بحیرہ روم میں دو طرفہ جیت کا حل، ترکی اور یونان کے مابین مذاکرات ہیں، رجب طیب ایردوان

0 1,723

مشرقی بحیرہ روم میں تناؤ کے خاتمے کے لئے مشترکہ اور موثر حل کے تلاش کیلئے انقرہ کی طرف سے متعدد اعلی سطحی رابطوں کے باوجود، ایتھنز اور پیرس؛ ترکی، ترک قبرص اور لیبیا کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں دو طرفہ جیت کا حل، ترکی اور یونان کے درمیان بات چیت ہے۔ ایک دوسرے سے متضاد میری ٹائم معاہدوں کی وجہ سے تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

انقرہ میں حکمران جماعت انصاف اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کی 19 ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے مشرقی بحیرہ روم میں یونان اور فرانس کے ساتھ کشیدگی پر اظہار خیال کیا۔ صدر ایردوان نے کہا کہ یونانی قبرص کی انتظامیہ اور یونان؛ ترکی اور ترک قبرص کو نظرانداز کرکے خطے میں تناؤ میں اضافہ کررہے ہیں۔

انہوں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ یونان کے اقدامات کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا، "ایجیئن اور بحیرہ روم میں یونان کا مؤقف متصادم ہے،” انہوں نے بحیرہ ایجیئن میں سب سے چھوٹے یونانی جزیروں میں ایک اور ترک سرحد سے صرف 2 کلومیٹر (1.25 میل) دور جزیرے کاسٹیلوریزو (میگسٹی میئس) پر یونان کی سمندری حدود ہونے دعوؤں پر تنقید کی)۔

انہوں نے واضع کیا کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کے اقدامات پوری طرح بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ترکی نے مشرقی بحیرہ روم میں لیبیا کے ساتھ دستخط کیے گئے میمورنڈم کے بعد ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے جائز اقدامات کے سوا کچھ نہیں کیا ہے،” انہوں نے کہا کہ ترکی خطے میں کسی بھی ملک کے حقوق پامال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے، لیکن وہ دوسروں کو بھی اپنے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنے دے گا۔

صدر ایردوان نے اسی دن مشرقی بحیرہ روم میں ہونے والی پیشرفت کے علاوہ علاقائی امور پر جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ فون پر گفتگو کی، جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ترکی توقع کرتا ہے کہ خطے میں موجود مسائل کو بات چیت، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس مسئلے پر یورپی یونین کونسل کے صدر چارلس مائیکل سے الگ فون کال میں گفتگو کریں گے۔

ترکی نے قومی ہائیڈرو کاربن سروے کرنے کی سرگرمیوں کے تسلسل میں، 10 اگست 2020ء کو ایک نیویگیشنل ٹیلی ٹیکس (نيوٹیکس) جاری کیا تھا، جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ اس کا اورچ رئیس، مشرقی بحیرہ روم میں تازہ تحقیقات کرنا شروع کر رہا ہے۔

ترکی کا یہ فیصلہ یونان اور مصر کے مابین متنازعہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جب ترکی نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ جرمنی کی ثالثی کی کوششوں کے بعد خطے میں اپنی سرگرمیاں، خیر سگالی کی علامت کے طور پر ملتوی کردے گا۔

ترکی نے یونان اور مصر کے اس معاہدہ میں ترکی ، لیبیا اور ترک قبرص کے حقوق کے غضب ہونے پر تنقید کرتے ہوئے اس معاہدے کو عملی طور پر "کالعدم” قرار دینے کے لیے اورچ ریئس کو ترکی کی سمندری حدود میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بحری جہاز 23 اگست تک مشرقی بحیرہ روم میں دیگر دو بحری جہازوں چنگیز خان اور آتامان کے ساتھ اپنی تحقیقاتی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔

مشرقی بحیرہ روم میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے اس اعلان نے یونان میں خطرے کی گھنٹی بجا دی جب ایتھنز نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اپنی بحریہ کو ہائی الرٹ کردیا۔ یونان کے وزیر خارجہ نیکوس ڈینڈیاس نے صدر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے بعد ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "رات 11 بجے تک یونانی سمندری حدود کو فوری طور پر چھوڑ دے”۔ انہوں نے کہا کہ ایتھنز نے اس معاملے پر تبادلہ خیال کے لئے یورپی یونین کی خارجہ امور کونسل کے ہنگامی اجلاس کی درخواست بھی کی تھی۔

فرانس نے مشرقی بحیرہ روم میں فوج اتار دی

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر کڑی تنقید کی، انہوں نے کہا کہ، "میکرون اور ان جیسے دوسرے لوگ خطے میں اپنے اقدامات کے ذریعے نوآبادیاتی دور واپس لانا چاہتے ہیں۔ یہ ترکی کی سرگرمیوں سے بہت متضاد مقاصد ہیں”۔

فرانس نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ حال ہی میں دریافت ہونے والے گیس کے ذخائر پر اپنے پڑوسیوں یونان اور ترکی کے مابین کشیدگی کے پر مشرقی بحیرہ روم میں اپنی فوج کو "عارضی طور پر اتار” رہا ہے۔

فرانس کے بیانات کے بعد، یونان کے وزیر اعظم کریاکوس نے جمعرات کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں فرانس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیرس "یونان کا ایک حقیقی دوست ہے اور وہ یورپی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کا پرجوش محافظ ہے۔”

تبصرے
Loading...