"صوفہ گیٹ” کا ذمہ دار ایردوان یا خود یورپی یونین؟

0 2,009

حال ہی میں یورپی یونین کے دو اعلیٰ سطحی عہدیداران نے انقرہ میں ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں یورپین کمیشن کی سربراہ اورسولا ون دیر لین کو صدر ایردوان کے برابر سیٹ کی بجائے صوفہ پر بٹھایا گیا جبکہ ان کے ساتھی یورپین کونسل کے صدر چارلس مائیکل کو برابر کی کرسی پر بٹھایا گیا۔ ترک ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ سٹنگ پلان یورپی یونین کے متعلقہ پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کے مطابق رکھا گیا تھا۔

یہ کہتے ہوئے کہ یورپی یونین ہی اس پروٹوکول کا ذمہ دار ہے، ذرائع نے ترک میڈیا کو بتایا کہ یہ سٹنگ پلان ملاقات سے قبل یورپی یونین کی طرف دی گئی تجاویز کے مطابق رکھا گیا تھا۔ ترکی نے یورپی یونین کے دونوں عہدیداران کا بھرپور استقبال کیا اور وہ بین الاقوامی پروٹوکول کے اصولوں پر پورے اخلاص کے ساتھ کاربند ہے۔

یہی بات ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے اپنے کویتی ہم منصب شیخ احمد ناصر آل محمد الصباح کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی کہی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ترکی لگائے جانے والے الزامات غیر منصفانہ ہیں۔ ترکی تاریخی گہری جڑیں رکھنے والی ریاست ہے اور وہ پہلی بار اپنے مہمانوں کی میزبانی نہیں کر رہا تھا۔ ترکی میں ہونے والی تمام ملاقاتوں اور اجلاس میں اپنائے جانے والا پروٹوکول، بین الاقوامی پروٹوکول ہے۔ ترکی اپنی مہمان نوازی میں دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "ملاقات کے دوران یورپی یونین کی تجاویز پر عمل کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ سٹنگ پلان ان کی طرف سے کیا گیا تھا، ہمارے پروٹوکول یونٹ ملاقات سے قبل اس پر بات چیت کر چکے تھے اور ان کے تقاضے پورے کیے گئے”۔

لیکن منگل کو جیسے ہی ملاقات کی ویڈیو اور تصاویر سامنے آئیں سوشل میڈیا نے ایسی ملاقاتوں سے متعلق اپنائے جانے والے پروٹوکول سے عدم واقفیت کی وجہ سے اس پر اپنے من پسندانہ تبصرے کرنے اور ترکی اور اس کے صدر ایردوان پر الزامات تراشی میں بہت جلدی کی۔ بعض افراد نے البتہ یورپی یونین رہنماؤں کے درمیان موجود کسی نامعلوم جھگڑے کی نشان دہی کی۔

یوپین کونسل کے صدر مائیکل نے اگلے روز فیس بک پر لکھا، "جن تصاویر کو دکھایا جا رہا ہے ان سے یہ تاثر ملا ہے کہ جیسے میں اس صورتحال سے بے نیاز ہوں۔” انہوں نے مزید لکھا، "مجھے دو وجوہات کی بنا پر افسوس ہے۔ سب سے پہلے، اس تاثر سے کہ میں اورسولا کو دئیے گئے پروٹوکول سے لاتعلق تھا۔ آخر میں مجھے رنج ہوا کیونکہ ہم نے انقرہ میں جو بڑے اور فائدہ مند جیوپولیٹیکل کام کیا وہ اس ایشو میں دب گیا۔ لیکن مجھے امید ہے کہ ان کاموں کے ثمرات جلد یورپ کو ملیں گے”۔

اس ملاقات میں ترکی اور یورپی یونین باہمی تعلقات کو بہتر اور مضبوط کرنے کے لیے ایک مثبت روڈمیپ رکھنے پر متفق ہوئے ہیں۔ ملاقات کے بعد مائیکل نے کہا تھا کہ انہوں نے صدر ایردوان سے یورپی یونین اور ترکی کے تعلقات پر ایک دوستانہ بات چیت کی ہے، جبکہ اورسولا نے کہا تھا کہ اس ملاقات کے بعد تعلقات کو ایک نیا مومینٹم ملے گا۔

یورپی یونین اور ترکی دونوں نے ایک مثبت ایجنڈا پر چلنے کے لیے اپنے ارادوں کا تبادلہ کیا تھا۔ ترک حکام نے حال ہی میں اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ وہ یورپ کا حصہ ہٰیں اور ترکی یورپی یونین میں اپنا مستقبل دیکھتا ہے جبکہ بلاک کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کے لیے پُرامید ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ یورپی یونین کی مکمل رکنیت کی طرف کام جاری رکھے گا۔ ترک حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ 2021 میں ترقی کی امید کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ بلاک اس مقصد کے لئے قطعی اقدامات اٹھائے گا۔ ترکی نے حالیہ ملاقات میں بھی اس بات کو واضع کیا ہے کہ وہ "مثبت” مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اور اس نے "ٹھوس اقدام” اٹھانے کی بات کی ہے خاص طور پر ہجرت کے معاملات پر۔

25-26 مارچ کو یورپی یونین کے رہنماؤں کے تازہ ترین سربراہی اجلاس کے دوران، عہدیدان نے اظہار خیال کیا تھا کہ "اگر تعلقات میں موجودہ استحکام برقرار رہا تو وہ ترکی کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لئے تیار ہیں۔”

ان بڑھتے ہوئے تعلقات سے یورپی یونین کے کچھ ممالک خائف نظر آتے ہیں اس لیے یورپی میڈیا میں اس صوفہ گیٹ کی مدد سے فاصلے بڑھانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ حالانکہ اس میں کسی بھی طرح ترکی یا اس کے صدر رجب طیب ایردوان کا کوئی قصور نہیں تھا۔

تبصرے
Loading...