ترک معیشت کیوں ترقی کر رہی ہے؟ – زبیر منصوری

0 912

اس دن بھی وہ معمول کے مطابق نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد پہنچا تھا
اس کا زہن منتشر تھا
اس ہولناک مالی بحران سے باہر آنے کا کوئی راستہ اسےسجھائی نہ دیتا تھا،
تفکرات ،
پریشانیاں،
افسردگی
سب نے اسے گھیر رکھا تھا۔
ناکام فوجی انقلاب کو گزرے چند ہی دن ہوئے تھے ۔اس کے ملک کی معیشت بدترین حالات سے گزر رہی تھی مغربی میڈیا اور ماہرین مسلسل غلط پیش گوئیاں کر رہے تھے تھنک ٹینکس کی جھوٹی سچی رپورٹس ، افواہیں ،ترک اکانومی کے لئے سخت آزمائش بن گئی تھیں کوئی ساتھ کھڑا نظر نہ اتا تھا یوں لگتا تھا وہ مرد آہن اچانک کسی نخلستان سے صحرا میں آگیا ہے اس کی تنکا تنکا جوڑ کر تعمیر کی گئی معاشی عمارت طوفانوں اور زلزلوں کی زد میں دھکیل دی گئی تھی ۔اسے تجارت بڑھانے اور ڈالر کی کرنسی چھوڑ دینے تجاویز دی گئیں جن پر فوراً عملدرآمد کیا گیا۔
مگر اسے بھی کیا معلوم تھا کہ آج یہ معمول کی نماز نہیں
آج اللہ اس کی آزمائش ختم کرنے جا رہا تھا اج ایک عجیب واقعہ ہونا تھا اور اس کا پیارا ترکی پھر استحکام اور مضبوطی کے راستے پر چل پڑنا تھا وہ اپنی ازمائش مین کامیاب ہونے جا رہا تھا اللہ نے آج اس کی رہنمائی کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔
اس نے سنا امام صاحب قران کی ایت تلاوت کر رہے تھے کہ اللہ صدقات کو بڑھاتا ہے ، ان کے ذریعہ مال میں اضافہ فرماتا ہے قران کے الفاظ ایک دم بجلی کی طرح کوندے اور پروپیگنڈہ کی تاریک سیاہ رات میں اسے راستہ دکھا گئے،اسے رب رحمان نے روشنی اور رہنمائی عطا کر دی تھی ۔
وہ مسجد سے اٹھا اور اپنے آفس پہنچ کر فیصلہ کر لیا کہ خالی خزانے کا منہ کھول دیا جائے جو ہے اسے شامی مہاجرین کی حالت بہتر بنانے پر صرف کر دیا جائے یہی نہیں دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان پریشان حال ہیں وہاں وہاں پہنچا جائے اور ان کی خدمت میں وسائل خرچ کر دئیے جائیں ،اس کے زہین مشیر ان حالات میں اس عجیب فیصلہ پر حیران رہ گئے اسے ایڈوائس دی گئی مگر وہ تو کہیں اور سے ہدایت حاصل کر چکا تھا پھر کیا تھا برما سے لے کر کشمیر تک شام سے لے کر عراق تک مسلمانوں پر صدقات کے دروازے کھول دئے گئے اس نے رمضان میں بڑی صدقہ مہم چلانے کا اعلان کیا اپنی قوم کے صاحب خیر لوگوں سے اپیل کی کہ جس کے پاس جو ہے وہ خرچ کرے اور اللہ سے اس کا بدلہ چاہے۔۔۔ اس بار پھر رمضان میں دنیا بھر میں موجود اپنی قوم کے لوگوں سے اپیل کی ۔
ترک قوم کے صاحب خیر لوگوں نے پوری دنیا میں جوش وجذبہ سے آگے بڑھ کراس تحریک صدقات میں حصہ لیا… دنیا کوئی چپہ ایسا نہیں ہے جہاں کی آبادی غرباء اور ضرورت مندوں کی ہو اور وہاں ترک ادارے مدد لے کر نہ پہنچے ہوں اور پھر حیرت زدہ چشم فلک نے دیکھا کہ 2017 کی پہلی سہ ماہی میں تھنک ٹینکس کے سارے اندازے الٹ چکے تھے افواہیں دم توڑ رہی تھی اور ترک معیشت 5% کی شرح پر تیزی سے نمو پزیر تھی حتی کہ جی 8 ممالک سے بھی مقابلہ میں آچکی تھی ۔۔۔
الحمد للہ آج ترکی صدقات کی بدولت اپنی تاریخ کے بڑے بھونچال سے باہر آ چکا ہے
ترکی پیش قدمی کر رہا ہے
ترکی ایک بار پھر امت کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے رہا ہے
اور ایسا صرف اس لئے ہے کہ اس کا قائد قوت بازو نہیں قوت خدا پر کوہ ہمالیہ جیسا ایمان رکھتا ہے۔۔
شاباش ایردوان
شاباش ترکی

تبصرے
Loading...