آرمینیائی مسئلے پر ہمیں انسانی حقوق کے لیکچر دینے والوں کا اپنا ماضی خون سے رنگا ہوا ہے، صدر ایردوان

0 467

صدر رجب طیب ایردوان نے ہمارے آرکائیوز کی تیاری، وژن اور تاریخی تحقیق میں حصہ (Our Archives’ Development, Vision and Contributions to Historical Research) پر سمپوزیم سے خطاب کیا جو باش تپہ پیپلز کلچرل اینڈ کنونشن سینٹر، انقرہ میں منعقد ہوا۔

اپنی تقریر کے دوران صدر ایردوان نے کہا کہ "آرکائیوز کسی بھی قوم اور ریاست کی یادداشت ہوتے ہیں۔ بغیر یادداشت کی اقوام نہیں جانتیں کہ وہ کہاں سے آئیں، آج کہاں ہیں اور کس سمت جا رہی ہیں۔ آرکائیوز کی مصبوط روایت ایک مستحکم ریاستی تاریخ کا ثبوت بھی ہوتی ہے۔” 2,200 سال قدیم ریاستی روایات اور خطے میں ہزار سالہ تاریخ کا حوالہ دیتےہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اس ریاستی روایت اور جن علاقوں میں ہم رہتے ہیں وہاں ہماری تاریخ کی عظیم بنیادیں ان تاریخی کاموں اور ہمارے عمدہ آرکائیو میں ظاہر ہیں۔ بالخصوص عثمانی وہ عظیم ریاست تھےکہ جنہوں نے ریکارڈ اچھی مرتب مرتب اور محفوظ کیے۔”

عثمانی آرکائیوز کو ایک خزانہ قرار دیتے ہوئے کہ جو نہ صرف اپنے ملک بلکہ دیگر 40 ریاستوں کے ماضی کو بھی محفوظ رکھتا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "باالفاظِ دیگر ترکی آرکائیوز کی صورت میں اپنے علاوہ ایک عظیم جغرافیے کی یادداشت محفوظ رکھتا ہے۔ اگر آج خطے کے کئی بین الاقوامی مسائل کا حل عثمانی آرکائیوز میں تلاش کیا گیا ہے، تو اس کی ایک وجہ ہے۔” صدر نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ان مسائل میں سے ایک کہ جس پر ہم دنیا کے سامنے فخریہ طور پر سچائی کا دعویٰ کر سکتے ہیں آرمینیا کے معاملے پر ہمارے آرکائیوز کی بدولت ہے۔ ہم نے دیکھا کہ جو ہمیں آرمینیائی مسئلے پر جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیکچر دینے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا اپنا ماضی خون سے رنگین ہے۔”

یہ کہتے ہوئے کہ ہر موقع پر آرمینیائی مسئلے کی آڑ میں ترکی کو دیوار سے لگا نے کی کوشش کرنے والوں کو اپنے خونخوار ماضی کے بارے میں حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا، صدر ایردوان نے کہا کہ "آرمینیائی گروہ اور اُن کے حامی، جنہوں نے مشرقی اناطولیہ میں بچوں اور عورتوں سمیت مسلمانوں کا قتلِ عام کیا، کو اس علاقے سے نکال باہر کرنا وہ سب سے معقول قدم تھا جو اُس زمانے میں اٹھایا جا سکتا تھا۔ نئے مقام پر منتقلی ایک الگ چیز ہے اور قتلِ عام ایک بالکل الگ بات۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے آرکائیوز کے دروازے اُن تمام لوگوں کے لیے پوری طرح کھلے ہیں جو سچائی جاننا چاہتے ہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "حالیہ صدیوں میں قتلِ عام اور عوام کو تکالیف پہنچانے کے ذمہ دار افراد وہ ہیں جنہوں نے انسانی حقوق اور آزادی کے نقاب اوڑھ رکھے ہیں۔ ہم اُن کو کبھی نہیں بھولے اور نہ بھولیں گے کہ جنہوں نے لاکھوں کریمیائی تاتاروں اور آہسکا ترکوں کو راتوں رات ٹرینوں میں ٹھونس کر مار دیا۔ ہم معصوم لوگوں کی اُن آہوں کو آج بھی سن سکتے ہیں اور اپنے دلوں میں محسوس کر سکتے ہیں، جو لیبیا اور الجزائر کے صحراؤں میں گونج رہی ہیں۔ وہاں ہونے والے مظالم اور قتلِ عام کے ذمہ دار مسلمان نہیں تھے۔ یہ زمانے پر عیاں ہے کہ کس نے 25 سال قبل روانڈا میں نسل کشی کے دوران 8 لاکھ افراد کو مارا؟ اور اس کو ہوا دینے والے فرانسیسی تھے۔ اب فرانسیسی ہمیں لیکچر دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟”

اس حقیقت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہ کوئی گروہ یا ریاست جس نے اب تک آرمینیائی مسئلے کو اٹھایا، آرکائیو دستاویزات کے ذریعے اپنے الزامات کو ثابت نہیں کر سکی، صدر ایردوان نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں پہلے سے معلوم ہے کہ نام نہاد آرمینیائی نسل کشی کے الزامات لگا کر مسائل پیدا کرنے والے بالخصوص فرانس، حق کی تلاش کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا اس سچ کو جانے۔”

تبصرے
Loading...