93 سال عمر پانے والے محمود آفندی کون تھے؟

0 1,352

ترکی کی سنی اسماعیل آغا کمیونٹی کے روحانی پیشوا اور ترک عالم دین محمود اُستا عثمان اولو آفندی نقشبندی 93 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات کی خبر کے بعد بہت سارے لوگ ان کے بارے جاننا چاہ رہے ہوں گے اور اس وقت پوری دنیا سے لوگ اس بارے سرچ کر رہے تھے کہ محمود آفندی آخر تھے کون جن کی وفات پر ترکی کے تمام حلقے سوگ منا رہے ہیں۔ محمود آفندی، نقشبندی کے خالدیہ سلسلے سے تعلق رکھنے والے تھے جو آج صبح استنبول کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے جہاں ان کا علاج جاری تھا۔ ان کا نماز جنازہ کل استنبول کی مشہور فاتح مسجد میں پڑھایا جائے گا۔ یہاں  آپ کو ان کی زندگی اور ان کے خیالات بارے بتایا جا رہا ہے۔

محمود اٗستا عثمان اولو 1929ء میں ترکی کے شہر طربظون میں پیدا ہوئے۔ اپنی جوانی تک وہ قریبی گاؤں کے علماء کی صحبت میں بیٹھتے اور درس لیتے تھے۔ 16 سال کی عمر میں انہیں دینی تعلیم و تدریس کی سند دے دی گئی۔ سند کے بعد انہوں نے اپنے گاؤں میں درس دینا شروع کر دیا۔ ترکی میں اوائل جوانی میں دینی درس و تدریس کی سند ملنے والے وہ واحد شخص تھے۔ حتی کہ ان کی شادی بھی 16 سال کی عمر میں ہو گئی۔

1952ء میں ان کی ملاقات شیخ علی حیدر آفندی سے ہوئی۔ فوجی لازمی تربیت حاصل کرنے کے بعد علی حیدر آفندی نے انہیں اسماعیل آغا مسجد میں بطور امام کام کرنے کی دعوت دی۔ محمود آفندی نے 1954ء میں امامت کے یہ فرائض نبھانا شروع کیے اور 1996ء تک یہ ذمہ داری ادا کرتے رہے۔

2010ء میں استبنول میں منعقد ہونے والی ایک عالمی انسانیت سمپوزیم میں انہیں اسلام کی ممتاز خدمت کے اعزاز سے نوازا گیا۔
انہوں نے درجنوں کتابیں بھی لکھیں۔ ان میں چند اقتباسات آپ کی نظر:

 

آپ واعظ کرو، اپنی ذمہ داری کو ادا کرو، باقی سب چیزیں اللہ پر چھوڑ دو کیونکہ ہدایت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔

ہم سیدھی بات کرنے کے لیے عالم بنے، ٹیڑھی بات کرنے لیے استاد نہیں بنے۔

ادب کیا ہے جانتے ہو؟ ادب حدوں کی پابندی کرنے کو کہتے ہیں اور سب سے بڑا ادب اللہ جل جلالہ کی حدودِ الہی رکھنے والی شریعت کی حفاظت ہے۔

جو مسلمان ہوگا اس کا ہر کاروبار صاف ستھرا اور منظم ہو گا۔

گمراہی سے ہدایت حاصل نہیں کی جا سکتی۔

اس تکبر کا بھی کیا کوئی حل ہے۔ عبادت کرتے ہوئے انسان کو اللہ تعالیٰ کا اتنا علم تو ہونا چاہیے کہ اسے کسی اور چیز کی خبر نہ ہو۔ اس طرح کی خودی کا احساس پگھل جاتا ہے۔

خطبات دل کے میدان پر ہونے والی بارش کا نام ہے۔

کائنات اپنے ادب کو محفوظ رکھتی ہے لیکن ذمہ دار آدمی اپنے ادب کو محفوظ نہیں رکھتا۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: