اٹلی میں کرونا وائرس سے متاثرین اور مرنے والوں کی تعداد زیادہ کیوں؟

0 4,009

چین کے صوبے ووہان سے پھیلنے والے ناول کرونا وائرس نے عالمی وباء کی شکل دھار لی ہے اور دنیا کے ایسے ممالک کو بھی متاثر کیا ہے جو طبی دفاع اور شہری سہولیات اور تحفظ کے لحاظ سے مضبوط سمجھے جاتے تھے۔ اٹلی بھی یورپ کا ایک ایسا ہی ملک ہے۔ وہ یورپ جو باقی دنیا کے لیے ایک مثال سمجھا جاتا تھا، چین کے صوبے ووہان کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

جنوبی کوریا، ایک لحاظ سے وباء کو کنٹرول کرنے والے ممالک کے لیے ماڈل سمجھا جا رہا ہے۔ جب اٹلی میں زیادہ کیسز اور زیادہ اموات کا سوال اٹھایا جاتا ہے تو اس کا پہلا موازنہ جنوبی کوریا سے کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اٹلی کی آبادی دنیا کی باقی آبادیوں سے بہت مختلف ہے۔ 2018ء کے شماریات کے مطابق اٹلی کی 28.6 فیصد آبادی 60 سال کی عمر سے زیادہ تھی (اس سے زیادہ صرف جاپان کی آبادی بوڑھی ہے جس کی شرح 33 فیصد ہے)۔ جبکہ جنوبی کوریا میں 18.5 فیصد آبادی 60 سال کی عمر سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں 60 سال سے زیادہ عمر کے آبادی صرف 6.24 فیصد ہے۔

خیال یہی کیا جا رہا ہے کہ آبادی کا یہ حصہ کرونا وائرس کی وجہ سے موت کا نشانہ بنتا ہے۔ اس لیے اٹلی کی1000 میں سے 90 فیصد اموات اسی عمر کے لوگوں میں ہوئیں۔

دوسری طرف یہ اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں کہ سب سے زیادہ وائرس لگنے کے کیسز نوجوان اور کم عمر افراد میں سامنے آئے ہیں۔ 60 سال سے زیادہ عمر کو وائرس لگنے کے بعد اموات اگرچہ 90 فیصد کی ہوئی لیکن اس عمر کے صرف 20 فیصد تک وائرس پہنچ سکا۔ اس کے مقابلے میں 30 فیصد ایسے کیسز بنے جن کی عمر 20 سال سے نیچے تھیں۔

اس کے علاوہ مرنے والوں کی جنس کے متعلق بھی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جس کے مطابق مجموعی طور پر متاثرہ مرد افراد کا 4.7 فیصد جبکہ متاثرہ عورتوں کا 2.8 فیصد موت کا شکار بنا ہے۔ جنوبی کوریا میں 62 فیصد کیسز کا تعلق عورتوں سے تھا جبکہ اٹلی میں متاثرہ خواتین صرف 27 فیصد تھیں۔

سگریٹ پینے والے افراد بھی وائرس سے اگر متاثر ہو جائیں جو جان دے بیٹھتے ہیں۔ کیونکہ جنوبی کوریا میں نوجوان اور کم سگریٹ پینے والے متاثر ہوئے اس لیے وہاں کم اموات ہوئیں دوسری طرف اٹلی میں بوڑھی اور زیادہ سگریٹ پینے والی آبادی متاثر ہوئی اس لیے وہاں زیادہ اموات ہوئیں۔

تبصرے
Loading...