کمالسٹ ری پبلکن پیپلزپارٹی مسلسل شکست سے دوچار کیوں؟ – ڈاکٹر فرقان حمید

0 835

ڈاکٹر فرقان حمید

ڈاکٹر فرقان حمید پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے انقرہ یونیورسٹی سے ترک زبان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1994ء میں وہ نہ صرف انقرہ یونیورسٹی میں ماہر زبان تعینات ہوئے بلکہ ٹی آر ٹی کی اردو سروس کے لیے ترجمان کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینا شروع کر دیں۔ وہ کئی اخبارات اور خبر رساں اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔ انہیں کئی بار ترک صدور کے ساتھ ترک اردو ترجمانی کا اعزاز بھی ملا ہے۔ اس وقت وہ پاکستانی نیوز چینل جیو، اخبار جنگ اور ٹی آر ٹی کی اردو سروس کے سربراہ ہیں۔ وہ ہفتہ وار جنگ اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔


جدید جمہوریہ تر کی کی سب سےقدیم سیاسی جماعت ’’ری پبلکن پیپلز پارٹی‘‘ جسے جدید جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے قائم کیا تھا ستر کی دہائی کے بعدسے مسلسل شکست سے دو چار چلی آرہی ہے ۔ اس پارٹی کو آخری بار بلنت ایجوت کی شکل میں وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ نصیب ہوا تھا لیکن اس کے بعد سے اس جماعت کو کبھی بھی وزارتِ عظمیٰ کا قلمدان نہیں ملا ہے اور نہ ہی مستقل قریب میں ایسادکھائی دیتا ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ اتاترک کی اس پارٹی کو کس نے اس حالت تک پہنچایا ہے؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں جدید جمہوریہ ترکی کے بانی غازی مصطفیٰ کمال اتاترک نے ملک میں جمہوریت کو فروغ دینے کیلئے 9ستمبر 1923کو’’ پیپلز پارٹی‘‘ کے نام سے سیاسی جماعت تشکیل دی جسے 10نومبر 1924ء کو’’ ری پبلکن پیپلز پارٹی‘‘ کا نام دے دیا گیا اور یہ پارٹی 1950ء تک ملک کا نظم و نسق چلاتی رہی۔ اگرچہ 1946 کے عام انتخابات میں نئی قائم شدہ ’’ڈیمو کریٹک پارٹی‘‘ کو بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن عصمت انونو جو کہ ری پبلکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین تھے، نے اتنے بڑے پیمانے پر دھاندلی کروائی کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جیت کو ہار میں بدل دیا گیا نوے کی دہائی میں جان دوندار کی تیارکردہ دستاویزی فلم اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ( اور یوں مزید پانچ سال تک ری پبلکن پیپلزپارٹی بلا شرکتِ غیرے اقتدار پر قابض رہی۔1950ء میں عدنان میندریس کی ڈیمو کریٹک پارٹی نے اسےشکستِ فاش سے دوچار کرتے ہوئے اقتدارحاصل کرلیا اور عصمت انونو کی جگہ جلال بایار نے ملک کے صدر کی حیثیت سے فرائض سنبھال لئےتاہم 1960 میں ترکی میں مارشل لا لگادیا گیا اور سیاسی جماعتوں کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ 1971 میں ملک میں حالات بہتر ہونے پر سیاسی جماعتوں کو پھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی گئی اور اس دوران بلنت ایجوت نے ری پبلکن پارٹی کے چیئرمین عصمت انونو کوپارٹی کے جنرل کنونشن میں شکست دیتے ہوئے چیئرمین کی حیثیت سے اختیارات سنبھال لئے اور شاید بلنت ایجوت کا دور ہی ری پبلکن پارٹی کا سنہری دور تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پارٹی کے منشور کی 32 شقوں میں تبدیلی کی اور اس پارٹی کو عوام دوست پارٹی بنانے میں کامیابی حاصل کی۔

اتاترک کے بعد ری پبلکن پارٹی میں جس شخصیت کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی وہ بلا شبہ مرحوم بلنت ایجوت ہی تھے۔ ایجوت کو اپنے سوشلسٹ نظریات اور عوام دوست ہونے کی بنا پر غریب عوام کی ہمدردیاں حاصل تھیں اور عصمت انونو کی وجہ سے جو لوگ اس پارٹی سے بد ظن ہوگئے تھے ایک بار پھرپارٹی میں جمع ہونے لگے اور یوں ری پبلکن پیپلز پارٹی نے ترکی کی سیاست پر اپنی مہر ثبت کردی اور پھر 1973ء میں قبرص میں حکومتِ ترکی کی بر وقت پُر امن کارروائی نے قبرصی ترکوں کو قبرصی یونانیوں کا نہ صرف اسیر بننے سے بچایا بلکہ قبرص کو دو حصوں میں تقسیم کرواکر ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آزادی بھی دلوادی جس کی وجہ سے بلنت ایجوت ترکوں کے دلوں پر راج کرنے لگے اور اس طرح ری پبلکن پیپلز پارٹی نے اپنے اقتدار کودوام بخشا ۔ ایجوت کے بعد سے آج تک کبھی بھی ری پبلکن پیپلز پارٹی کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب حاصل نہیں ہو سکا اگرچہ یہ جماعت بعد کے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دینے میں کامیاب رہی ہے لیکن اسے کبھی بھی بڑی جماعت کی حیثیت سے نہیں بلکہ چھوٹے پارٹنر کی حیثیت سے اقتدار میں شامل کیا گیا۔

