کیا 2020ء میں تہذیبوں کی جنگ ہوگی؟

ہلال قاپلان

0 339

سرد جنگ کے خاتمے کے فرانسس فوکویاما نے اپنی کتاب "تاریخ کا خاتمہ اور آخری آدمی” میں بے باکی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ اب انسانیت کے پاس کوئی نظریاتی متبادل موجود نہیں اور اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ انسانی حقوق، آزاد خیال جمہوریت اور لین دین میں سرمایہ دارانہ آزاد اقدار اپنائیں، لیکن یہ کتاب تاریخ کی کسوٹی پر پوری نہیں اتری۔

دوسری جانب فوکویاما کے استاد سیموئل ہنٹنگن نے جواب میں "تہذیبوں کا تصادم” تحریر کی جس میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد نظریاتی کشمکش کی بنیاد ثقافتی و مذہبی تفریق کو قرار دیا گیا، یہ کتاب اب بھی برمحل لگتی ہے۔

گو کہ آج اسرائیل نے متعدد خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر لیے ہیں اور یورپی یونین امریکی دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے یا بہتر بنانے کی کوششیں کر رہی ہے، لیکن یہ سب مفادات کی بنیاد پر ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ تمام موجودہ تنازعات کے پس پردہ ایسے ہی مفادات ہیں – روہنگیا بحران سے لے کر شام میں فرقہ پرستانہ تقسیم تک، بھارت میں، بالخصوص کشمیر میں، مسلم مخالف فسطائی پالیسیوں، روس میں آرتھوڈوکس مسیحی شناخت کو نمایاں کرنے والے قوم پرستی کے نئے بیانیے کے ساتھ پیدا ہونے والا انقلاب – یہ سب ثقافتی و مذہبی تفریق کو ایک خطرے کی حیثیت سے سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔ البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان تنازعات کے پس پردہ اسباب معاشی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں اور اس تناؤ کو برقرار رکھنے کے لیے ثقافتی تنوّع ایک کارآمد ذریعہ ہے۔

جب ترکی کو دیکھتی ہوں تو مجھے یہ اُن ملکوں میں سے ایک لگتا ہے جو سب سے خطرناک صورت حال سے دوچار ہے۔ بلاشبہ ترکی ایشیا اور یورپ کو جوڑتا ہے، وہ مشرق میں موجود ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا اور تعاون کرنا چاہتا ہے، جن میں سب سے اہم اس کے پڑوسی ہیں لیکن ایران کے علاوہ کوئی بھی مسلم اکثریتی ملک نہیں ہے اور ایران اور ترکی کے درمیان فرقہ وارانہ تقسیم ناقابلِ مصالحت ہے۔ جبکہ شام اور عراق پہلے ہی عرصے سے ناکام ریاستیں ہیں۔

دوسری جانب ترکی یورپی یونین اور امریکا کے دباؤ میں ہے کہ جن کی وہ کبھی تابع ریاست تھا۔ مثلاً چند معاملات نے ترکی کو روس اور ایران کے قریب کر دیا ہے۔ جب امریکا ایران پر، جو ترکی کے ساتھ زمینی سرحد رکھتا ہے اور صدیوں سے اس کا تجارتی شراکت دار ہے، پابندیاں لگاتا ہے تو انقرہ سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنی معیشت کو نقصان پہنچانے والے ان احکامات کی بھی مکمل تعمیل کرے۔ دوسری جانب یورپی یونین مہاجرین کے مسئلے میں سارا بوجھ ترکی کے کندھوں پر ڈال دیتا ہے اور شام میں فوجی مداخلت پر ترکی کو اسلحے کی فراہمی روکتا ہے حالانکہ وہ اپنی طویل ترین سرحد کو محفوظ بنانے اور خود کو دہشت گردی سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پھر لیبیا کا سوال اُبھرتا ہے، جو ہنٹنگٹن کے دعوے کو غلط ثابت کرنے والی کئی مثالوں میں سے ایک ہے۔ اس تنازع میں اسلامی دنیا کے تین بڑے ملکوں میں سے ایک مصر مسلم اکثریتی ترکی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا بلکہ وہ آرتھوڈوکس مسیحی اکثریت رکھنے والے یونان اور صیہونی اسرائیل کے ساتھ ہے۔ سعودی عرب، ایک مسلم ملک جو مقاماتِ مقدسہ کی وجہ سے اہم حیثیت رکھتا ہے، قطر اور ترکی کو دشمن قرار دیتا ہے اور ایسی پالیسیاں اختیار کر رہا ہے 100 فیصد امریکا اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق ہیں۔

اس لیے 2020ء ایسا سال ہوگا جس میں تناؤ میں اضافہ ہوگا، لیکن امید ہے کہ یہ اس مقام تک نہیں پہنچے گا کہ ضبط کے بندھن ٹوٹ جائیں۔

تبصرے
Loading...