائربندی کو مستقل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ترکی نے ادلب میں عارضی سیزفائر اور متعلقہ معاہدوں پر اس لیے دستخط کیے تاکہ کسی ایسے حل تک پہنچا جائے جو تمام متعلقہ فریقین کے لیے معقول، عملی اور آگے بڑھائے جانے کے قابل ہو۔

ترکی سے یورپ جانے والے مہاجرین کی نقل و حرکت کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی، جو پچھلے نو سالوں سے مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اور ان کی ہر ضرورت کو پورا کیا ہے، انہیں جبراً اپنے ملک میں نہیں روک سکتا۔

"یونان مہاجرین کو روکنے اور واپس کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کر رہا ہے”

ترکی کی جانب سے اپنی سرحدیں کھولنے کے اعلان کے ساتھ ہی تقریباً ڈیڑھ لاکھ مہاجرین ترکی اور یونان کی سرحد پر پہنچ گئے، صدر ایردوان نے کہا یونان مہاجرین کو روکنے اور انہیں واپس بھیجنے کے لیے تشدد کا استعمال کر رہا ہے اس کے باوجود کہ انسانی حقوق کے آفاقی اعلان اور جنیوا کنونشن کے مطابق ان افراد کو یونان میں اور وہاں سے دیگر ممالک میں جانے کی اجازت دینی چاہیے۔”

یونان کے مہاجرین کے ساتھ سلوک کو بربریت قرار دیتے ہوئے صدر ایرودان نے کہا کہ یورپ چند سو مہاجرین کو قبول نہیں کر پا رہا حالانکہ ترکی ادلب سے 15 لاکھ افراد کو ہجرت پر مجبور ہونے سے روکنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

یورپی یونین اور ادلب میں متحرک ملکوں کو دیرپا حل کے لیے نیم دلانہ کوششوں کے بجائے دلیرانہ قدم اٹھانے ہوں گے، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ادلب میں امن کے قیام اور مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے زبردست قربانیاں دیں، لیکن ہمیں یورپ کی طرف سے کوئی نمایاں مدد نہیں ملی۔ اس منافقانہ رویے کا مطلب ہے کہ یورپ اپنی ہی اقدار کی بیخ کنی کر رہا ہے۔”

تبصرے
Loading...