کروناوائرس سے امریکا میں دو لاکھ سے زیادہ اموات کاخدشہ

0 370

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ دو مشکل ہفتوں سے خبردار کیا ہے اور ساتھ ہی وائٹ ہاؤس نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکا میں اگر سماجی فاصلے کی ہدایات پر عمل ہوتا بھی رہے تو ایک لاکھ سے دو لاکھ 40 ہزار تک اموات ہو سکتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد گھٹ سکتی ہے اگر لوگ اپنے رویّے پر نظرثانی کریں۔

وائٹ ہاؤس کروناوائرس ٹاسک فورس کی کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر ڈیبورا برکس نے کہا ہے کہ "ہمارا ماننا ہے کہ ہم موجودہ سے کہیں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ اس کے لیے امریکی باشندوں کو بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنے کردار کو سنجیدہ لینا ہوگا۔”

ٹرمپ نے کروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکی کوششوں کو "زندگی و موت کا معاملہ” قرار دیا اور عوام پر زور دیا کہ وہ انتظامیہ کی دی گئی رہنما ہدایات پر عمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو جلد ہی امید کی کرن نظر آئے گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ "میں چاہتا ہوں کہ ہر امریکی آئندہ کے مشکل دنوں کے لیے تیار رہے۔ اگلے دو ہفتے بہت مشکل ہوں گے۔”

وبائی امراض کے حوالے سے حکومت کے سب سے بڑے ماہر ڈاکٹر انتھونی فوسی نے کہا ہے کہ یہ تعداد حقیقت کے قریب ہے اور امریکی شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملات کو بہتر کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں کریں۔

برکس نے کہا کہ ابتدائی اندازے 15 سے 22 لاکھ امریکی شہریوں کی ہلاکت کے تھے۔ لیکن یہ بدترین صورتِ حال میں ہوگا، اگر کروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سماجی دُوری اختیار نہ کی جائے تو۔

تبصرے
Loading...