ترکی، شام میں کیوں ہے؟ آق پارٹی پارلیمنٹریرین علی شاہین بتاتے ہیں

0 2,045

شام کے صوبے ادلب میں ترکی کے باقاعدہ آپریشن ڈھالِ بہار جاری ہے اور آج ترک پارلیمنٹ نے ادلب سے متعلق بلائے گئے اجلاس کا آخری سیشن مکمل کیا ہے۔ ترک وزیر دفاع حلوصی آقار اور وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو اس دوران مسلسل پارلیمنٹ کو تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کرتے رہے۔ شامی پیش رفت اور اپوزیشن کے رویے کو براہ راست دیکھنے والے آق پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ علی شاہین نے آج ترک نیوز چینل "آ حبر” سے ان موضوعات پر خصوصی گفتگو کی۔

علی شاہین نے کہا، "ہمیں اس آرڈر کو ترتیب دیتے ہوئے ان سوالوں کا جواب دینا ضروری ہو گا کہ کیا ہم اپنا آرڈر ترتیب دینے والا ایک ملک بنیں گے یا پھر محض دوسروں کا آرڈر ترتیب دینے والا ملک بنیں گے؟، آج ترکی اپنا آرڈر ترتیب دینے کے لیے شام میں ہے”۔

ترک ممبر پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ "شام میں ہمارا کیا کام ہے کہنے کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔ شام، لیبیا، عراق، یمن اور صومالیا جیسے ممالک کے لیے جو ممالک بولنے کا حق رکھتے ہیں، ان ممالک کی لسٹ میں ترکی سرفہرست آتا ہے کیونکہ اس جغرافیہ میں ہماری 400 سو سالہ تاریخ موجود ہے”۔

انہوں نے مزید کہا، ” جہاں ہمارے شہید آخری سانس لیتے ہیں، جہاں ان کے خون کا آخری قطرہ گرتا ہے ہماری سرحدیں وہاں سے تشکیل پاتی ہیں، ہم تاریخ کے ایسی اولاد ہیں جن کے شہید دنیا کے 34 ممالک اور 78 مقامات پر موجود ہیں”۔

علی شاہین نے ترکی کی شام میں موجودگی پر کہا کہ "آج ادلب میں ہماری موجودگی ایک انتخابات نہیں بلکہ ناگزیر امر ہے۔ آج غیروں کا ترتیب دیا گیا آرڈر بدل رہا ہے اور ایک نیا جغرافیہ جنم لے رہا ہے۔ ہمیں اس آرڈر کو ترتیب دیتے ہوئے ان سوالوں کا جواب دینا ضروری ہو گا کہ کیا ہم اپنا آرڈر ترتیب دینے والا ایک ملک بنیں گے یا پھر محض دوسروں کا آرڈر ترتیب دینے والا ملک بنیں گے؟، آج ترکی اپنا آرڈر ترتیب دینے کے لیے شام میں ہے”۔

انہوں نے کہا، "اس سے قبل غازی انتیب میں، انقرہ میں، استنبول میں بمبوں سے لادی گئی گاڑیاں پھٹ رہی تھیں، آج شام میں ہمارا کیا کام کہنے والوں سے سوال پوچھنا ضروری ہے کہ ‘اب وہ کیوں نہیں پھٹ رہی ہیں؟”۔ آج بم نہیں پھٹ رہے کیونکہ آج ہم شام میں موجود ہیں”۔

تبصرے
Loading...