ستر کی دہائی کے اواخر میں ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے کوئی بھی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن ہی میں نہ تھی جس کی وجہ سے ملک انتشار کا شکار ہوتا چلا گیا اور ٹارگٹ کلنگ بڑھنے لگی جس پر 12ستمبر 1981ء میں جنرل کنعان ایورن کو مارشل لا لگانا پڑا اور ایک بار پھر ملک میں سیاسی جماعتوں پر پابندی لگادی گئی پھر 6 نومبر 1983 کے عام انتخابات میں ترگت اوزال کی مادرِ وطن پارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک میں پہلی بار نج کاری کی جانب توجہ دی اور ترکی کے کمیونسٹ ممالک سے مختلف ملک ہونے کا دنیا کو بھی احساس دلوادیا اور اسی دور میں ترکی کی ترقی کی پہلی اینٹ رکھ دی گئی۔ 29نومبر 1987کے عام انتخابات میں بھی مادرِ وطن پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی لیکن اس کی مقبولیت میں کمی آتی چلی گئی اور 20اکتوبر 1991کے عام انتخابات میں سلیمان دیمرل کی صراطِ مستقیم پارٹی کو فتح حاصل ہوئی لیکن وہ بھی دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر ہی حکومت تشکیل دینے پر مجبور ہوئے اور ایک بار پھر ترکی میں مخلوط حکومتوں کے دور کا آغاز ہوگیا جو ملک کو اقتصادی لحاظ سے بہت پیچھے لے گیا پھر 19جون 1992کو مارشل لا حکومت کی جانب سے پرانی سیاسی جماعتوں پر لگائی گئی پابندی کو ختم کردیاگیا اور یوں ری پبلکن پیپلز پارٹی ایک بار پھر ترکی کی سیاست میں واپس آگئی اور اس سیاسی جماعت نے 24دسمبر 1995 کو ہونے والے عام انتخابات میں دس فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے پارلیمنٹ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی لیکن 18اپریل 1999کو ہونے والے عام انتخابات میں صرف 8.7 فیصد ووٹ ملے جس پر اس کے چیئرمین دینز بائیکال کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا لیکن ڈیڑھ سال بعد وہ پارٹی کنونشن میں چیئرمین منتخب ہوگئے۔2نومبر 2002ء کے عام انتخابات میں ری پبلکن پیپلز پارٹی کے 9.3فیصد ووٹ پڑےجبکہ 22جولائی 2007 میں اسے 20.8فیصد ووٹ ملے اور پھر دینز بائیکال اپنی ہی جماعت کی ایک دیگر رکن خاتون کے ساتھ اسکینڈل کی وجہ سے پارٹی کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور کردئیے گئے اور اس کے بعد سے آج تک کمال کلیچدار اولو پارٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے فرائض ادا کررہے ہیں اور ان کے دور میں یعنی 2011 میں ری پبلکن پیپلز پارٹی کو 2.5 فیصد اس کے بعد جون 2015ء میں 24.9 فیصد اور یکم نومبر 2015ء کے عام انتخابات میں 25.3فیصدووٹ پڑے۔

ری پبلکن پیپلز پارٹی مستقل قریب میں بھی اقتدارمیں آتے ہوئے دکھائی نہیں دیتی ہے اس کی سب سے اہم وجہ ترک عوام کے بہت بڑے حصے کا اسے اسلام دشمن جماعت تصور کرنا ہے (عصمت انونو دور میں کئی ایک مساجد پر تالے ڈال دئیے گئے تھے اور اذان بھی عربی زبان کی جگہ ترکی زبان میں دی جانے لگی تھی ) اور دوسری اہم بات ایک سوشلسٹ اور ڈیمو کریٹک پارٹی ہونے کا پرچار کرنے والی اس جماعت کا اپنے آپ کو صرف امراء تک ہی محدود کرنا ہے اور غریب عوام کو اچھوت سمجھتے ہوئے اُن سے دور رہنا ہے۔ اپنے آپ کو ڈیمو کریٹ کہلوانے والی اس جماعت کی قلعی اس وقت کھل گئی جب اس جماعت نے آق پارٹی کی جانب سے مشرقی اور جنوبی مشرقی اناطولیہ میں آباد کرد باشندوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئےپارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اصلاحاتی پیکج کی بھر پور مخالفت کی اور آق پارٹی پر ملک سے غداری کا الزام عائد کیا تھا۔ ری پبلکن پیپلز پارٹی کو اگر مستقبل میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے آپ کو غریب عوام دوست ثابت کرنا ہوگا اور مذہب سے دشمنی کی چھاپ کو ہٹانا ہوگا اور اپنے دروازے کردوں کے لئے بھی کھول کر نسل پرستی کی سیاست کو صرف نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی ہی کو کرنے دینا ہوگا۔

تبصرے
Loading...