کیا ترکی آذربائیجان میں فوجی اڈہ بنائے گا؟

باسل حاج جاسم

0 606

سابق سوویت ملکوں میں سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں جمہوریہ آذربائیجان میں ترک فوجی اڈے کے قیام کے حوالے سے مسلسل بات چل رہی ہے۔ آذربائیجان میں ترک فوج کی موجودگی پر گفتگو کا تعلق ہمیشہ سے ماسکو اور انقرہ کے مابین تعلقات کی سرد مہری یا گرم جوشی سے رہا ہے، خاص طور پر جب آرمینیا اور آذربائیجان کشیدگی بڑھتی ہے۔

روس علاقے میں ترکی کا سب سے بڑا مقابل ہے۔ اگر ہم ترکی کی نیٹو رکنیت کو ذہن میں رکھیں تو آذربائیجان میں ترک فوجی اڈے کا قیام آرمینیا میں روسی موجودگی کے مقابلے میں ایک فوجی اور سیاسی توازن قائم کرے گا۔ ترک فوجی اڈے کے قیام کے ساتھ ہی روس اور آذربائیجان کے دو طرفہ تعلقات پیچیدہ ہو جائیں گے اور یہ ایران کے لیے بھی باعثِ تشویش ہوگا۔

ترکی اور آذربائیجان کے مابین دو طرفہ دفاعی تعاون دو قانونی فریم ورکس کو بیان کرتا ہے۔ پہلا جو 1990ء کی دہائی کے اوائل میں بنا تھا، جو آذربائیجانی اہلکاروں کی ترک فوجی اداروں میں فوجی تربیت کو ممکن بناتا ہے۔ دوسرا ہے "تزویراتی شراکت داری” کا معاہدہ، جو واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی مدد کریں گے اس صورت میں کہ اگر ایک ملک اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا مطالبہ کرتا ہے۔ گو کہ یہ "مدد” کیسی ہوگی، اس کا انحصار دو طرفہ مشاورت پر ہوگا، لیکن معاہدہ ہنگامی حالات میں واضح طور پر فوجی ذرائع کے امکانات کی تصدیق کرتا ہے۔

13 اگست کو آذربائیجانی صدر الہام علیف نے ترک وزیرِ دفاع خلوصی آقار، چیف آف اسٹاف جنرل یشار گولر، ترک برّی، فضائی اور جمہوری افواج کے کمانڈرز اور اعلیٰ سطحی ترک فوجی وفد کے دیگر اراکین سے آذربائیجان میں ملاقات کی۔ اس دورے پر فریقین نے باکو، نخچوان اور دیگر آذربائیجانی علاقوں میں مشترکہ فوجی مشقوں کے ایک حصے میں شرکت کی۔ یہ مشقیں 29 جولائی کو شروع ہوئی تھیں اور وسط اگست تک جاری رہیں۔

جولائی کے وسط میں ایک اعلیٰ سطحی آذربائیجانی فوجی وفد نے ترکی کا دورہ کیا اور ترک وزیر دفاع اور مسلح افواج کے اہم ترین رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

آذربائیجانی میڈیا کے مطابق باکو اور انقرہ کے مابین بہت سی اہم دستاویزات تیار کی گئی ہیں، اور فریقین نے ترکی کے ساتھ ملنے والے آذربائیجان کے علاقے نخچوان میں ایک ترک فوجی اڈے کے قیام پر گفتگو کی۔

آذربائیجان کی نیوز ویب سائٹ منفال نے کہا کہ آذربائیجان اور ترکی کے مابین تعلقات چند قانونی اقدامات کی وجہ سے گہرے اتحاد کی جانب نہیں بڑھ سکتے، اس لیے موجودہ دستاویزات دونوں کے مابین اتحاد کو بلند ترین سطح پر لے جائیں گی۔ نتیجتاً ترکی اور آذربائیجان کے تعلقات بہت قریبی ہو جائیں گے اور ان میں فوجی ہی نہیں بلکہ سیاسی تعاون بھی شامل ہوگا۔

آذربائیجان کے سیاسی ماہر گابل حسین علی نے کہا کہ ترک فوجی وفد کے جوابی دورے میں نخچوان میں ایک ترک فوجی اڈے کے قیام اور آبشرون کے جزیرہ نما پر ایک اور اڈہ قائم کرنے کے حوالے سے بات ہوئی۔

آرمینیا اور ایران کے مابین قریبی تعاون کو دیکھیں تو آرمینیائی اس صورتِ حال سے خوفزدہ ہیں۔ تہران کے یریوان سے تعلقات کئی پڑوسی مسلم ملکوں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ نگورنو-قراباخ کے حوالے سے مذاکرات کے عمل میں ترکی کی شرکت کے امکانات پر آرمینیا میں خدشہ پایا جاتا ہے۔

انقرہ نے اپنی پوزیشن بالکل واضح طور پر پیش کی ہے کہ وہ "مقبوضہ علاقوں” کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنے "برادر ملک” آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ آذربائیجان اور آرمینیا میں پچھلی صدی سے نگورنو-قراباخ کے حوالے سے کشیدگی چل رہی ہے، جو ایک آذربائیجانی علاقہ ہے، جس پر آرمینیا کا قبضہ ہے۔

1993ء میں پانچ سال کی جنگ کے بعد آرمینیا نے آذربائیجان کے اندر اس علاقے پر کنٹرول حاصل کیا، جو نگورنو-قراباخ اور آرمینیا کے درمیان واقع ہے، تقریباً 8,000 مربع کلومیٹرز کا علاقہ یعنی آذربائیجان کا تقریباً 20 فیصد حصہ۔

ترکی آذربائیجان میں اڈہ بناتا ہے یا نہیں، لیکن یہ بات ذہن میں رکھیں کہ کچھ سال پہلے ترکی کا ملک سے باہر کوئی فوجی اڈہ نہیں تھا، سوائے ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے، لیکن آج صومالیہ، قطر، عراق اور شام میں ترک فوجی اڈے موجود ہیں۔

تبصرے
Loading...