ہم فتنے کے گڑھے کو شام میں ہی بھرنے کے لیے پُرعزم ہیں، ایردوان

0 3,855

آق پارٹی ایلانے کی صوبائی کانگریس نے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا، "ماضی میں ہم نے جرابلس سے الباب تک بڑھتے ہوئے داعش کے 3000 ممبر مارے، دھوپ ہو یا چھاؤں، ہم فتنے کے گڑھے کو شام میں ہی بھرنے کے لیے پُرعزم ہیں”۔

وہ جنہوں نے اس قوم پر حملہ کیا وہ اس کی بھاری قیمت چکائیں گے

صدر ایردوان نے کہا کہ جو اس ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور ہم ایف16 ائیرکرافٹ، ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں اور بکتر بند کے ذریعے ان کی پناہ گاہوں تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا، "کیا ہم جابر پہاڑ، تیندورک، جودی اور کاتو میں موجود ان کی پناہ گاہوں تک نہیں پہنچے؟ ہم مزید آگے بڑھیں گے۔ ہر شخص کو اپنی حدوں میں رہنا ہو گا۔ وہ جنہوں نے اس قوم پر حملہ کیا انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ وہ اس کی بھاری قیمیت چکائیں گے۔ آپریشن فرات ڈھال کیا ہے؟ اس جدوجہد کی ایک مثال ہے”۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کے علاوہ اس خطے پر اور کوئی مملکت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، "ایک متوازی ریاست؟ کہاں ہے یہ متوازی ریاست؟ پینسلوانیا میں ہے۔ وہ وہاں کیا کر رہا ہے؟ اگر ہمت ہے تو یہاں آؤ۔ تم پینسلوانیا میں بیٹھ کر امریکی مدد سے کچھ نہیں کر پاؤ گے۔ امریکہ صرف آپ کو چند نکات پر ہی مدد دے سکتا ہے۔ فیتو جان لے کہ ان نکات کے بعد امریکہ ہی تمہیں دروازہ دکھا دے گا۔ پھر تم چھپنے کے لیے جگہ ڈھونڈتے پھرو گے۔ تم بھاگو گے اور ہم تمہارا پیچھا کریں گے”۔

امریکہ نے شام میں دہشتگرد تنظیموں کو اسلحے کے بھرے ہوئے 4900 ٹرک دئیے

صدر نے اپنی تقریر میں کہا کہ اتحادی قوتیں شام میں دہشتگردوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ انہوں نے اتحادیوں کو اپنے عمل کا تنقیدی جائزہ لینے کا کہا۔ انہوں نے کہا کہ 2017ء میں امریکہ کی طرف سے امریکہ نے شام میں دہشتگرد تنظیموں کو اسلحے کے بھرے ہوئے 4900 ٹرک دئیے گئے۔

ایردوان نے مزید کہا، "ایسے اتحاد نہیں چلتے۔ ایسے اسٹریٹجک شراکت نہیں ہوتی۔ ایک طرف تم جاؤ اور کرد پی وائے ڈی اور وائے پی جی کو اسلحہ دے آؤ اور پھر ہمیں کہو کہ آپ ہمارے اسٹریٹجک شراکت دار ہو۔ کوئی شخص بے وقوف نہیں بنے گا”۔

دہشتگردوں کو وردیاں پہنانے سے سچائی چھپ نہیں سکتی

صدر ایردوان نے اپنے خطاب میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "دہشتگردوں کو وردیاں پہنانے سے اور ان کی عمارتوں پر اپنے جھنڈے لہرانے سے سچائی چھپ نہیں سکتی۔ ائیرکرافٹ اور اسلحے کے ٹریلر ٹرک جو یہاں دہشتگردوں میں تقسیم کئے گئے وہ بلیک مارکیٹ میں بکنا شروع ہو چکے ہیں اور عراق کی مثال کی طرح ترکی کے خلاف استعمال کئے جاتے ہیں”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا، "ماضی میں ہم نے جرابلس سے الباب تک بڑھتے ہوئے داعش کے 3000 ممبر مارے، دھوپ ہو یا چھاؤں، ہم فتنے کے گڑھے کو شام میں ہی بھرنے کے لیے پُرعزم ہیں”۔

تبصرے
Loading...